Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1312

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَااَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:يَغْفِرُ اللهُ لِلشَّهِيْدِ كُلَّ ذَنْبٍ اِلَّاالدَّيْنَ.

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهماان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:يغفر الله للشهيد كل ذنب الاالدين.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّقرض کے سوا شہید کے تمام گناہ بخش دیتاہے۔“

شرح حدیث

کونسا قرض گناہ ہے؟مرآۃُ المناجیح میں ہے:”(اﷲ عَزَّ وَجَلَّقرض کے سوا شہید کے تمام گناہ بخش دیتاہے) یہ استثناءِ مُنقطع ہے کیونکہ قرض لینا گناہ نہیں ورنہ انبیاءِ کرام(عَلَیْہِمُ السَّلَام) خصوصًا حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنہ لیتے اور ہوسکتا ہے کہ قرض سے مراد ناجائز قرض لینا ہو، حرام رسوم میں خرچ کرنے کے لیےیا لوازِمِ قرض مراد ہوں یا بِلاعُذر ٹال مٹول کرنا،وقت پر ادا نہ کرنا،جھوٹے وعدہ کرنا وغیرہ تب مُستثنٰی مُتصل ہے مگر پہلے معنیٰ زیادہ قوی ہیں کہ یہ گناہ تو حج سے بھی معاف ہوجاتے ہیں تواِنْ شَآءَ اﷲجہاد سے بھی معاف ہوں گے۔سمندرمیں شہادت کی فضیلت:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: یہاں قرض سے مراد اموال ،خون اور عزتوں سے متعلق بندوں کی حق تلفیاں ہیں جو شہادت سے معاف نہیں ہوتیں،اسی بات کو بعض شارحین نے بھی بیان کیا ہے۔حضرت ابنِ ملکرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ یہاں خشکی پر ہونے والاشہیدمرادہےجہاں تک سمندرمیں شہید ہونے والوں کا تعلق ہے تو ابنِ ماجہ میں حضرت سَیِّدُنا ابو امامہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”سمندر میں شہید ہونے والے کے قرض سمیت تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1312