Main Icon

باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1270

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ في كُلِّ رَمَضَانَ عَشْرَةَ اَيَّامٍ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيْهِ اعْتَكَفَ عِشْرِيْنَ يَوْمًا.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف في كل رمضان عشرة ايام فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوما.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”حضورنبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتےوصال کے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔“

شرح حدیث

بیس روز اعتکاف فرمانے کی وجہ:شارح بخاری علّامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”سرورِ کائناتصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےوفات پانے کے سال بیس روز اعتکاف اس لئے کیا کہ آپ کو معلوم تھا کہ آپ اس سال وفات پائیں گے اس لئے نیک عمل کا اضافہ کیا تاکہ آپ کی امت آخر عمر میں نیک عمل کرنے میں کوشش کرے اور اچھے اعمال کی صورت میںاﷲتعالیٰ سے ملاقات کریں ۔بعض علما کہتے ہیں کہ ان بیس دنوں میں جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامآپ سے قرآن کا دور کرتے رہے اس لئے آپ اعتکاف میں رہے ۔ابن عربی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِی) نے کہا :آپ(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے آخری عشرہ میں اعتکاف چھوڑ دیا تھا کیونکہ آپ کی بیبیوں نے مسجد میں اعتکاف کے لئے خیمے نصب کرلئے تھے ۔اس لئے آپ نےشوال میں اس کا بدل دس دن اعتکاف کیا پھر اس کے بعد والے رمضان میں بیس دن اعتکاف کیا تاکہ دس دن کی قضا رمضان میں پوری ہو ۔بعض علما کا یہ کہنا ہےکہ اس سے پہلے رمضان میں آپ مسافر تھے اس لئے اعتکاف نہ کر سکے تھے پھر دوسرے رمضان میں اس کی قضا کی ۔ابنِ بطال مالکیرَحِمَہُ اﷲ ُتَعَالٰینے کہا:سید عالَمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا اعتکاف پر ہمیشگی کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ اعتکاف سنتِ مؤکدہ ہے ۔ابنِ منذررَحِمَہُ اﷲ ُتَعَالٰینے کہا:عطاء خراسانی نے روایت کی کہ وہ کہتے تھے معتکف کی مثال اس غلام جیسی ہے جو اپنے آپ کو اپنے مالک کے آگے ڈال دے پھر یہ کہےمیں یہاں سےہرگز نہیں جاؤں گا حتّٰی کہ وہ مجھے معاف کردے اور میرا گناہ بخش دے۔“اعتکاف کی تاکید:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے“اس میں دلیل ہے کہ اعتکاف کرنا سنتِ مؤکدہ ہے کیونکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس پر ہمیشگی فرمائی لہٰذا مسلمانوں کو اعتکاف کرنے میں اپنے پیارے نبیصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتدا کرنی چاہیے ۔حضرت سَیِّدُناابنِ شہاب زہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے فرمایا:”مجھے مسلمانوں پر تعجب ہوتا ہے کہ انہوں نے اعتکاف ترک کردیا حالانکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مدینۂ منورہ میں تشریف لانے کے بعدکبھی اعتکاف ترک نہ فرمایا ۔“اعتکاف کے فضائل پر 4فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)”جس نے رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا وہ ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کئے۔“
(2)’’معتکف گناہوں سے باز رہتا ہے اور نیکیوں سے اُسے اس قدر ثواب ملتا ہے جیسے اُس نے تمام نیکیاں کیں۔“
(3)”جس نے ایمان کےساتھ ثواب حاصل کرنے کی نیَّت سے اعتِکاف کیا اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔“
(4)”جو
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رضا وخوشنودی کیلئے ایک دن کا اعتِکاف کرے گااﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے اورجہنّم کے درمیان تین خَندَقیں حائل فرما دے گاجن کی مَسافَت مشرِق ومغرِب کے فاصلے سے بھی زیادہ ہوگی۔“مدنی گلدستہ’’رمضان‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم ص
َلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مدینہ منورہ میں تشریف آوری کےبعد کبھی اعتکاف ترک نہ فرمایا۔
(2)
رَمَضانُ الْمُبارَکمیں اِعْتِکاف کرنے کا سب سے بڑا مقصد شبِ قَدر کی تلاش ہے اور شبِ قَدر رَمَضانُ المبارَک کے آخِری دس۱۰ دنوں کی طاق راتوں میں ہے ۔
(3) اعتکاف کے لئے بالغ ہونا شرط نہیں نابالغ بھی جو تمیز رکھتا ہے اگر بہ نیّتِ اعتِکاف مسجِد میں ٹھہرے تواُس کا اعتِکاف صحیح ہے۔
(4) رمضان کا اعتکاف سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے کہ اگر بستی میں کسی نے نہ کیا تو سب سنت کے تارک ہوئے اگر ایک نے بھی کرلیا تو سب کی طرف سے ادا ہوگیا۔
(5) عورت کومسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اُس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1270