- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- حدیث نمبر 198
قول و فعل میں تضاد والے کا انجام - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 198
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اَبِیْ زَیْدٍ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ اَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُوْرُ بِهَا كَمَا يَدُوْرُ الْحِمَارُ فِی الرَّحَا فَيَجْتَمِعُ اِلَيْهِ اَهْلُ النَّارِ فَيَقُوْلُوْنَ يَا فُلَانُ مَا لَكَ؟ اَلَمْ تَكُ تَاْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ فَيَقُولُ : بَلٰى كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيْهِ وَاَنْهٰى عَنْ الْمُنْكَرِ وَآتِيْهِ.( )
وعن ابی زید اسامۃ بن زید بن حارثۃ رضی اللہ عنہما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يؤتى بالرجل يوم القيامة فيلقى في النار فتندلق اقتاب بطنه فيدور بها كما يدور الحمار فی الرحا فيجتمع اليه اهل النار فيقولون يا فلان ما لك؟ الم تك تامر بالمعروف وتنهى عن المنكر؟ فيقول : بلى كنت آمر بالمعروف ولا آتيه وانهى عن المنكر وآتيه.( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو زید اُسامہ بن زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ : ’’قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گااور جہنم میں ڈال دیا جا ئے گا ، اس کی آنتیں پیٹ سے باہر نکل پڑیں گی ، وہ ان آنتوں کے ساتھ اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے۔ تمام دوزخی اس کے پاس جمع ہوں گے اور کہیں گے : اے فلاں !تجھے کیا ہوا؟ کیا تو بھلائی کا حکم نہ دیتا تھا اور برائی سے منع نہ کرتا تھا؟ تو وہ کہے گا : ہاں! میں دوسروں کو تو بھلائی کا حکم دیتا تھا لیکن خود اس پر عمل نہ کرتا تھا اور دوسروں کو تو برائی سے منع کرتا تھا لیکن خود اس برائی سے نہ بچتا تھا۔ ‘‘
شرح حدیث
بے عمل بھی نیکی کا حکم دے سکتا ہے:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے مذکورہ حدیث پاک کے تحت دو اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں : (1)جو بھی نیکی کا حکم دینے پر قدرت رکھتا ہو اور اسے اپنی جان پر کسی قسم کا خوف نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ نیکی کا حکم دے خصوصاً جب کہ وہ خود بھی اس پر عمل کرتا ہو۔ البتہ اگر وہ خود عمل نہ کرتا ہو تب
بھی نیکی کا حکم دے کیونکہ اس صورت میں بھی اسے نیکی کا حکم دینے پر اجر ضرور ملے گا۔ باقی رہا اس کے عمل نہ کرنے یا گناہ میں مبتلا رہنے کا معاملہ تو وہ اس کا اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا معاملہ ہے ، چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو اس گناہ پر اس کا مؤاخذہ فرمائے۔ (2)نیکی کا حکم صرف وہی دے جو نیک ہو یا گنہگار بھی دے سکتا ہے؟ اس سلسلے میں دو قول ہیں : ایک قول تو یہ ہے کہ بہتر یہی ہے کہ نیکی کا حکم وہی دے جو خود بھی اس پر عمل کرتا ہو اور گنہگار نہ ہو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ گناہگار نیکی کا حکم نہیں دے سکتا۔ تو یہ قول درست نہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو جہاں کوئی بھی نیک بندہ نہ ہو وہاں تو نیکی کی دعوت کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا۔ ‘‘( )اپنی اصلاح کی کوشش جاری رکھے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث شریف میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والا خود بھی با عمل ہو اور اگر وہ خود اچھے اعمال نہیں کرتا اور برائی سے اجتناب نہیں کرتا تو سزا کا مستحق ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ باعمل آدمی کی تبلیغ سے انکار کی گنجائش نہیں ہوتی اور یوں اس کا اپنا عمل دوسروں کے عمل کے لئے ترغیب و تحریص کا کام دیتا ہے ۔ لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اگر کوتاہی یا لاپرواہی کی وجہ سے مبلغ اعمالِ صالحہ سے کنارہ کشی رکھتا ہے یا نفس و شیطان کے دھوکے میں آکر برائی کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے امر بالمعروف (یعنی نیکی کا حکم دینے)اور نہی عن المنکر (یعنی برائی سے منع کرنے) کا فریضہ انجام دینے سے ہاتھ نہیں کھینچنا چاہیے بلکہ ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ ‘‘( )اجر کے لئے عمل ضروری ہے:حضرتِ سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن غنم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے دس صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے خبر دی کہ ہم مسجد قُبا میں علم حاصل کرنے میں مشغول تھے کہ پیارے آقا ، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ’’جو سیکھنا چاہتے ہو سیکھ لو ، لیکن یہ یاد رکھو کہ جب تک عمل نہیں کروگے اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اجر نہیں دے گا۔ ‘‘ ( )اپنی اصلاح کی کوش ش نہ کرنے والوں کیلئے وعیدیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے منع کرنا بہت عظیم کام ہے ، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش بھی جاری وساری رکھنی چاہیے ، جولوگ فقط نیکی کی دعوت دیتے ہیں ، برائی سے منع کرتے ہیں مگر اپنی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے ایسے لوگوں کے لیے روایات میں بہت وعیدات بیان ہوئی ہیں۔ امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی نے احیاء العلوم میں کئی روایات بیان فرمائی ہیں ، 3روایات ملاحظہ کیجئے : (1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’معراج کی رات میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے۔ میں نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامسے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں؟انہوں نے کہا : یہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی امت کے وہ خطباء ہیں جونیکی کا حکم دیتے تھے لیکن خود اس پرعمل نہیں کرتے تھے ۔ ‘‘( )(2)امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’مجھے اس امت پر سب سے زیادہ خوف صاحب ِعلم منافق کا ہے۔ ‘‘ لوگوں نے عرض کی : ’’صاحب علم منافق کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘فرمایا : ’’اس طرح کہ زبان کا عالِم ہو گا (کہ دوسروں کو نیکی کی دعوت دے گااور برائی سے منع کرے گا) جبکہ دل اور عمل کا جاہل(یعنی بے عمل )ہوگا۔ ( )(3)حضرت سیدنا عیسیٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : ’’وہ شخص اہل علم میں سے کیسے ہو سکتا ہے ؟جس کا سفر آخرت کی طرف ہو جبکہ وہ دنیا کے راستوں کی طرف متوجہ ہو اور اس کا شمار علماء میں کیسے ہوسکتا ہے ؟جو اس لئے علم نہیں سیکھتا کہ اس پر عمل کرے بلکہ فقط دوسروں کو بتانے
کے لئے علم حاصل کرتا ہے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’صالحین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول(1)نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا ایک عظیم کام ہے ، مگر مبلغ کو چاہیے کہ وہ دیگر لوگوں کو نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی بھی کوشش کرتا رہے۔
(2)ایسے بے عمل مبلغ یا واعظ کے لیے احادیث میں بہت وعیدات بیان ہوئی ہیں جو دوسروں کو تو نصیحت کی بات کرتا ہے لیکن اپنی ذات کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتا ۔
(3)کل بروزِ قیامت بے عمل مبلغ کو سب سے زیادہ حسرت ہوگی۔
(4)یہ ضروری نہیں کہ بے عمل شخص دوسروں کو نیکی کی دعوت نہیں دے سکتا ، یا برائی سے منع نہیں کر سکتا ، لیکن ہونا یہ چاہیے کہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش بھی جاری رکھے۔
(5)قول وفعل میں تضاد ہونا منافقین کا طریقہ کار ہے ، لہذا جو بات ہم کسی دوسرے کو کہیں ہمارا اپنا فعل اس کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔
(6)حصولِ علمِ دِین بہت بڑی سعادت ہے مگر علم وہی مفید ہوتا ہے جس پر عمل کیا جائے ، نیز حقیقی عالم بھی وہی ہے جو اپنے علم پر عمل کرتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکی کی دعوت دینےاور بُرائی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش کرنےکی بھی توفیق عطا فرمائے ، ہمارا قول وفعل ایک جیسا کردے ، ہمیں علم دین حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 198