باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میرے خلیلصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے ،چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی نصیحت کی۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَوْصَانِيْ خَلِيْلِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِ ثَلاَ ثَةِ اَ يَّامٍ مِّنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَاَنْ اُوْتِـرَ قَبْلَ اَنْ اَرْقُدَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1139 ، باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ذررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے۔ ہر تسبیح یعنیسُبْحَانَ اللّٰہکہنا صدقہ ہے، ہر حمد یعنیاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہنا صدقہ ہے ،ہر تہلیل یعنیلَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہکہنا صدقہ ہے اور ہرتکبیریعنیاَللّٰہُ اَکْبَرکہنا صدقہ ہے۔ اچھی بات کا حکم دینا صدقہ ہے اور بُرائی سے روکنا صدقہ ہے اوران سب کی طرف سے چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں جسے انسان پڑھ لے۔“

عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ اَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيْدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةٌ وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِىءُ مِنْ ذٰلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1140 ، باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :”رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچاشت کی چار رکعتیں پڑھتےاور جس قدراﷲ عَزَّ وَجَلَّچاہتا زیادہ پڑھتے۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يُصَلِّي الضُّحَى اَرْبَعًا وَيَزِ يْدُ مَا شَآءَ الله.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1141 ، باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانی فاخَتَہ بنتِ ابو طالِبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”میں فتحِ مکہ کے سال بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو غسل کرتے ہوئے پایا۔غسل سے فراغت کے بعد آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں اور یہ چاشت کی نماز تھی۔“

عَنْ أُمِّ هَانِىْءٍ فَاخِتَةَ بِنْتِ اَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:ذَهَبْتُ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَذٰلِكَ ضُحًى.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1142 ، باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان