Main Icon

باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1139

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَوْصَانِيْ خَلِيْلِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِ ثَلاَ ثَةِ اَ يَّامٍ مِّنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَاَنْ اُوْتِـرَ قَبْلَ اَنْ اَرْقُدَ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: اوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بصيام ثلا ثة ا يام من كل شهر وركعتي الضحى وان اوتـر قبل ان ارقد.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میرے خلیلصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے ،چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی نصیحت کی۔“

شرح حدیث

سونے سے پہلے وترپڑھنا:اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’جسے رات کے آخری حصے میں جاگنے پر اعتماد نہ ہو اسے سونے سے پہلے وتر پڑھنا مستحب ہے اور جسے رات کے آخری حصے میں جاگنے پر اعتماد ہو اسے رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنا مستحب ہے۔‘‘خلیل کا معنٰی:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”میرے خلیل سے مرادحضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں اور یہ اس کے خلاف نہیں کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا“کیونکہ ممانعت اِس بات کی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کو خلیل بنائیں اور اگر کوئی نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خلیل بنائے تو اس کی ممانعت نہیں۔خلیل کا معنیٰ ہے کہ ایسا گہرا دوست جس کی محبت دل میں پہنچےاور باطن میں رَچ بَس جائے۔“ہر مہینے تین دن کے روزے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”شروع مہینہ میں ایک روزہ،درمیان میں ایک،آخرمیں ایک،یا ہرعشرہ کے شروع میں ایک روزہ یا ہرمہینہ کی تیرھویں چودھویں پندرھویں کے روزے تیسرااحتمال زیادہ قوی ہے۔“عمدۃ القاری میں ہے:”ہر مہینے تین دن روزے رکھنے میں حکمت یہ ہے کہ نفس کو روزے رکھنے کا عادی بنایا جائے اور چاشت کی نماز میں حکمت یہ ہے کہ نفس کو نماز کا عادی بنایا جائے۔سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی نصیحت میں یہ اشارہ ہے کہ وترواجب ہیں اور ان کا وقت رات ہے اور یہ وقت غفلت، نیند، سُستی، راحت وآرام طلبی کا ہے۔حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو اِن نصیحتوں کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفقراصحابہ میں سے تھے،مال ودولت نہ رکھتے تھےاورنمازوروزہ بہترین بدنی عبادت ہے جو اِن کے لائق تھی اِسی لئےاِن کو یہ نصیحت فرمائی۔“صلاۃِ ضحٰی(نمازِچاشت):شیخِ محقق علامہ عبدُالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:ضُحٰیضادکے پیش اور الف مقصورہ کے ساتھ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں اور یہ سورج کی روشنی کے معنیٰ میں بھی آتا ہے جیساکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکےاِس فرمان میں ہے:﴿ وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَاﭪ(۱)﴾(پ۳۰،الشمس:۱)ترجمۂ کنزالایمان:”سورج اور اس کی روشنی کی قسم۔“αطلوعِ آفتاب کے بعد لوگوں میں دو نمازیں مُتعارف ہیں۔ایک نمازسورج کے ایک دونیزہ بلند ہونے کے وقت پڑھی جاتی ہےاسے نمازِ اشراق کہتے ہیں اوردوسری چوتھائی دن کے وقت دوپہر سے کچھ پہلے پڑھی جاتی ہےاسے نمازِ چاشت کہتے ہیں۔بہت سی احادیث میں صلاۃِ ضحیٰ کا نام دونوں نمازوں کے لئے آیا ہے جبکہ ایک روایت میں صلاۃِ ضحیٰ کا اِطلاق نمازِ اشراق پر آیا ہے جیساکہ امام سیوطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے طبرانی سے نقل کیا کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت اُمِّ ہانیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے فرمایا: ”اے اُمِّ ہانی!