Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1338

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی يَحْيٰى خُرَيْـمِ بْنِ فَاتِكٍ رَضِيَ اللَّه ُعَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ اَنْفَقَ نَفَقَةً في سَبِيْلِ اللَّهِ كُتِبَ لَهُ سَبْعُ مِائِةِ ضِعْفٍ.

عن ابی يحيى خريـم بن فاتك رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من انفق نفقة في سبيل الله كتب له سبع مائة ضعف.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو یحییٰ خریم بن فاتکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں کوئی بھی چیز خرچ کی اس کے لئے سات سوگُنا اجر لکھا جائے گا۔ “

شرح حدیث

راہِ خدا میں خرچ کرنےکی صورتیں:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ﷲ کی راہ میں خرچ سے مراد ہر دینی کام میں خرچ ہے جہاد ہو یا حج یا طلبا و علما کی خدمت،زکوٰۃ، فِطرہ، قربانی اور تمام نفلی صدقات کہ اُن کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہے۔اس حدیث کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہے:﴿ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱)﴾(پ۳،البقرۃ:۲۶۱) (ترجمۂ کنزالایمان:ان کی کہاوت جو اپنے مالاﷲکی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اوراﷲاس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کیلئے چاہے اوراﷲوسعت والاعلم والا ہے۔)ثواب کے یہ مختلف درجے اِخلاص کے درجوں کے لحاظ سے ہیں اور جہاں خرچ کیا اس کی اہمیت کے اعتبار سےبھی،اس کے خروج (خرچ کرنے)سے جتنا دین کو فائدہ ہوگا اتنا ہی ثواب زیادہ۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں کوئی چیز خرچ کرے خواہ وہ چیز تھوڑی ہو یا زیادہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاسےکم سے کم سات سو گُنا اجر عطا فرماتا ہےاوراﷲ عَزَّ وَجَلَّاس سے بھی زیادہ بڑھاتا ہے جس کے لیے چاہے۔“مدنی گلدستہ’’غارِ حرا‘‘کے6حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
جو مجاہدین کے لئے سامانِ جہاد تیار کرے اسے بھی جہاد کرنے والوں کے ثواب سے حصہ ملتاہے ۔
(2) تیراندازی علومِ شرعیہ میں سے ہے ،اس نعمت کوسیکھنے کے بعدبلا عذراسے چھوڑنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ نعمت کی ناشکری اور ناقدری ہے۔
(3) جو کوئی عربی کمان اور ترکش اپنے پاس رکھے
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس سے محتاجی دور فرمادیتا ہے۔
(4) راہِ خدا میں تیر پھینکنے والے کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے چاہے وہ نشانے پر لگے یانہ لگے۔
(5) راہِ خدا میں پھینکا ہوا تیر بروزِ قیامت نور ہوگا ۔
(6) راہِ خدا میں خرچ سے مراد ہر دِینی کام میں خرچ کرنا ہےخواہ وہ جہاد ہو یا حج یا طلبا و علما کی خدمت یونہی زکوٰۃ، فطرہ، قربانی اور تمام نفلی صدقات بھی اس میں داخل ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اَعمال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1338