Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1337

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِِ عَبَسَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقُوْلُ:مَنْ رَمَی بِسَهْمٍ في سَبِيْلِ اللَّهِ فَهُو لَهُ عِدْلُ مُحَرَّرَةٍ.

عن عمرو بن عبسةرضي الله عنہ قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:من رمی بسهم في سبيل الله فهو له عدل محررة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عَمرو بن عبسہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا :”جس نے راہِ خدا میں ایک تیر پھینکا تو وہ اس کےلئے ایک غلام آزاد کرنے کے برابرہے۔“

شرح حدیث

قیامت کے دِن نور:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یہ حدیث اپنے عموم پر ہے خواہ وہ تیر دشمن کو لگے یا نہ لگے اس کے لیے غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے جیساکہ ایک روایت میں یہ تصریح موجود ہے کہ”جس نے راہِ خدا میں تیرپھینکاچاہے وہ تیر دشمن کو لگے یا نہ لگے پھینکنےوالے کےلئے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے۔طبرانی میں حضرت سَیِّدُنا ابو عَمرو اَنصاریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ جس نے راہِ خدا میں تیر پھینکا وہ تیر نشانے پر لگے یا نہ لگے وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1337