- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1139
باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1139
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَوْصَانِيْ خَلِيْلِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِ ثَلاَ ثَةِ اَ يَّامٍ مِّنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَاَنْ اُوْتِـرَ قَبْلَ اَنْ اَرْقُدَ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: اوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بصيام ثلا ثة ا يام من كل شهر وركعتي الضحى وان اوتـر قبل ان ارقد.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میرے خلیلصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے ،چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی نصیحت کی۔“
شرح حدیث
سونے سے پہلے وترپڑھنا:اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’جسے رات کے آخری حصے میں جاگنے پر اعتماد نہ ہو اسے سونے سے پہلے وتر پڑھنا مستحب ہے اور جسے رات کے آخری حصے میں جاگنے پر اعتماد ہو اسے رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنا مستحب ہے۔‘‘خلیل کا معنٰی:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”میرے خلیل سے مرادحضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں اور یہ اس کے خلاف نہیں کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا“کیونکہ ممانعت اِس بات کی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کو خلیل بنائیں اور اگر کوئی نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خلیل بنائے تو اس کی ممانعت نہیں۔خلیل کا معنیٰ ہے کہ ایسا گہرا دوست جس کی محبت دل میں پہنچےاور باطن میں رَچ بَس جائے۔“ہر مہینے تین دن کے روزے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”شروع مہینہ میں ایک روزہ،درمیان میں ایک،آخرمیں ایک،یا ہرعشرہ کے شروع میں ایک روزہ یا ہرمہینہ کی تیرھویں چودھویں پندرھویں کے روزے تیسرااحتمال زیادہ قوی ہے۔“عمدۃ القاری میں ہے:”ہر مہینے تین دن روزے رکھنے میں حکمت یہ ہے کہ نفس کو روزے رکھنے کا عادی بنایا جائے اور چاشت کی نماز میں حکمت یہ ہے کہ نفس کو نماز کا عادی بنایا جائے۔سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی نصیحت میں یہ اشارہ ہے کہ وترواجب ہیں اور ان کا وقت رات ہے اور یہ وقت غفلت، نیند، سُستی، راحت وآرام طلبی کا ہے۔حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو اِن نصیحتوں کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفقراصحابہ میں سے تھے،مال ودولت نہ رکھتے تھےاورنمازوروزہ بہترین بدنی عبادت ہے جو اِن کے لائق تھی اِسی لئےاِن کو یہ نصیحت فرمائی۔“صلاۃِ ضحٰی(نمازِچاشت):شیخِ محقق علامہ عبدُالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:ضُحٰیضادکے پیش اور الف مقصورہ کے ساتھ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں اور یہ سورج کی روشنی کے معنیٰ میں بھی آتا ہے جیساکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکےاِس فرمان میں ہے:﴿ وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَاﭪ(۱)﴾(پ۳۰،الشمس:۱)ترجمۂ کنزالایمان:”سورج اور اس کی روشنی کی قسم۔“αطلوعِ آفتاب کے بعد لوگوں میں دو نمازیں مُتعارف ہیں۔ایک نمازسورج کے ایک دونیزہ بلند ہونے کے وقت پڑھی جاتی ہےاسے نمازِ اشراق کہتے ہیں اوردوسری چوتھائی دن کے وقت دوپہر سے کچھ پہلے پڑھی جاتی ہےاسے نمازِ چاشت کہتے ہیں۔بہت سی احادیث میں صلاۃِ ضحیٰ کا نام دونوں نمازوں کے لئے آیا ہے جبکہ ایک روایت میں صلاۃِ ضحیٰ کا اِطلاق نمازِ اشراق پر آیا ہے جیساکہ امام سیوطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے طبرانی سے نقل کیا کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت اُمِّ ہانیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے فرمایا: ”اے اُمِّ ہانی!