Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1311

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا اَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ اَنْ يَرْجِعَ اِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى الْاَرْضِ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا الشَّهِيْدُ يَتَمَنَّى اَنْ يَرْجِعَ اِلَى الدُّنْيـَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الكَرَامَةِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ : لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ.

عن انس رضي الله عنه:ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما احد يدخل الجنة يحب ان يرجع الى الدنيا وله ما على الارض من شيء الا الشهيد يتمنى ان يرجع الى الدنيـا فيقتل عشر مرات لما يرى من الكرامة.وفي رواية : لما يرى من فضل الشهادة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص یہ پسند نہیں کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس آئے اور اسے دنیا کی ہر چیز مل جائےمگر شہیدعزت وکرامت دیکھ کر تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں لوٹ آئے اور دس بار قتل کیا جائے۔“ایک روایت میں ہے کہ ”شہادت کی فضیلت دیکھنے کے باعث وہ یہ تمنا کرے گا۔“

شرح حدیث

عبادت کی لذت:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”خیال رہے کہ عام مؤمنین کی قبروں میں جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے جس سے وہاں کی ہوائیں،خوشبوئیں وغیرہ آتی رہتی ہیں شہدا وغیرہ کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں جنت میں داخل ہوجاتی ہیں بعد قیامت اس جسم کے ساتھ جنت میں داخلہ ہوگا۔(اِنْ شَآءَ اﷲ تَعَالٰی) دنیا آفات کی جگہ ہے،اگرچہ دنیا میں کسی کو بہت زیادہ آرام ملے مگر وہ سب آرام اُس آرام کے مقابل تکالیف ہیں،جیل کا اے کلاس بھی گھر کی آزادی گھر کے آرام کے مقابل ہیچ (کچھ نہیں)ہے۔ دس بار سےمراد کئی بار ہے،یعنی شہید تمنا کرے گا کہ پھر مجھے دنیا میں بھیج کر شہادت کا موقعہ دیا جائے،جو مزہ راہ ِ خدا میں سر کٹانے میں آیا وہ کسی چیز میں نہ آیا۔ ظاہر یہ ہے کہ (یہاں) کرامت سے مراد اُخروی عزّت و حُرمت ہے یعنی وہ سوچے گا کہ جب ایک دفعہ شہید ہونے سے مجھے اتنی عزت ملی تو بار بار شہید ہونے سے کتنی عزت ملے گی اور ہوسکتا ہے کہ کرامت سے مراد وہ لذّت ہو جو اسے راہِ خد امیں سرکٹانے سے ہوئی ہو،عبادت میں بھی لذت ہے،جسےﷲکے بندے محسوس کرتے ہیں۔“شہید کےفضل وشرف کی آئینہ دارحدیث:علامہ سَیِّدمحموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”علامہ ابن بطال نے فرمایا:یہ حدیث شہید کےفضل وشرف کی عظمت کی آئینہ دار ہے ۔شہید کواﷲتعالیٰ جنت میں جس عظیم وجلیل ثواب اور نعمتوں سے سرفراز فرمائے گااس کی بنا پر وہ یہ تمنا کرے گا کہ مجھے پھر دنیا میں بھیجا جائے اور متعدد بار راہِ خدا میں قتل کیا جاؤں اوراﷲتعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کو مزید حاصل کروں۔“ثواب بھی عظیم:عَلَّامَہ سِرَاجُ الدِّین عُمَر بِنْ عَلِیاِبْنِ مُلَقَّنرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”یہ حدیثِ پاک شہادت کی فضیلت،اس پر ابھارنے اور اس کی ترغیب کے بارے میں انتہائی اہم ہے۔شہید دس بار قتل ہونے کی تمنا یہ جان کر کرے گا کہ اس میںاﷲعَزَّ وَجَلَّکی رضا اور اس کا قُرب ہے کیونکہ جو اپنی جاناﷲ عَزَّ وَجَلَّکے دِین کے اِعزاز ،اس کے دِین اور نبی کی نصرت میں قربان کرے تو اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔نیک اَعمال میں جہاد کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں جس میں جان قربان کی جائے لہٰذا اس میں ثواب بھی عظیم ہے۔“مدنی گلدستہ’’شہادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) نیک اَعمال کی مقبولیت کے لیے ایمان شرط ہے،غیرمسلم کا کوئی نیک عمل اﷲ کے ہاں مقبول نہیں۔
(2) شہدا کی رُوحیں سبز پرندوں کی شکل میں داخلِ جنت ہوتی ہیں بعدِ قیامت مع جسم جنت میں داخلہ ہوگا۔
(3) عام مؤمنین کی قبروں میں جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہےجس سے وہاں کی ہوائیں،خوشبوئیں وغیرہ آتی رہتی ہیں ۔
(4) عبادت میں بھی لذت ہوتی ہے،جسےﷲ کے نیک بندے محسوس کرتے ہیں۔
(5) نیک اعمال میں جہاد کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں جس میں جان کی قربانی دی جائےاسی وجہ سے اس میں ثواب بھی زیادہ ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1311