Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1310

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَراءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بالْحَدِيْدِ فَقَالَ:يَا رَسُوْلَ اللهِ اُقَاتِلُ اَوْ اُسْلِمُ ؟ قَالَ : اَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ . فَاَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: عَمِلَ قَلِيْلًا وَاُجِرَ كَثِيْرًا.

عن البراء رضي الله عنه قال: اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل مقنع بالحديد فقال:يا رسول الله اقاتل او اسلم ؟ قال : اسلم ثم قاتل . فاسلم ثم قاتل فقتل. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عمل قليلا واجر كثيرا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا بَراء بن عازبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا جس نے لوہے کا خود پہنا ہواتھا،عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں جہاد کروں یا اسلام قبول کروں؟‘‘ارشاد فرمایا:”پہلے اسلام لاؤپھر جہاد کرو۔“چنانچہ وہ شخص ایمان لایااور جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا ،رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اس نے عمل کم کیااور اجربہت پایا۔“

شرح حدیث

اعمال کی مقبولیت کے لیے ایمان شرط ہے:علّامہ سید محمود احمد رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث سے واضح ہوا کہ اعمالِ صالحہ کی مقبولیت کے لیے ایمان شرط ہے لہٰذا غیر مسلم کا کوئی عملِ نیکاﷲتعالیٰ کے ہاں نہ مقبول ہے اور نہ اس کو ثواب ملے گا۔حضورِ اقدسصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان کے حق میں فرمایا کہ انہوں نے عمل تو کم کیا اور ثواب بہت پایا۔یہاﷲتعالیٰ کا اپنے بندوں پر خاص فضل وکرم اور احسان ہے اگرچہ ایمان لانے کے بعد کوئی ایک سجدہ کرنے کی مہلت نہ پائےتو اسے ہمیشہ کے لیے جنت الفردوس میں داخل فرمادے۔ان صاحب نے ایمان کےبعد جہاد میں حصہ لیا جو افضلُ الاَعمال ہے اور پھر شہید ہوگئے ۔اﷲکی طرف سے ان کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔“نیت سے نفع:علّامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث شریف میں مذکور شخص کا نام عمرو بن ثابت اشہلی ہے۔اس کا عجیب وغریب واقعہ ہے کہ وہ شخص جنت میں جائے گا حالانکہ اُس نے ایک نماز بھی نہ پڑھی ہوگی اور وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہے گا اور اس کی نیت سے اس کو نفع حاصل ہوگا ۔اسی طرح کافر کا حال ہے کہ اگروہ کفر کی حالت میں مرجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہے گاکیونکہ اس نے کفر کا اعتقاد کررکھا تھا کہ وہ اپنی ساری زندگی کفر کرتا رہے گااور یہ اُس کے مُخلَّد فی النار(ہمیشہ جہنمی)ہونے کا سبب ہے۔“فقیہِ اعظم، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یہ قصہ غزوۂ اُحد کا واقعہ ہے ۔یہ عجیب خوش بخت انسان تھے کہ ایک سجدہ بھی نہیں کیا اور جنت میں داخل ہوگئے ۔اجرِ کثیر ان کا یہ ہے کہ ہمیشہ ہمیش جنت میں رہیں گے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1310