یہ نماز اشراق ہے۔“حالانکہ جو نما ز آپ نے حضرت اُمِّ ہانیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر پڑھی تھی وہ نمازِ چاشت تھی۔امام بیضاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے قول ”بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاق“کی تفسیر میں فرمایا:”وقتِ اشراق وہ وقت ہے کہ آفتاب روشن ہوجائے اور اس کی شُعاع صاف ہوجائے اور وہ چاشت کا وقت ہے۔“مختصر یہ کہ دن کے پہلے حصے میں جو نماز پڑھی جاتی ہے اس پر اور جو نماز دن کا چوتھا حصہ گزرنے پر پڑھی جاتی ہے اس پر نمازِ اشراق کا اطلاق آیا ہے۔پس دونوں نمازوں کو صلاۃِ ضحیٰ اور صلاۃِ اشراق کہہ سکتے ہیں۔مُتعارف وہ ہے جو بیان کیا گیا۔حقیقت میں ایک ہی وقت ہے کہ اس کے اَوَّل میں ایک نماز اور اس کے آخر میں دوپہر سے کچھ پہلے دوسری نماز (چاشت)پڑھی جاتی ہے اور جبکہ بعض دفعہ دونوں وقتوں میں یہ نماز پڑھی گئی ہے۔اس سے گمان کرلیا گیا کہ یہاں دو وقت ہیں اور دو نمازیں ۔نمازِ چاشت میں بہت سی اَحادیث اور آثار آئے ہیں ۔اکثر علما اس نماز کو مستحب قرار دیتے ہیں۔پسندیدہ اور مختار قول یہی ہے ۔کتاب مواہبِ لدنیہ میں ہے کہ علامہ شیخ ولیُّ الدِّین ابنِ عراقیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے کہا ہےصلاۃِ ضحیٰ میں بہت سی احادیثِ صحیحہ مشہورہ آئی ہیں حتّٰی کہ امام محمد بن جریر طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے کہا:اس بارے میں وارد شدہ احادیث تواتُرِ مَعنوی اور درجۂ یقین کو پہنچ چکی ہیں۔علامہ قاضی ابوبکر ابنِ عربی مالکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے کہاکہ یہ انبیا ومرسلینعَلَیْہِمُ السَّلَامکی نماز ہے۔امام جلال الدین سیوطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینےدیلمی سے مرفوع روایت نقل کی کہ ”صلاۃِ ضحیٰ اکثر وبیشتر حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکی نماز ہے۔“ابنِ نجار سے حضرت سَیِّدُنا ثوبانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت ہے کہ ”صلاۃِ ضحیٰ وہ نماز ہے جسے حضرتِ آدم ،حضرتِ نوح،حضرتِ ابراہیم،حضرتِ موسیٰ اور حضرتِ عیسٰیعَلَیْہِمُ السَّلَامہمیشہ پڑھتے تھے۔“علم دِین میں مشغولیت افضل ہے:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا کہنا اس وجہ سے تھا کہ حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاَوَّل شب میں اَحادیث یاد کرتے اور جو کچھ انہوں نے دوسرے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے سنا ہوتا تھا اسے ذہن نشین کرنے میں مصروف رہتے ۔اس کام میں رات کا کافی حصہ گزرجاتا تھا جس کی وجہ سےآپ کے لئے رات کے آخری حصے میں اٹھنا مشکل ہوتا اسی لئے آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا کہا گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر عبادات کی نسبت علمِ دِین میں مشغول رہنا زیادہ فضیلت والا کام ہے۔“مدنی گلدستہ’’عُلَمَا‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ایسا گہرا دوست جس کی محبت دل میں پہنچ جائے اورباطن میں رچ بس جائے اسے خلیل کہتے ہیں۔
(2) صلاۃِ ضحیٰ وہ نماز ہے جسے حضرتِ آدم ،حضرتِ نوح،حضرتِ ابراہیم،حضرتِ موسیٰ اور حضرتِ عیسٰی
عَلَیْہِمُ السَّلَامہمیشہ پڑھتے تھے۔
(3) روزہ اور نماز افضل بدنی عبادات میں سے ہیں۔
(4) عِلمِ دِین میں مشغولیت دیگر عبادات کی نسبت زیادہ فضیلت والا کام ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر مہینے تین روزے رکھنے اور روزانہ اِشراق وچاشت کی نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1139