Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1289

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ اَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَتَى رَجُلٌ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اَيُّ النَّاسِ اَفْضَلُ؟ قَالَ:مُؤْمِنٌ يُّجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ في سَبِيْلِ اللهِ قَالَ:ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:مُؤْمِنٌ في شِعَبٍ مِّنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.

عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: اتى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:اي الناس افضل؟ قال:مؤمن يجاهد بنفسه وماله في سبيل الله قال:ثم من؟ قال:مؤمن في شعب من الشعاب يعبد الله ويدع الناس من شره.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی :لوگوں میں افضل کون ہے؟ارشاد فرمایا:”وہ مومن جو اپنی جان ومال کے ساتھ راہِ خدا میں جہاد کرے۔اس نےعرض کی:پھر کون؟ارشاد فرمایا:”وہ مومن جو کسی گھاٹی میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔“

شرح حدیث

یہاں افضل ہونے سے کیا مرادہے؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”یہاں بیان ہواکہ ”وہ مؤمن افضل ہے جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرے ۔“اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے افضل ہے کیونکہ تمام لوگوں میں سب سے افضل وہ ہے جو صدیقین کے مرتبے پر فائز ہو اور وہ لوگوں سےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے اَحکام اور نبیصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں پر عمل کرائے۔درحقیقت اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ افضل لوگوں میں سے ہے کیونکہ ممکن ہے ایسے افراد بھی موجود ہوں جو دینداری اور علم وفضل میں اس سے بڑھ کر ہوں ۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ لوگوں کے ساتھ مل کر رہنے میں اگر فتنہ کا خطرہ ہو تو پھر گوشہ نشینی افضل ہے اور جب فتنہ میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو لوگوں کے ساتھ مل جل کررہنا افضل ہے۔اَحادیث میں لوگوں سے اِحتراز اوران سے الگ ہوکر رہنے کے وقت پہاڑوں کی گھاٹیوں کا ذکر ہے کیونکہ فتنہ وفساد کے وقت عموماً لوگ ایسی جگہوں کی طرف نکل جاتے ہیں ورنہ ہر وہ جگہ جو لوگوں سے بعید ہو وہ اس معنیٰ میں داخل ہے جیسے مساجد اور رہائشی مکان وغیرہ۔“
علامہ سید محموداحمدرضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”واضح ہوکہ جہاد عام حالات میں فرضِ کفایہ اور جب دشمن مملکتِ اسلامیہ کے کسی شہر پر حملہ کردے توفرضِ عین ہے ۔ دونوں قسم کے جہادوں میں حصہ لینے والا مسلمان افضل واعلیٰ مسلمان ہے ۔ جہاد جان کانذرانہ پیش کر کے توہوتا ہی ہے مگرجوجہاد کی طاقت نہ رکھے یا جس کے پاس سامانِ حَرب وضَرب نہ ہو وہ مجاہدین کی مال سے ہرقسم کی ضرورت کو پوری کرنے والا بھی فضیلت والا مسلمان قرار پاتاہے اورمال سے جہادکرنے والا بھی مجاہد قرار پاتاہے ۔ اسی طرح وہ مسلمان بھی صاحبِ فضیلت ہے جو ایسے دور میں ہو جہاں خلافِ اسلام کاموں سے بچنا ممکن نہ رہے اورزبان وقلم اورعمل سے برائی کوروکنے کی طاقت ہی نہ رہے اور وہ ایمان وتقویٰ کے ساتھ کسی مسلمان کو نقصان پہنچائے بغیر پہاڑ کی کسی گھاٹی میں گوشہ نشین ہوجائے۔“مدنی گلدستہ’’جھاد‘‘کے4حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جو ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرےگا باقی حقوق کی ادائیگی میں اس کی کوتاہی زیادہ متوقع ہے اور جو جہاد میں تقصیر کرے گا دیگر نیک اعمال میں اس کی تقصیر زیادہ متوقع ہے۔
(2) ایمان وہ افضل جس پر خاتمہ نصیب ہوجائے ورنہ محض بے کار ہے۔
(3) اﷲ تعالیٰ مجاہد کو تھوڑا سا جہاد کرنے کے عوض آخرت میں اجرِ عظیم عطا فرماتا ہے تو جو شخص جہاد میں اپنی جان ومال صَرف کردے اس کے اجروثواب کی کوئی حد نہیں ۔
(4) لوگوں کے ساتھ مل کر رہنے میں اگر فتنہ کا خطرہ ہو تو پھر گوشہ نشینی افضل ہے اور جب فتنہ میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو لوگوں کے ساتھ مل جل کررہنا افضل ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں اپنی جان ومال قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1289