Main Icon

باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1142

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أُمِّ هَانِىْءٍ فَاخِتَةَ بِنْتِ اَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:ذَهَبْتُ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَذٰلِكَ ضُحًى.

عن أم هانىء فاختة بنت ابي طالب رضي الله عنها قالت:ذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح فوجدته يغتسل فلما فرغ من غسله صلى ثماني ركعات وذلك ضحى.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانی فاخَتَہ بنتِ ابو طالِبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”میں فتحِ مکہ کے سال بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو غسل کرتے ہوئے پایا۔غسل سے فراغت کے بعد آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں اور یہ چاشت کی نماز تھی۔“

شرح حدیث

اِشراق وچاشت کی رکعتیں:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”عرف میں نمازِ اشراق اور نمازِ چاشت دونوں کو نمازِ اشراق کہا جاتاہے۔نمازِ اشراق کا وقت سورج کے چمکنے کے بیس۲۰ منٹ بعد سے سورج کے چہارم آسمان پر پہنچنے تک (یعنی سورج چوتھائی آسمان تک بلند ہوجائے)اورنمازِ چاشت کا وقت چہارم دن(دن کے چوتھائی حصہ) سے دوپہریعنی نصف النہار تک ہے،کبھی نمازِ اشراق کو بھی نمازِ چاشت کہہ دیا جاتا ہے۔حق یہ ہے کہ یہ دونوں نمازیں سنتِ مُستحبہ ہیں،نمازِ اشراق مسجد میں ادا کرنا بہتر ہے اور چاشت گھر میں۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچاشت کی نماز چار رکعت سے کم نہ پڑھتے،ہاں کبھی زیادہ کردیتے۔ احیاء العلوم میں ہے مناسب یہ ہے کہ چاشت کی چار رکعتوں میں سورۂ شمس، لیل ،ضُحٰیاورسورۂ اَلَم نَشْرَحپڑھے۔“چاشت کی نماز میں تخفیف مستحب ہے:حدیثِ اُمِّ ہانی کی شرح میں علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”چاشت کی کم از کم دو رکعتیں ہیں اور زیادہ بارہ رکعتیں مذکور ہیں۔یہ نمازمستحب ہے افضل یہ ہے کہ یہ ہمیشہ پڑھی جائے کیونکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اﷲتعالیٰ کو زیادہ پسند وہ عمل ہے جس کو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ وہ قلیل ہو۔“نیز اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چاشت کی نماز میں تخفیف مستحب ہے۔ حاکم نے عقبہ بن عامر سے روایت کی کہ جناب رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم چاشت کی نماز میں ”وَالشَّمْسِ وَضُحٰىہَااوروَالضُّحٰی وَ الَّیۡلِ اِذَا سَجٰی“پڑھیں۔اس نماز کا وقت طلوعِ شمس کے بعد ہے مگر اِرتفاعِ شمس(سورج بلند ہونے )تک اس کی تاخیرمستحب ہے،اشراق کے وقت بھی چاشت کی نماز پڑھنا جائز ہے۔“جنت میں سونے کا محل:صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” نمازِ چاشت مستحب ہے، کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ چاشت کی بارہ رکعتیں ہیں اور افضل بارہ ہیں کہ حدیث میں ہے جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیںاﷲتعالیٰ اس کے ليے جنت میں سونے کا محل بنائے گا۔اس کا وقت آفتاب بلند ہونے سے زوال یعنی نصف النہارِ شرعی تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ چوتھائی دن چڑھے پڑھے۔“چاشت کی رکعتوں کی فضیلت:حضرت سَیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے دو رکعتیں چاشت کی پڑھیں وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا اور جو چار پڑھے عابدین میں لکھا جائے گا اور جو چھ پڑھے اس دن اُس کی کفایت کی گئی اور جو آٹھ پڑھےاﷲتعالیٰ اسے فرماں برداروں میں لکھے گا اور جو بارہ پڑھےاﷲتعالیٰ اُس کے ليے جنت میں ایک محل بنائے گا۔“مدنی گلدستہ’’اِشراق‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) نمازِ اشراق مسجد میں اور چاشت گھر میں ادا کرنا بہتر ہے ۔
(2) چاشت کی کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں ہیں ۔
(3) حدیثِ پاک میں ہے:”جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں
اﷲ تعالیٰاس کے ليے جنت میں سونے کا محل بنائے گا۔“
(4) چاشت کا وقت آفتاب بلند ہونے سے نصف النہارِ شرعی تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ چوتھائی دن ہونے پر پڑھے۔
(5) چاشت کی نماز میں تخفیف مستحب ہے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں پنج وقتہ نمازِ باجماعت اوراشراق وچاشت پابندی سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1142