Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1287

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ اَيُّ الْعَمَلِ اَفْضلُ ؟ قَالَ:الْاِ يْمَانُ بِاللهِ وَالْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِهِ.

عن ابي ذر رضي الله عنه قال:قلت: يا رسول الله اي العمل افضل ؟ قال:الا يمان بالله والجهاد في سبيله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غفاریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کون سا عمل افضل ہے؟‘‘ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لانا اور راہِ خدا میں جہاد کرنا۔“

شرح حدیث

افضل ایمان کون ساہے؟مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:”ایمان وہ افضل جس پر خاتمہ نصیب ہوجائے ورنہ محض بے کار ہے جیسے ابلیس کا برباد شدہ ایمان اور جہاد میں کفار سے جہاد بھی شامل ہے اور مجاہدات ریاضات بھی داخل ہیں۔“
علامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیحدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں:”جہاد کو ایمان کے ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ (زمانۂ رسالت میں)لوگوں پراﷲکی راہ میں جہاد کرنا ضروری تھا تاکہاﷲکا دِین غالب ہو اور اُس وقت جہاد سب اعمال سے افضل تھا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1287