Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1308

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ فَتًى مِّنْ اَسْلَمَ قَالَ: يَارَسُوْلَ الله اِنِّيْ اُرِيْدُ الْغَزْ وَ وَ لَيْسَ مَعِيَ مَا اَتَجَهَّز ُ بِهِ قَالَ:ائْتِ فُلاَنًا فَاِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ فَمَرِضَ فَاَتَاهُ فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: اَعْطِنِي الَّذِي تَجَهَّزْتَ بِهِ قَالَ: يَافُلَانَةُ اَعْطِيْهِ الَّذِي تَجَهَّزْتُ بِهِ وَلَا تَحْبِسِيْ مِنْهُ شَيئاً فَوَاللهِ لَا تَحْبِسِيْ مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارَكَ لَكِ فِيْهِ.

عن انس رضي الله عنه ان فتى من اسلم قال: يارسول الله اني اريد الغز و و ليس معي ما اتجهز به قال:ائت فلانا فانه قد كان تجهز فمرض فاتاه فقال: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرئك السلام ويقول: اعطني الذي تجهزت به قال: يافلانة اعطيه الذي تجهزت به ولا تحبسي منه شيئا فوالله لا تحبسي منه شيئا فيبارك لك فيه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:” قبیلۂ اسلم کے ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس سامانِ جہاد نہیں۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”فلاں کے پاس جاؤاس نے سامانِ جہاد تیارکیا ہے مگر وہ بیمار ہوگیا ۔“چنانچہ وہ اس شخص کے پاس گیا اورکہا:رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم نے جہادکے لئے جو سامان تیار کیا ہے وہ مجھے دے دو۔یہ سن کر اُس نے کہا: اے فلانی!میں نے جہاد کے لیے جو سامان تیار کیا ہے وہ اسے دے دو، کچھ بچاکر نہ رکھنا، بخدا! اس میں سے کچھ نہ بچانایہ گمان کرتے ہوئےکہ تجھے اس میں برکت دی جائے گی (یعنی اس میں ہرگز برکت نہ ہوگی )۔“

شرح حدیث

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک میں نیکی پر دلالت کرنے کابیان ہے اور اس کا بھی کہ جوکسی نیک کام میں مال خرچ کی نیت کرے پھربااَمرِ مجبوری وہ کام نہ کر سکے تو مستحب ہے کہ وہ کسی دوسرے نیک کام میں خرچ کرے مگر یہ اس پر واجب نہیں، ہاں ! نذر مانی ہو تو لازم ہے۔اور جو مال مالک کی رضا والے کاموں میں خرچ نہ ہو اس میں برکت نہیں ہوتی۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1308