Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1332

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اﷲ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُوْلُ:﴿ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ﴾ اَلَا اِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ اَلَا اِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ اَلَا اِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ.

عن عقبة بن عامر الجهني رضي اﷲ عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر يقول:﴿ و اعدوا لهم ما استطعتم من قوة﴾ الا ان القوة الرمي الا ان القوة الرمي الا ان القوة الرمي.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا عقبہ بن عامر جُہَنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومنبرِ اَقدس پریہ فرماتے ہوئے سنا:﴿وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ﴾(پ۱۰، الانفال:۶۰)ترجمہ ٔکنزالایمان:”اوران کے لئے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے۔“سنو! قوت تیر اندازی ہے ،سنو! قوت تیر اندازی ہے،سنو! قوت تیراندازی ہے۔

شرح حدیث

آیت سے حاصل ہونے والی معلومات:حدیث میں مذکورآیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں:(1)جہاد کی تیاری بھی عبادت ہے اور جہاد کی طرح حسبِ موقع یہ تیاری بھی فرض ہے جیسے نماز کے لیےوضو ضروری ہے۔(2)عبادت کے اسباب جمع کرنا عبادت ہے اور گناہ کے اسباب جمع کرنا گناہ ہےجیسے فرض حج کے لیے سفر کرنا فرض ہے اور چوری کے لیے سفر کرنا حرام ہے۔(3)کفار کو ڈرانا دھمکانااپنی قوت دکھانا بہادری کی باتیں کرنا جائز ہے حتّٰی کہ کافروں کے دل میں رعب ڈالنے کے لیے غازی اپنی سفید داڑھی کو سیاہ کرسکتا ہے ورنہ ویسے سیاہ خضاب ناجائز وگناہ ہے۔قوت سے مراد:اشعۃ اللمعات میں ہے:”قوت سے مراد ہر وہ چیز ہےجس سے جنگ میں طاقت حاصل کی جائے۔ (مثلاً آج کے دور میں ٹینک،جنگی طیارے،طیارہ شکن توپیں ،آب دوزیں اور ایٹمی اسلحہ وغیرہ )امام بیضاویرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایاکہ ہوسکتا ہے نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خاص طور پر تیر اندازی کا ذکر اس لیے فرمایا ہوکہ یہ زیادہ قوت والا عمل ہے۔حضرت سَیِّدُنا عقبہ بن عامررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں ستر کمانیں توڑدیں۔“موجودہ دورکے اعتبار سےآیت پرعمل:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:”آیت میں جس ثبوت کا حکم تاکیدی دیا گیا ہے وہ قوت آج کل تیر اندازی ہے۔ آیتِ کریمہ کا مقصد فی زمانہ اسی طرح حاصل ہوگا کہ مسلمان تیر لگانے نشانہ لگانے کی خوب مشق کریں۔ فقیر کی اس شرح سے یہ اعتراض اُٹھ گیا اگر صرف تیر اندازی سیکھنا ضروری ہے تو آج کل نہ تیر ہیں نہ اس کی مشق تو اب اس آیت پر عمل کیسے ہو کیونکہ اب بجائے تیر کے گولہ بارود توپوں سےگولہ باری ، ہوائی جہازوں سےبم باری،راکٹ اندازی ہے۔اب ان چیزوں کا سیکھنا اس آیتِ کریمہ پرعمل ہے بشرطیکہ جہادفِیْ سَبِیْلِ اﷲکی نیت سے ہو۔رمی کا لغوی واصطلاحی معنٰی:تفسیر ِنعیمی میں مذکورہ حدیثِ پاک کی وضاحت یوں کی گئی ہے:”حدیث میں ہے:اَلَا اِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُآگاہ رہو کہ قوت رمی ہے۔رمی کے اصطلاحی معنیٰ ہیں تیراندازی اور لغوی معنیٰ ہیں پھینکنا۔اگر اس حدیث میں رمی بمعنیٰ اصطلاح ہے تو اُس زمانہ کے لحاظ سے یہ فرمانِ عالی ہےجبکہ جنگ تیر تلوار سے ہوتی تھی اور اگر رمی لغوی معنیٰ میں ہے تو اِس میں تاقیامت تمام ہتھیار داخل ہیں آج کل جنگ میں بم پھینکے جاتے ہیں ،راکٹ چھوڑے جاتے ہیں ۔اس محبوبصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی فصاحت کے قربان جس نے ایک لفظ رمی میں تاقیامت جہادوں کا انتظام فرمادیا۔“علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ہمارے نبی و رسولصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےسچ فرمایا کہ دراصل قوت رمی ہے اور بم اور میزائل رمی میں داخل ہیں۔آج سے چودہ سو برس پہلے آپ نے تنبیہ کردی کہ خبردار اصل قوت رمی ہے۔معلوم ہوا کہ ایٹم بم اور میزائل وغیرہ آپ کے علم میں تھےاور ان کی ہیئتِ ترکیبی آپ کے پیشِ نظر تھی ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1332