یہ نماز اشراق ہے۔“حالانکہ جو نما ز آپ نے حضرت اُمِّ ہانیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر پڑھی تھی وہ نمازِ چاشت تھی۔امام بیضاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے قول ”بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاق“کی تفسیر میں فرمایا:”وقتِ اشراق وہ وقت ہے کہ آفتاب روشن ہوجائے اور اس کی شُعاع صاف ہوجائے اور وہ چاشت کا وقت ہے۔“مختصر یہ کہ دن کے پہلے حصے میں جو نماز پڑھی جاتی ہے اس پر اور جو نماز دن کا چوتھا حصہ گزرنے پر پڑھی جاتی ہے اس پر نمازِ اشراق کا اطلاق آیا ہے۔پس دونوں نمازوں کو صلاۃِ ضحیٰ اور صلاۃِ اشراق کہہ سکتے ہیں۔مُتعارف وہ ہے جو بیان کیا گیا۔حقیقت میں ایک ہی وقت ہے کہ اس کے اَوَّل میں ایک نماز اور اس کے آخر میں دوپہر سے کچھ پہلے دوسری نماز (چاشت)پڑھی جاتی ہے اور جبکہ بعض دفعہ دونوں وقتوں میں یہ نماز پڑھی گئی ہے۔اس سے گمان کرلیا گیا کہ یہاں دو وقت ہیں اور دو نمازیں ۔نمازِ چاشت میں بہت سی اَحادیث اور آثار آئے ہیں ۔اکثر علما اس نماز کو مستحب قرار دیتے ہیں۔پسندیدہ اور مختار قول یہی ہے ۔کتاب مواہبِ لدنیہ میں ہے کہ علامہ شیخ ولیُّ الدِّین ابنِ عراقیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے کہا ہےصلاۃِ ضحیٰ میں بہت سی احادیثِ صحیحہ مشہورہ آئی ہیں حتّٰی کہ امام محمد بن جریر طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے کہا:اس بارے میں وارد شدہ احادیث تواتُرِ مَعنوی اور درجۂ یقین کو پہنچ چکی ہیں۔علامہ قاضی ابوبکر ابنِ عربی مالکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے کہاکہ یہ انبیا ومرسلینعَلَیْہِمُ السَّلَامکی نماز ہے۔امام جلال الدین سیوطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینےدیلمی سے مرفوع روایت نقل کی کہ ”صلاۃِ ضحیٰ اکثر وبیشتر حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکی نماز ہے۔“ابنِ نجار سے حضرت سَیِّدُنا ثوبانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت ہے کہ ”صلاۃِ ضحیٰ وہ نماز ہے جسے حضرتِ آدم ،حضرتِ نوح،حضرتِ ابراہیم،حضرتِ موسیٰ اور حضرتِ عیسٰیعَلَیْہِمُ السَّلَامہمیشہ پڑھتے تھے۔“علم دِین میں مشغولیت افضل ہے:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا کہنا اس وجہ سے تھا کہ حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاَوَّل شب میں اَحادیث یاد کرتے اور جو کچھ انہوں نے دوسرے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے سنا ہوتا تھا اسے ذہن نشین کرنے میں مصروف رہتے ۔اس کام میں رات کا کافی حصہ گزرجاتا تھا جس کی وجہ سےآپ کے لئے رات کے آخری حصے میں اٹھنا مشکل ہوتا اسی لئے آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا کہا گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر عبادات کی نسبت علمِ دِین میں مشغول رہنا زیادہ فضیلت والا کام ہے۔“مدنی گلدستہ’’عُلَمَا‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ایسا گہرا دوست جس کی محبت دل میں پہنچ جائے اورباطن میں رچ بس جائے اسے خلیل کہتے ہیں۔
(2) صلاۃِ ضحیٰ وہ نماز ہے جسے حضرتِ آدم ،حضرتِ نوح،حضرتِ ابراہیم،حضرتِ موسیٰ اور حضرتِ عیسٰیعَلَیْہِمُ السَّلَامہمیشہ پڑھتے تھے۔
(3) روزہ اور نماز افضل بدنی عبادات میں سے ہیں۔
(4) عِلمِ دِین میں مشغولیت دیگر عبادات کی نسبت زیادہ فضیلت والا کام ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر مہینے تین روزے رکھنے اور روزانہ اِشراق وچاشت کی نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1139