Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1285

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَيُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ : اِيْمَانٌ بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ، قِيْلَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ:الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِِ اللهِ، قِيْلَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ:حَجٌّ مَبرُوْرٌ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: سئل النبي صلى الله عليه وسلم اي الاعمال افضل ؟ قال : ايمان بالله ورسوله، قيل: ثم ماذا ؟ قال:الجهاد في سبيل الله، قيل: ثم ماذا ؟ قال:حج مبرور.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی گئی :کونسا عمل افضل ہے؟ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول پر ایمان لانا۔“عرض کیا گیا: پھرکون سا؟ارشادفرمایا:”راہِ خُدامیں جہادکرنا۔“پوچھاگیا:پھرکون سا؟ارشادفرمایا:”حجِ مبرور (مقبول)۔“

شرح حدیث

جہاد کی افضلیت:مرآۃُ المناجیح میں ہے:”ﷲ کی راہ کا جہاد وہ جنگ ہے جس میں محض ربّ کو راضی کرنا اور اسلام کی اشاعت منظور ہو،مال،ملک،عزت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرنا فتنہ ہے جہاد نہیں۔شعر
جنگِ شاہاں فتنہ و غارت گری اَست جنگ مؤمن سنتِ پیغمبری اَست
(بادشاہوں کی جنگ فتنہ وغارت گری ہے جبکہ مومن کی جنگ پیغمبر
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔)
حجِ مقبول و مَبرُور وہ ہے جو لڑائی جھگڑے گناہ و رِیا سے خالی ہو اورصحیح ادا کیا جائے۔خیال رہے کہ بعض احادیث میں ایمان کے بعد نماز کا ذکر ہے مگر یہاں جہاد کا ذکر آیا اس لیے کہ
جِہَاد فِیْ سَبِیْلِ اﷲاکثر نمازی ہی کرتے ہیں یا بعض ہنگامی حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوجاتا ہے،دیکھو حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے غزوۂ خندق میں زیادہ مشغولیت کی بنا پر پانچ نمازیں قضا فرمادیں لہٰذا احادیث میں تعارض نہیں۔ہنگامی حالات اور ہوتے ہیں معمول پر پہنچنے کے بعد دوسرے حالات۔“
شارِحِ بخاری علامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جہاد یعنی کفار سے جنگ کرنااﷲتعالیٰ کا دِین بلند کرنے کے لئے ہے یہ دوسرے اعمال سے اس لئے افضل ہے کہ اس میںاﷲکی راہ میں جانیں قربان ہوتی ہیں اس کے بعد حج افضل ہے کیونکہ یہ مالی اور بدنی عبادتوں سے مُرکب(مِل کر پورا ہوتا) ہے ۔“دو افضل ترین عمل:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’دوعمل افضل ترین ہیں:(1)اِیمان جو تمام اَعمال کی اصل ہے اور اِس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ،یہ دل کا عمل ہے اور دل انسان کے وجود کا خلاصہ ہے۔ (2)اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں دشمنانِ دِین سے جنگ کرنا، کیونکہ یہ دِینِ اسلام کی قوت اور مسلمانوں کے غلبے کا سبب ہے ،اس اعتبار سے جہاد افضل ترین عمل ہے اگر چہ دیگر وجوہ کے اِعتبار سے نماز اور روزہ افضل ہیں۔‘‘

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1285