Main Icon

باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1140

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ اَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيْدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةٌ وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِىءُ مِنْ ذٰلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى.

عن ابي ذر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يصبح على كل سلامى من احدكم صدقة فكل تسبيحة صدقة وكل تحميدة صدقة وكل تهليلة صدقة وكل تكبيرة صدقة وامر بالمعروف صدقة ونهي عن المنكر صدقة ويجزىء من ذلك ركعتان يركعهما من الضحى.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ذررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے۔ ہر تسبیح یعنیسُبْحَانَ اللّٰہکہنا صدقہ ہے، ہر حمد یعنیاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہنا صدقہ ہے ،ہر تہلیل یعنیلَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہکہنا صدقہ ہے اور ہرتکبیریعنیاَللّٰہُ اَکْبَرکہنا صدقہ ہے۔ اچھی بات کا حکم دینا صدقہ ہے اور بُرائی سے روکنا صدقہ ہے اوران سب کی طرف سے چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں جسے انسان پڑھ لے۔“

شرح حدیث

بدن کے جوڑوں کی سلامتی کا شکریہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: ”ان سب میں صدقۂ نفلی کا ثواب ہے اور یہ بدن کے جوڑوں کی سلامتی کا شکریہ بھی ہے لہٰذا اگر کوئی انسان روزانہ تین سو ساٹھ نفلی نیکیاں کرے تو محض جوڑوں کا شکریہ ادا کرے گا باقی نعمتیں بہت دور ہیں۔یہاں چاشت سے مراد اِشراق ہی ہے،اس نماز کے بڑے فضائل ہیں۔بہتر یہ ہے کہ نمازِ فجر پڑھ کر مصلے پر ہی بیٹھا رہے،تلاوت یا ذِکرِ خیر ہی کرتا رہے،یہ رکعتیں پڑھ کر مسجد سے نکلےاِنْ شَآءَاﷲعمرہ کا ثواب پائے گا۔ “
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ہرعضو،ہڈی اور جوڑ اور صحت وسلامتی انسان کے لیے نعمت ہے جس کا شکر کرنا اس پر لازم ہے ۔شکر کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنی ہر چیز کو اس مقصد کے لیے خرچ کرےجس کے لئے اس چیز کو پیدا کیا گیا ہےحالانکہ یہ ایک دشوار اور مشکل امر ہے لہٰذااﷲ عَزَّ وَجَلَّنے لطف ومہربانی کرتے ہوئے بندے سے ذِکرِ الٰہی،اس کی حمد وثنا اور نیکی کا حکم دینے اور بُرائی سے منع کرنے کو بندے پر ہر جوڑ کے عوض صدقاتِ واجبۂ ضروریہ کی طرح لازم قرار دیا۔درحقیقت نمازِ چاشت تمام ظاہری وباطنی نعمتوں کا شکرانہ ہے۔“صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”حدیث پاک میں یہ بتانا مقصود ہے کہ صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں بلکہ ہر نیکی صدقہ ہے۔ انسان اپنے افعال اور حرکات وسکنات کے ذریعہ بھی صدقہ کا ثواب حاصل کرسکتا ہے۔اچھی بات کا حکم دینے اور بُرائی سے روکنے کو صدقہ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کا فائدہ اس عمل کو انجام دینے والے کو بھی اور عام مسلمانوں کو بھی ہوتا ہے۔چاشت کی دو رکعتوں کو سب کی طرف سے کافی اس لیے کہا گیا ہے کہ نماز تمام اعضا کی عبادت ہے۔اس میں ہر ہر عضواﷲ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرتا ہے۔نماز مذکورہ صدقات وغیرہ پر بھی مشتمل ہے اور اس میں انسان اپنے لیے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا سامان بھی کرتا ہے اور نماز بے حیائی اور بُری باتوں سے بھی روکتی ہے۔“حج وعمرہ کا ثواب:حضرت سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جس نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی ،پھر وہ سورج طلوع ہونے تک بیٹھ کراﷲتعالیٰ کا ذکر کرتا رہا،پھر اس نے دو رکعت نماز چاشت پڑھی تو اسے حج اور عمرے کا پورا پورا ثواب ملے گا۔مدنی گلدستہ’’صدقہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جو نمازِ فجر پڑھنے کے بعد مُصلے پر ہی بیٹھ کر تلاوت یا ذِکرِ خیر ہی کرتا رہےپھر دو رکعتیں پڑھ کر مسجد سے نکلے
اِنْ شَآءَ اﷲ عَزَّ وَجَلَّعمرہ کا ثواب پائے گا۔
(2) ہر عضو،ہڈی اور جوڑ اور صحت وسلامتی انسان کے لیے نعمت ہے جس کا شکر کرنا اس پر لازم ہے ۔
(3) صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں بلکہ ہر نیکی صدقہ ہے۔
(4) نماز تمام اعضاکی عبادت ہےاور اس میں ہرعضو
اﷲعَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرتا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نمازِ چاشت پابندی سے ادا کرنے اور اعضا کا شکر انہ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1140