Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1326

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا غَزَا قَالَ:اَللَّهُمَّ اَنْتَ عَضُدِيْ وَنَصِيْرِيْ بِكَ اَحُوْلُ وَبِكَ اَصُوْلُ وَبِكَ اُقَاتِلُ .

عن انس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا غزا قال:اللهم انت عضدي ونصيري بك احول وبك اصول وبك اقاتل .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب جہاد کرتے تویوں دعافرماتے:”اَللَّهُمَّ اَنْتَ عَضُدِيْ وَنَصِيْرِيْ بِكَ اَحُوْلُ وَبِكَ اَصُوْلُ وَبِكَ اُقَاتِلُیعنی الٰہی!تو میری قوت ہے،تومیرا مددگار ہے،تیرےہی بھروسہ سے دفع کرتا ہوں، تیری مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تجھ پر امید کرتے ہوئے جہاد کرتا ہوں۔“

شرح حدیث

خالقِ اسباب پربھروسہ ہونا چاہئے:مرآۃ المناجیح میں ہے:”یعنی الٰہی میں دشمن کے مقابل اپنی قوت،فوج، ہتھیاروں کے بھروسہ پر نہیں آیا ہوں،یہ تو فقط اسباب ہیں،بھروسہ تجھ پر ہے تو چاہے تو ابابیل سے فِیل(ہاتھی) مروا دے،کمزور مسلمان سے قوی کفار کو ہلاک کرادے،دو بچوں سے ابوجہل کو ٹھکانے لگادے۔یہ وہ چیز ہے جو کفار کے پاس نہیں اور مسلمان انہی کی برکتوں سے فتح پاتے ہیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1326