Main Icon

باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1269

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ الله ُعَنْهَا اَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْاَ وَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ تَعَالٰی ثُمَّ اعْتَكَفَ اَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ.

عن عائشة رضى الله عنها ان النبى صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الا واخر من رمضان حتى توفاه الله تعالی ثم اعتكف ازواجه من بعده.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”حضورنبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموفاتِ ظاہری تک رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے رہے پھر اس کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات بھی اعتکاف فرماتی رہیں۔“

شرح حدیث

اُمہاتُ المومنین نے گھروں میں اعتکاف کیا:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:” اس ہمیشگی سے معلوم ہوا کہ اعتکاف سنتِ مؤکدہ ہے اور چونکہ حضورِ انورصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنے اس کا حکم اُمَّت کو صراحۃً نہ دیا بلکہ رغبت دی معلوم ہوا کہ یہ اعتکاف واجب نہیں کیونکہ وجوب کے لیے حکم دینا ضروری ہے،لہٰذا یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ رمضان کا اعتکاف سنتِ مؤکدہ ہے،پھر سارے مدینۂ منورہ میں صرف حضورِانورصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاور بعض صحابہ ہی اعتکاف کرتے تھے سب مسلمان نہ کرتے تھے، معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔ حضورِ انورصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَکی وفات کے بعد آپ کی ازواج پاک نے ہمیشہ اپنے گھروں میں اعتکاف کیا نہ کہ مسجد نبوی شریف میں، مسجد میں تو ایک بار ان بیویوں نے اعتکاف کیا تھا،اعتکاف کے لیے کپڑے کے خیمے لگائے تھے جو حضورِ انورصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنے اکھڑوادیئے تھے۔“عورت کومسجد میں اعتکاف کرنامکروہ ہے:صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” عورت کومسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اُس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں اور عورت کے لیے یہ مستحب بھی ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ مقرر کر لے اور چاہیے کہ اس جگہ کو پاک صاف رکھے اور بہتر یہ کہ اس جگہ کو چبوترہ وغیرہ کی طرح بلند کرلے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1269