Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1304

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللهِ حَتَّى يَعُوْدَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ عَلَی عَبْدٍ غُبَارٌ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :لا يلج النار رجل بكى من خشية الله حتى يعود اللبن في الضرع ولا يجتمع علی عبد غبار في سبيل الله ودخان جهنم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جائے گا حتّٰی کہ دودھ تھنوں میں واپس آجائے اور کسی بندے پر راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہوسکتا۔“

شرح حدیث

خوفِ خدا سے رونے کی فضیلت:مرآۃ المناجیح میں ہے:”یعنی جیسے دوہے ہوئے دودھ کا تھن میں واپس ہونا ناممکن ہے ایسے ہی اس شخص کا دوزخ میں جانا ناممکن ہے(جو خوفِ خدا سے سے روئے)جیسے ربّ تعالیٰ(کفار کے جنت سے محروم رہنے کے بارے میں)فرماتاہے:﴿حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِؕ-﴾(پ۸، الاعراف:۴۰)(ترجمۂکنزالایمان:جب تک سوئی کے ناکے میں اونٹ نہ داخل ہو۔)خوفِ خدا میں رونے کے بڑے فضائل ہیںﷲ تعالیٰ نصیب فرمادے۔راہِ خدا کا غبار وہ غبار ہے جو ربّ کی رضا کے لیے راستہ چلا جائے اور وہاں کا غبار بدن یا کپڑوں یا پاؤں یا چہرے پر پڑے جیسے مسجد کو جاتے، طلبِ علم،جہاد ،حج وعمرہ وغیرہ کرنے کی حالت میں جو گردو غبار پڑے۔“مجاہد عذاب سے محفوظ ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے روئے وہ آگ میں داخل نہ ہوگا۔“یعنی اسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا ایسا خوف ہو جو اسے احکامِ خداوندی کی پاسداری اور برائیوں کے اِرتکاب سے روکے لہٰذا جسے ایسا خوف ہو گا وہ جہنم کی آگ میں نہ جائے گاکیونکہ یہ کریم پروردگار کا وعدہ ہے،اورجواﷲ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا ہو ،اس کے غضب وجلال کو پہچانتا ہو اور ایسے اُمور سرانجام دیتاہو جو خشیتِ الٰہی کا تقاضا کریں یعنی احکامِ خداوندی کی بجاآوری ا ور ممنوعات سے اجتناب تو ایسے شخص کا آگ میں جانا ایسا ہی ناممکن ہے جیسے دودھ کا واپس تھن میں جانااور جو ایسے خوف سے مُتَّصِف نہ ہواور اسی حالت میں فوت ہو جائےاور حال یہ ہوکہ اس نے شرک نہ کیا ہومگردیگربرائیوں میں مبتلا ہو تو اس کا معاملہ اس کے ربّ کے سپرد ہو گا، وہ چاہے گا تو دیگرکامیاب لوگوں کے ساتھ اسے جنت میں داخل فرمائےگا اور اس کے گناہوں کو مٹادے گا اور اگر چاہے گا تواسے اس کے گناہوں کی سزاکی مقدار آگ میں رکھے گاپھر اسے اس کے ایمان کی وجہ سے محض اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل فرمائے گا۔”جہنم کا دھواں اور راہِ خدا کا غبار ایک شخص پرجمع نہیں ہو سکتے۔“یعنی راہِ خدامیں جہاد کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مجاہد عذاب سے محفوظ رہے گااور یہ وعدہ ایسی ذات کی طرف سے ہے جو اپنے وعدےکے خلاف نہیں کرتا ۔یہ فضیلت اسے حاصل ہوگی جو دورانِ جہاد فوت ہوجائے یا جہاد کے بعدفوت ہو مگر کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کرنے والا نہ ہو جو اسے اس فضیلت سے روک دے ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1304