Main Icon

قول و فعل میں تضاد والے کا انجام - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 198

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِیْ زَیْدٍ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ اَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُوْرُ بِهَا كَمَا يَدُوْرُ الْحِمَارُ فِی الرَّحَا فَيَجْتَمِعُ اِلَيْهِ اَهْلُ النَّارِ فَيَقُوْلُوْنَ يَا فُلَانُ مَا لَكَ؟ اَلَمْ تَكُ تَاْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ فَيَقُولُ : بَلٰى كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيْهِ وَاَنْهٰى عَنْ الْمُنْكَرِ وَآتِيْهِ.( )

وعن ابی زید اسامۃ بن زید بن حارثۃ رضی اللہ عنہما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يؤتى بالرجل يوم القيامة فيلقى في النار فتندلق اقتاب بطنه فيدور بها كما يدور الحمار فی الرحا فيجتمع اليه اهل النار فيقولون يا فلان ما لك؟ الم تك تامر بالمعروف وتنهى عن المنكر؟ فيقول : بلى كنت آمر بالمعروف ولا آتيه وانهى عن المنكر وآتيه.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو زید اُسامہ بن زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ : ’’قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گااور جہنم میں ڈال دیا جا ئے گا ، اس کی آنتیں پیٹ سے باہر نکل پڑیں گی ، وہ ان آنتوں کے ساتھ اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے۔ تمام دوزخی اس کے پاس جمع ہوں گے اور کہیں گے : اے فلاں !تجھے کیا ہوا؟ کیا تو بھلائی کا حکم نہ دیتا تھا اور برائی سے منع نہ کرتا تھا؟ تو وہ کہے گا : ہاں! میں دوسروں کو تو بھلائی کا حکم دیتا تھا لیکن خود اس پر عمل نہ کرتا تھا اور دوسروں کو تو برائی سے منع کرتا تھا لیکن خود اس برائی سے نہ بچتا تھا۔ ‘‘

شرح حدیث

بے عمل بھی نیکی کا حکم دے سکتا ہے:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے مذکورہ حدیث پاک کے تحت دو اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں : (1)جو بھی نیکی کا حکم دینے پر قدرت رکھتا ہو اور اسے اپنی جان پر کسی قسم کا خوف نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ نیکی کا حکم دے خصوصاً جب کہ وہ خود بھی اس پر عمل کرتا ہو۔ البتہ اگر وہ خود عمل نہ کرتا ہو تب

