Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1331

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مَسْعُوْدٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ قَال جَآءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ بِنَاقَةٍ مَخْطُوْمَةٍ فَقَالَ: هٰذِهِ فِیْ سَبِيْل اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:لَكَ بِهَا يَومَ الْقِيَامَةِ سَبْعُ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا مَخْطُوْمَةٌ.

عن ابي مسعود رضي الله عنه قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم بناقة مخطومة فقال: هذه فی سبيل الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لك بها يوم القيامة سبع مائة ناقة كلها مخطومة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابومسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”ایک شخص نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں مہاروالی ایک اونٹنی لے کرحاضرہوااورعرض کی: یہ راہِ خدا کے لئے ہے ۔نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا: ”بروزِ قیامت تیرے لئے اس ایک کے بدلے مُہاروالی سات سواونٹنیاں ہوں گی۔“

شرح حدیث

ہواکی رفتار سے تیز سواریاں:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”مُہار، لمبا رسہ،نکیل جس کا ایک کنارہ اونٹ کی ناک میں ہوتا ہے دوسرا مالک کے ہاتھ میں۔حق یہ ہے کہ حدیث بالکل ظاہری معنیٰ پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں، ﷲ تعالیٰ بطورِ اِعزاز اہلِ جنت کو سواری کے لیے گھوڑے اونٹنیاں عطا فرمائے گا جن کی رفتار ہوا سے زیادہ ہوگی جیسے قربانی کرنے والوں کو (پل)صراط طے کرنے کے لیے سواری دی جائے گی۔بعض شارحین نے کہا کہ اس سے مراد ہے سات سو اونٹنیاں خیرات کرنے کا ثواب دے گا مگر یہ درست نہیں ورنہ پھر مہار والی ہونے کے کیا معنی،کیا ثواب کے بھی مہار ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں خرچ کرنے والوں کو زیادہ ثواب ملتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ تجھے اونٹ کے عوض سات سو اونٹ اور مہار کے عوض سات سو مہاریں عطا ہوں گی تیری کوئی خیرات ضائع نہ جاوے گی۔“( )اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ایک احتمال یہ ہے کہ راہِ خدا میں ایک اونٹنی دینے والے کو سات سو اونٹنیاں دینے کا اجر ملے گا جبکہ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے ظاہر پر ہے اور یہی بات زیادہ واضح ہے کہ راہِ خدا میں مہار والی ایک اونٹنی دینے والے کوجنت میں سات سو مہار والی اونٹنیاں دی جائیں گی جن پر سوار ہوکر وہ سیر وتفریح کے لئے جنت میں جہاں چاہے گا جایا کرے گا۔“مدنی گلدستہ’’کعبہ ‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جہاد،حج یا عمرہ کرنے کے لئے گھوڑا رکھا تو اس کے چارہ ، لیدا ورپیشاب کے بدلے بھی اجر وثواب ہے۔
(2) میزان برحق ہے اور بروزِ قیامت اس میں بندوں کے اعمال تولے جائیں گے ۔
(3) قیامت کے دن نیکیوں کا وجود ہوگا،و ہ وزنی اور دِکھنے ومعلوم ہونے والی ہوں گی جس کے اعمال حسنہ جتنے زیادہ ہوں گے نیکیوں کا پلہ اتنا ہی بھاری ہوگا۔
(4)
اﷲ تعالیٰبطورِ اعزاز اہلِ جنت کو سواری کے لئے گھوڑےاور تیز رفتار اونٹنیاں عطا فرمائے گا۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائی عطافرمائے اورہماراخاتمہ ایمان پرفرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1331