Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1343

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی مُوْسٰى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ اَعْرَابِيًّا اَتَی النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:يَارَسُوْلَ اللَّهِ!الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَالرَّجُلُ يُقاتِلُ لِيُرٰى مَكَانُهُ.وَفِی رِوَايةٍ:يُقاتِلُ شُجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً. وَفِی رِوَايةٍ:وَيُقَاتِلُ غَضَبًا فَمَنْ فِی سَبِيلِ اللَّهِ؟فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّه هِيَ الْعُلْيا فَهُوَ فِی سَبِيْلِ اللَّهِ .

عن ابی موسى رضي الله عنه ان اعرابيا اتی النبي صلى الله عليه وسلم فقال:يارسول الله!الرجل يقاتل للمغنم والرجل يقاتل ليذكر والرجل يقاتل ليرى مكانه.وفی رواية:يقاتل شجاعة ويقاتل حمية. وفی رواية:ويقاتل غضبا فمن فی سبيل الله؟فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو فی سبيل الله .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے بارگاہ ِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی : یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ایک شخص غنیمت حاصل کرنے کے لئے لڑتاہے، ایک ناموری کےلئے لڑتاہے اورایک اپنا مقام لوگوں پرظاہر کرنے کےلئے لڑتاہے۔ ایک روایت میں ہے کہ” ایک شجاعت دکھانے کے لئے لڑتاہے اور ایک تعصب کے لئےلڑتاہے۔“ایک روایت میں ہے کہ ”ایک غصہ کی وجہ سےلڑتاہے توان میں سےکوناﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں ہے؟“پیارے آقاصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” جو اس لئے لڑے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکاکلمہ بلند ہو تو وہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں ہے۔“

شرح حدیث

اچھی نیت سے اَعمال اچھے بنتے ہیں:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:(1)کَلِمَۃُاﷲسے مراد اسلام کی دعوت یالَا اِلٰہَ اِلَّااﷲہے۔ (2)نیک اَعمال اچھی نیت سے ہی نیک بنتے ہیں۔(3)عبادت میں اِخلاص شرط ہے،جس عمل سے فقط کوئی دُنیوی غرض مقصود ہو تووہ عمل ضائع ہوجاتاہے اوراگردِینی و دُنیوی دونوں اَغراض شامل ہوں لیکن دِینی غرض زیادہ قوی ہوتو جمہور کے نزدیک وہ عمل درست ہے۔(4)جہاد کی فضیلت کا حقدار وہی مومن ہے جوفقط دِینِ اسلام کی سربلندی کے لئے لڑے۔(5)حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فصاحت و بلاغت کا اعلیٰ مرتبہ عطا فرمایا گیا،آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کلام میں ایسی جامعیت ہےکہ ایک مختصر جملے سے دِین ودنیا کے بے شمار عُقدے حل ہوجاتے ہیں۔ “جنگ کے پانچ اَسباب:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:یہ حدیثِ پاک مختلف الفاظ سےمروی ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جنگ کے پانچ اَسباب ہیں:(1)مالِ غنیمت کا حصول(2)بہادری کا اظہار(3)دکھاوا (4)غیرت وحمیت اور(5)غصہ ۔ان تمام میں سے ہر سبب اچھابھی ہوسکتا ہے اور بُرابھی(اگر یہ سب کاماﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے ہوں تو اچھے اور اگر دنیوی غرض کے لئے ہوں تو بُرے ) اسی لئے حدیثِ مذکور میں سائل کو ہاں یا نہ کے ساتھ جواب نہیں دیا گیا ۔ناقص عمل ؟ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا عُبَادَہ بن صَامِتْرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا: ’’اگر میں اس طرح جہاد کروں کہ رضائے الٰہی کے علاوہ لوگوں سے تعریف کا بھی طلبگار ہوں تو اس طرح کرنا کیسا ہے ؟‘‘ فرمایا: تجھے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اس نے تین مرتبہ یہ بات دُہرائی آپ نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا پھرفرمایاکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:’’میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔‘‘نیک عمل کے ذریعے اپنی تعریف نہ چاہو:ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُناسَعِیْد بِن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا کہ ایک شخص نیکی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی تعریف بیان کی جائے اوراسے ثواب بھی ملے ؟ فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم پراﷲ عَزَّ وَجَلَّکا غضب ہو؟ عرض کی: نہیں۔ فرمایا:” جباﷲ عَزَّ وَجَلَّکے لئے عمل کرو تو خالص اُسی کے لئے کرو۔مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننےحدیثِ مذکور کی جو شرح بیان فرمائی اس کا خلاصہ یہ ہےکہ ” صرف مالِ غنیمت حاصل کرنے یا ملک جیتنے اور وہاں راج کرنے کی نیت سے جہادنہ ہو جیسا کہ آج کل عمومًا جنگ کے وقت ملک وقوم کی خدمت کا نام لیتے ہیں،اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے دین کی خدمت کا ذکر تک نہیں کرتے اس سے بچنا چاہیے۔صوفیا کے نزدیک جنت حاصل کرنے یا دوزخ سے بچنے کے لیے بھی عبادت نہ کی جائے،صرف جنت والے ربّ کو راضی کرنے کے لیے عبادت کرنی چاہیے،جب وہ راضی ہوگیا تو سب کچھ مل جائے گا۔رضا ئے ∞الٰہیکے لئے کفار کو اپنی شجاعت دکھانا ، ان کے مقابلے میں اپنی شان و بہادری بیان کرنا عبادت ہے ۔خدمتِ دِین کے ساتھ مالِ غنیمت کی نیت بھی ہونانقصان دہ نہیں مگر کمال اس میں ہے کہ خالص خدمتِ دِین کی نیت ہو، غنیمت بلکہ جنت حاصل کرنے کا بھی ارادہ نہ ہو۔∞“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1343