بھی نیکی کا حکم دے کیونکہ اس صورت میں بھی اسے نیکی کا حکم دینے پر اجر ضرور ملے گا۔ باقی رہا اس کے عمل نہ کرنے یا گناہ میں مبتلا رہنے کا معاملہ تو وہ اس کا اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا معاملہ ہے ، چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو اس گناہ پر اس کا مؤاخذہ فرمائے۔ (2)نیکی کا حکم صرف وہی دے جو نیک ہو یا گنہگار بھی دے سکتا ہے؟ اس سلسلے میں دو قول ہیں : ایک قول تو یہ ہے کہ بہتر یہی ہے کہ نیکی کا حکم وہی دے جو خود بھی اس پر عمل کرتا ہو اور گنہگار نہ ہو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ گناہگار نیکی کا حکم نہیں دے سکتا۔ تو یہ قول درست نہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو جہاں کوئی بھی نیک بندہ نہ ہو وہاں تو نیکی کی دعوت کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا۔ ‘‘( )
اپنی اصلاح کی کوشش جاری رکھے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث شریف میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والا خود بھی با عمل ہو اور اگر وہ خود اچھے اعمال نہیں کرتا اور برائی سے اجتناب نہیں کرتا تو سزا کا مستحق ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ باعمل آدمی کی تبلیغ سے انکار کی گنجائش نہیں ہوتی اور یوں اس کا اپنا عمل دوسروں کے عمل کے لئے ترغیب و تحریص کا کام دیتا ہے ۔ لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اگر کوتاہی یا لاپرواہی کی وجہ سے مبلغ اعمالِ صالحہ سے کنارہ کشی رکھتا ہے یا نفس و شیطان کے دھوکے میں آکر برائی کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے امر بالمعروف (یعنی نیکی کا حکم دینے)اور نہی عن المنکر (یعنی برائی سے منع کرنے) کا فریضہ انجام دینے سے ہاتھ نہیں کھینچنا چاہیے بلکہ ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ ‘‘( )اجر کے لئے عمل ضروری ہے:حضرتِ سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن غنم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے دس صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے خبر دی کہ ہم مسجد قُبا میں علم حاصل کرنے میں مشغول تھے کہ پیارے آقا ، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ’’جو سیکھنا چاہتے ہو سیکھ لو ، لیکن یہ یاد رکھو کہ جب تک عمل نہیں کروگے اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اجر نہیں دے گا۔ ‘‘ ( )
اپنی اصلاح کی کوش ش نہ کرنے والوں کیلئے وعیدیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے منع کرنا بہت عظیم کام ہے ، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش بھی جاری وساری رکھنی چاہیے ، جولوگ فقط نیکی کی دعوت دیتے ہیں ، برائی سے منع کرتے ہیں مگر اپنی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے ایسے لوگوں کے لیے روایات میں بہت وعیدات بیان ہوئی ہیں۔ امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی نے احیاء العلوم میں کئی روایات بیان فرمائی ہیں ، 3روایات ملاحظہ کیجئے : (1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’معراج کی رات میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے۔ میں نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامسے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں؟انہوں نے کہا : یہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی امت کے وہ خطباء ہیں جونیکی کا حکم دیتے تھے لیکن خود اس پرعمل نہیں کرتے تھے ۔ ‘‘( )(2)امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’مجھے اس امت پر سب سے زیادہ خوف صاحب ِعلم منافق کا ہے۔ ‘‘ لوگوں نے عرض کی : ’’صاحب علم منافق کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘فرمایا : ’’اس طرح کہ زبان کا عالِم ہو گا (کہ دوسروں کو نیکی کی دعوت دے گااور برائی سے منع کرے گا) جبکہ دل اور عمل کا جاہل(یعنی بے عمل )ہوگا۔ ( )(3)حضرت سیدنا عیسیٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : ’’وہ شخص اہل علم میں سے کیسے ہو سکتا ہے ؟جس کا سفر آخرت کی طرف ہو جبکہ وہ دنیا کے راستوں کی طرف متوجہ ہو اور اس کا شمار علماء میں کیسے ہوسکتا ہے ؟جو اس لئے علم نہیں سیکھتا کہ اس پر عمل کرے بلکہ فقط دوسروں کو بتانے

کے لئے علم حاصل کرتا ہے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’صالحین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا ایک عظیم کام ہے ، مگر مبلغ کو چاہیے کہ وہ دیگر لوگوں کو نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی بھی کوشش کرتا رہے۔
(2)ایسے بے عمل مبلغ یا واعظ کے لیے احادیث میں بہت وعیدات بیان ہوئی ہیں جو دوسروں کو تو نصیحت کی بات کرتا ہے لیکن اپنی ذات کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتا ۔
(3)کل بروزِ قیامت بے عمل مبلغ کو سب سے زیادہ حسرت ہوگی۔
(4)یہ ضروری نہیں کہ بے عمل شخص دوسروں کو نیکی کی دعوت نہیں دے سکتا ، یا برائی سے منع نہیں کر سکتا ، لیکن ہونا یہ چاہیے کہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش بھی جاری رکھے۔
(5)قول وفعل میں تضاد ہونا منافقین کا طریقہ کار ہے ، لہذا جو بات ہم کسی دوسرے کو کہیں ہمارا اپنا فعل اس کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔
(6)حصولِ علمِ دِین بہت بڑی سعادت ہے مگر علم وہی مفید ہوتا ہے جس پر عمل کیا جائے ، نیز حقیقی عالم بھی وہی ہے جو اپنے علم پر عمل کرتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکی کی دعوت دینےاور بُرائی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش کرنےکی بھی توفیق عطا فرمائے ، ہمارا قول وفعل ایک جیسا کردے ، ہمیں علم دین حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 198