Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1347

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِ يْدَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:لَمَّاقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ تَلَقَّاهُ النَّاسُ فَتَلَقَّيْتُهُ مَعَ الصِّبْيَانِ عَلٰی ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ قَالَ:ذَهَبْنَا نَتَلَقَّى رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَعَ الصِّبْيَانِ اِلَی ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ.

عن السائب بن يز يدرضي الله عنه قال:لماقدم النبي صلى الله عليه وسلم من غزوة تبوك تلقاه الناس فتلقيته مع الصبيان علی ثنية الوداع. ورواه البخاري قال:ذهبنا نتلقى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع الصبيان الی ثنية الوداع.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا سائب بن یزیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ جب نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغزوۂ تبوک سے واپس تشریف لائے تولوگوں نے آپ کا استقبال کیا اورمیں نےبھی بچوں کے ساتھثَنِيَّةُ الْوَدَاعپر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا استقبال کیا ۔بخار ی میں یوں ہے کہ ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے استقبال کے لئے بچوں کے ساتھثَنِيَّةُ الْوَدَاعتک پہنچے۔“

شرح حدیث

ثَنِيَّةُ الْوَدَاعکی وجہِ تسمیہ:عَلَّامَہ سِرَاجُ الدِّین عُمَر بِنْ عَلِیاِبْنِِ مُلَقَّنرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہمذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: ”جہاد اور سفرِ حج سے واپس آنے والوں کا خوشی اور فرحت کے ساتھ استقبال کرنا بھلائی کا ایک کام اور نیکی کی ایک قسم ہے اور اس حدیث میں مجاہدین اور حجاج کو رخصت کرنے کا ثبوت بھی ہےکیونکہثَنِيَّةُ الْوَدَاعکو اس نام سے پکارنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ حجاج اور مجاہدین کو اس گھاٹی تک رخصت کرنے کےلیے آتے تھےاور واپسی پربھی بڑے اور بچے یہاں آکر مجاہدین و حجاج کا استقبال کرتے ۔“مدنی گلدستہ’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جہاد کی نیت سے زمین میں گھومنا پھرنا مستحسن ہے۔
(2) جہاد اُمَّتِ محمدیہ کی سیاحت ہے۔
(3) مجاہدین کو جہاد پر جاتے وقت اور جہاد سے واپسی پر بھی ثواب دیا جاتاہے ۔
(4) جہاد اور سفر حج سے واپس آنے والوں کا خوش دلی سے استقبال کرنا بھلائی ونیکی کا کام ہے۔
(5) دشمن کو چکمادینے کےلئے میدانِ جنگ سے واپس آجا نا اور پھر دشمن کے غافل ہوجانے پر حملہ کر دینا جنگی حکمتِ عملی ہے جس پر مجاہدین کو ثواب دیاجاتاہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دِینِ اِسلام کی سربلندی کے لئےخوب خوب کوشش کرنے اور بوقتِ ضرورت دِین کے لئےاپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1347