قول و فعل میں تضاد والے کا انجام

فیضان ریاض الصالحین جلد 3

حضرتِ سَیِّدُنا ابو زید اُسامہ بن زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ : ’’قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گااور جہنم میں ڈال دیا جا ئے گا ، اس کی آنتیں پیٹ سے باہر نکل پڑیں گی ، وہ ان آنتوں کے ساتھ اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے۔ تمام دوزخی اس کے پاس جمع ہوں گے اور کہیں گے : اے فلاں !تجھے کیا ہوا؟ کیا تو بھلائی کا حکم نہ دیتا تھا اور برائی سے منع نہ کرتا تھا؟ تو وہ کہے گا : ہاں! میں دوسروں کو تو بھلائی کا حکم دیتا تھا لیکن خود اس پر عمل نہ کرتا تھا اور دوسروں کو تو برائی سے منع کرتا تھا لیکن خود اس برائی سے نہ بچتا تھا۔ ‘‘

وَعَنْ اَبِیْ زَیْدٍ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ اَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُوْرُ بِهَا كَمَا يَدُوْرُ الْحِمَارُ فِی الرَّحَا فَيَجْتَمِعُ اِلَيْهِ اَهْلُ النَّارِ فَيَقُوْلُوْنَ يَا فُلَانُ مَا لَكَ؟ اَلَمْ تَكُ تَاْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ فَيَقُولُ : بَلٰى كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيْهِ وَاَنْهٰى عَنْ الْمُنْكَرِ وَآتِيْهِ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 198 ، قول و فعل میں تضاد والے کا انجام