Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1298

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَ يْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قِيْلَ:يَارَسُوْلَ اللهِ مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ؟ قَالَ:لَا تَسْتَطِيْعُوْنَهُ فَاَعَادُوْا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ اَوْ ثَلاَثاً كُلُّ ذٰلِكَ يَقُولُ:لَا تَسْتَطِيْعُوْنَهُ! ثُمَّ قَالَ:مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ كَمَثلِ الصَّائِـمِ الْقَائِـمِ الْقَانِتِ بِاٰيَاتِ اللهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَّلَا صَلَاةٍ حَتّٰى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.( ) وَهٰذَا لَفْظُ مُسْلِـمٍ.وَفِيْ رِوَايَةِ الْبُخَارِيْ:اَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَارَسُوْلَ اللهِ دُلَّنِيْ عَلٰی عَمَلٍ يَّعْدِلُ الْجِهَادَ ؟ قَالَ : لَا اَجِدُهُ ثُمَّ قَالَ :هَلْ تَسْتَطِيْعُ اِذَا خَرَجَ المُجَاهِدُ اَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتقومَ وَلاَ تَفْتُرَ وَتَصُومَ وَلَا تُفْطِرَ ؟ فَقَالَ : وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذٰلِكَ ؟

عن ابي هر يرة رضي الله عنه قال:قيل:يارسول الله ما يعدل الجهاد في سبيل الله؟ قال:لا تستطيعونه فاعادوا عليه مرتين او ثلاثا كل ذلك يقول:لا تستطيعونه! ثم قال:مثل المجاهد في سبيل الله كمثل الصائـم القائـم القانت بايات الله لا يفتر من صيام ولا صلاة حتى يرجع المجاهد في سبيل الله.( ) وهذا لفظ مسلـم.وفي رواية البخاري:ان رجلا قال: يارسول الله دلني علی عمل يعدل الجهاد ؟ قال : لا اجده ثم قال :هل تستطيع اذا خرج المجاهد ان تدخل مسجدك فتقوم ولا تفتر وتصوم ولا تفطر ؟ فقال : ومن يستطيع ذلك ؟

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: ”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کون سا عمل راہِ خدا میں جہاد کے برابر ہے؟“آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔“صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے دو یا تین مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس جیسی ہے جودن میں روزہ دار اور رات کواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی آیات کے ساتھ قیام کرنے والا ہو۔نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے حتّٰی کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرنے والا لوٹ آئے۔“یہ مسلم کے الفاظ ہیں۔بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھےایسے عمل کے بارے میں بتایئے جو جہاد کے برابر ہو؟‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”میں ایسا عمل نہیں پاتا۔“پھرفرمایا:” کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ جب مجاہد گھر سے نکلے اور تم مسجد میں داخل ہوکر عبادت کے لیے کھڑے ہوجاؤ اورکمی نہ کرواور روزے رکھو اور افطار نہ کرو۔“اس شخص نے عرض کی: اس کی طاقت کون رکھے گا ؟

شرح حدیث

مجاہد کے ہر کام بلکہ آرام پربھی ثواب:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جب مجاہداﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کے لیے گھر سے نکلتا ہے اور پھر جہاد کرکے واپس آتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس دوران وہ ہر وقت جہاد میں مصروف نہیں رہتا بلکہ اس کے اوقات کا کچھ حصہ جہاد سے خالی بھی گزرتا ہے کہ جس میں وہ کھانے ،سونے اور ایسے ہی دوسرے کاموں میں مصروف ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس شخص کے حکم میں ہے جس کی عبادت میں کوئی وقفہ نہیں ہوتااور مجاہد کی ہرحرکت اور آرام پر ہمیشہ ثواب لکھا جاتا ہے۔“مجاہدفی سبیل ﷲ کی شان:علامہ سید محمود احمد رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مجاہد کی مثال ایسی ہے جیسے کوئیاﷲکی اطاعت میں اس طرح مشغول ہو کہ وہ ہمیشہ روزہ میں رہےکبھی افطار نہ کرے اور ہمیشہ نماز میں رہے کبھی نماز سے باہر نہ ہو ظاہر ہے کہ اس شان سے عبادات میں مشغولیت کی طاقت بہت مشکل ہے لیکن مجاہدفِی سَبِیْلِ اﷲکی شان یہی ہے کہ وہ ہمہ وقت چوکنا رہتا ہے اور دشمن کے حیلے بہانوں اور جنگی چالوں کی ہر ممکن طریقہ سے خبر رکھتا ہے اور یہ بات مجاہد کی خصوصیات سے ہے اور بہت فضیلت رکھتی ہے۔“نُزہۃُ القاری میں ہے: ”اس (حدیث)کا مفاد یہ ہے کہ مجاہد جس وقت اپنے گھر سے جہاد کرنے کے لئے نکلتاہے،ہر آن ہر لحظہاﷲکی عبادت میں رہتاہے ، اس کا سونا جاگنا ،کھانا پینا سب عبادت ہے ، یہاں تک کہ گھوڑے کو کھلانا پلانا اسے چَرانا، اس کی لید اٹھاناسب عبادت ہے ،حتّٰی کہ گھوڑا چلنے کے لئے جوقدم اٹھاتاہے ہر قدم پرمجاہد کے لئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں ،اس لئے مجاہد کے برابر وہی ہوسکتا ہے جوچوبیس گھنٹے نمازیں پڑھتا رہے، یاکوئی بھی عبادت کرتارہے، ایک آن کے لئے دم نہ لے اور اس کی کوئی استطاعت نہیں رکھ سکتا اس لئے جہاد کے برابر کوئی عمل نہیں۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1298