Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1292

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلٰی عَمَلِهِ اِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيْلِ اللهِ فَاِنَّهُ يَنْمِىْ لَهُ عَمَلُهُ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ فِتْنَةِ القَبْرِ.

عن فضالة بن عبيد رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: كل ميت يختم علی عمله الا المرابط في سبيل الله فانه ينمى له عمله الى يوم القيامة ويؤمن من فتنة القبر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا فضالہ بن عبیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ہر میت کا عمل ختم ہوجاتا ہے لیکن راہِ خدامیں اسلامی سرحد کی حفاظت کرنے والے کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہےاور وہ قبر کے فتنہ سے محفوظ رہتا ہے۔“

شرح حدیث

اِحیائے دِین:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”اسلامی سرحد کی حفاظت کرنے والے کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتاہے۔“یہاں قیامت تک عمل بڑھنے سے مراد یہ ہے کہ ہر لمحہ اسے نیا اجر ملتا ہے کیونکہ اس نے دشمنانِ اسلام کے خلاف اپنی جان کو اس چیز کے لیے قربان کیا ہے جس کا نفع تمام مسلمانوں کو پہنچتا ہے اور وہ اِحیائے دین ہےاور اس اجر کے ساتھ ساتھ وہ عذابِ قبر سے بھی محفوظ رہتا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس صدقۂ جاریہ کی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوتا ہے جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ”انسان جب مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے:(1)صدقۂجاریہ(2)ایسا علم جس سے نفع اٹھایا جائے اور(3)نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے۔“
قیامت تک عمل بڑھنے کی وضاحت کرتے ہوئے
مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”قیامت تک اسے ہر گھڑی وہ ہی ثواب ملتا رہتا ہے جو زندگی میں ملتا تھا اس کارباطفِیْ سَبِیْلِ اﷲصدقۂ جاریہ ہوجاتا ہے کیونکہ مسلمان اس کے رباط سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1292