Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1324

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ اَبِيْ اَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ بَعْضِ اَ يَّامِهِ الَّتِيْ لَقِيَ فِيْهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ:اَيُّهَا النَّاسُ لَاتَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ فَاِذَا لَقِيتُموْهُمْ فَاصْبِرُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ثُمَّ قَالَ: اَللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْاَحْزَابِ اَهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ.

عن عبد الله بن ابي اوفى رضي الله عنهما ان رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم في بعض ا يامه التي لقي فيها العدو انتظر حتى مالت الشمس ثم قام في الناس فقال:ايها الناس لاتتمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية فاذا لقيتموهم فاصبروا واعلموا ان الجنة تحت ظلال السيوف ثم قال: اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الاحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن ابی اوفیٰرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک لڑائی کے موقع پر سورج کا انتظار کرنے لگے ،جب سورج ڈھل گیا تو لوگوں میں کھڑے ہوئے اورارشاد فرمایا:” اے لوگو! دشمن سے جنگ کی خواہش نہ کرو اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّسے عافیت مانگو پھر اگر لڑنا پڑے تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔“ پھرآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں دعا فرمائی:”اَللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْاَحْزَابِ اَهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْیعنی اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ! اے کتاب نازل کرنے والے،اے بادلوں کو چلانے والے اور اے لشکروں کو بھگانے والے اِن (کافروں)کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔“

شرح حدیث

سورج ڈھلنے کے بعد لڑنے میں حکمت:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورنبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اکثرسورج ڈھلنے کے بعد جنگ کی۔اس میں حکمت یہ ہے کہ یہ ہوائیں چلنے، دلوں کی راحت اور نماز و دعا کا وقت ہوتاہے ۔حدیثِ پاک میں ہے کہ ”اس وقت آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اعمال مقامِ قبولیت میں پیش کیے جاتے ہیں ۔“اس لیے اس وقت فتح ونصرت کے انوار نازل ہونے کی امید رکھی جاسکتی ہے اورجہادفی سبیل اﷲسے افضل کون سا عمل ہوسکتا ہے؟یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ دن کے ابتدائی حصےمیں جنگ اور اس کے سازوسامان کی تیاری کی جاتی ہے اور دن کا آخری حصہ رات کے قریب ہوتا ہے،اس لیے دن کا درمیانہ حصہ مُتعین ہوگیا۔“جنگ کی تمنا اچھی نہیں:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان’’دشمن سے ملنے کی آرزو نہ کرو‘‘کے تحت فرماتے ہیں:”یعنی جنگ کی تمنا کرو نہ دعا مانگو کیونکہ جنگ ایک بلا ہے بلا کی آرزو اچھی نہ بہتر اس میں فخروتکبر کی بو ہے اس لیے اس تمنا سے بچو اپنی قوت و طاقت پر بھروسہ نہ کرو۔ہمیشہ ﷲ سے فضل و رحمت مانگو۔بیماری اگرچہ ﷲ کی رحمت کا باعث ہے،سانپ کاٹے کی موت شہادت کی موت ہے مگر نہ تو ان کی دعا کرو نہ کوشش اور جب ربّ¬ کی طرف سے آجائے تو صبر کرو۔دعا کرو امن و عافیت کی نہ کہ جنگ کی اور اگر کفار سے جنگ کرنا پڑے تو پھر ہمت و اِستِقلال سے کام لو۔سُبْحَانَ اﷲ! کیسی نفیس تعلیم ہے۔ معلوم ہوا کہ جہاد سے پہلے دعاء ِنُصرت کرنا سنت ہے اور بہتر ہے کہ دعا ماثورہ مانگے یہ دعا ہو یا کوئی اور دعا جو حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے منقول ہو یا حضراتِ اولیا سے۔ “دنیا وآخرت میں عافیت کی دعا کرے:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دشمن سے مقابلےکی تمنا سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ اس میں اپنے نفس پر اعتماد ،اپنی طاقت پربھروسہ اور صورتاً تکبر ہے اور یہ بھی بغاوت کی ایک نوع ہے اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّنے باغیوں کے خلاف نصرت کی ضمانت دی ہے اور جو شخص یہ تمنا کرے گا وہ دشمن کو حقیر سمجھے گا اور اس سے جنگ کی زیادہ تیاری نہیں کرے گا اور یہ حفاظت وبچاؤ اور احتیاط کے خلاف ہے ۔بعض علما نے اس حدیث کو ایک خاص صورت پر محمول کیا ہے یعنی دشمن سے مقابلہ کرنے کی تمنا اس وقت ممنوع ہے جب دشمن سے مقابلہ میں نقصان کا خطرہ ہو اور اس سے جنگ کرنا مصلحت کے خلاف ہو ورنہ کافروں سے جنگ کرنا ہر صورت میں فضیلت کا باعث اور عبادت ہے لیکن صحیح پہلی تشریح ہے،یہی وجہ ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے بعد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّسےعافیت مانگو“اور بکثرت احادیث میں رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عافیت کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے،عافیت کی دعا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے بدن،رُوح ،ظاہری اور باطنی حالات،دِین،دنیا اور آخرت میں عافیت کی دعا مانگےاور یوں دعا کرے:”اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْعَافِیَۃَ الْعَامَّۃَ لِیْ وَلِاَحِبَّائِیْ وَلِجَمِیْعِ الْمُسْلِمِیْنَیعنی اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے ،میرے دوستوں اور تمام مسلمانوں کو دین ودنیا میں عافیت عطا فرما۔“عافیت کے متعلق فرمانِ صدیق اکبر:امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میں عافیت میں رہ کر شکر ادا کروں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ مصیبت میں مبتلا ہوکر صبر کروں۔“مدنی گلدستہ” عافیت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جنگ کی تمنا کرے نہ اس کی دعا مانگے کیونکہ جنگ ایک مصیبت ہے اور مصیبت کی تمنا اچھی نہیں ۔
(2) بیماری اگرچہ رحمتِ الٰہی کا باعث ہے مگر بیماری کی دعا نہ کرے ،ہاں جب مبتلا ہوجائے تو صبر کرے۔
(3) جہاد سے پہلے کامیابی کی دعا مانگنا سنت ہے۔
(4)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے باغیوں کے خلاف فتح وکامیابی کی ضمانت دی ہے۔
(5) بکثرت احادیثِ مبارکہ میں رسولُ
اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عافیت کی دعا کرنے کا حکم دیا ہےیعنی اپنے بدن ،روح ،ظاہری اور باطنی حالات ،دین ،دنیا اور آخرت میں عافیت کی دعا کی جائے ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیا وآخرت میں عافیت عطا کرے اور جہاد کی صورت میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1324