Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1335

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَقُوْلُ:اِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِی صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِی بِهِ وَمُنْبِلَهُ وَارْمُوْا وَارْكَبُوْا وَاَنْ تَرْمُوْا اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ اَنْ تَرْكَبُوْا وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بعْدَ مَا عُلِّمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَاِنَّهَا نِعْمَةٌ تَرَكَهَااَوْ قَالَ كَفَرَهَا.

عن عقبة بن عامر الجهني رضي اﷲ عنہ قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:ان الله يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة صانعه يحتسب فی صنعته الخير والرامی به ومنبله وارموا واركبوا وان ترموا احب الي من ان تركبوا ومن ترك الرمي بعد ما علمه رغبة عنه فانها نعمة تركهااو قال كفرها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عُقبہ بن عامرجہنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّایک تیر کی وجہ سے تین شخصوں کو جنت میں داخل فرمائے گا: (1) خیر کی امید پرتیر بنانے والا(2)تیر پھینکنے والااور(3)تیردینے والا۔ پس تیر چلاؤ اور گُھڑ سواری کرو اورتمہارا تیر چلانا مجھے تمہاری گُھڑ سواری سے زیادہ محبوب ہے، اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد بے رغبتی سے اسے چھوڑ دیا تویہ ایک نعمت تھی جسے اُس نے چھوڑ دیا یا (فرمایا) اس کی ناشکری کی۔‘‘

شرح حدیث

تیر بنانے والا ثواب کامستحق کب ہوتاہے؟مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”مجاہد جو تیر کفار پر چلائے تو اس کے ایک تیر کی برکت سے تین مسلمان جنتی ہوجاتے ہیں۔یہاں تین شخصوں سے مراد تین مسلمان ہیں کیونکہ کافر جنت میں نہیں جاسکتا۔یہ اسلام کی قید اگلے مضمون سے بھی ظاہر ہے اور تیر سے مراد مردِ مجاہد کا تیر ہے نہ کہ شکار کا تیر۔ کاریگر تیر ساز ثواب کا جب مستحق ہے جب کہ جہاد کی نیت سے تیر بنائے صرف تجارت کی نیت نہ ہو ہر جگہ نیت کو بڑا دخل ہے۔“مجاہد کو تیر دینے کی صورتیں:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”تیر دینے والے سے مراد وہ شخص ہے جو تیر پھینکنے والے کے ساتھ یا پیچھے کھڑا ہوکر اسے تیر دیتا رہے یا پھینکاہوا تیر لا کر دے۔امام منذریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں مراد وہ شخص ہو جو مجاہدکو سامانِ جہاد دے کر اس کی مدد کرے یا اسے تقویت پہنچائے۔“شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”تیر دینے سے مراد یہ ہے کہ تیر اندازی کرنے والے مجاہد کو پہلے ہی تیر مہیا کر دے یاساتھ ساتھ دیتا رہے یا چلایا ہوا تیر اٹھا کر لادے۔ایک حدیث پاک میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُتیر چلاتے تھے اور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانہیں تیر پکڑاتے تھے۔“تیر اندازی گُھڑ سواری سے زیادہ نفع مند:” تیر چلاؤ اور گھُڑ سواری کرو اورتمہارا تیر چلانا مجھے گُھڑسواری سے زیادہ محبوب ہے۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”اس سے مراد یہ ہے کہ صر ف پیدل تیر اندازی کی مشق نہ کرو بلکہ سواری پر تیر چلانا بھی سیکھو یا یہ مطلب ہے کہ صرف تیر اندازی کی مشق نہ کرو بلکہ گھڑ سواری بھی سیکھو۔تیر اندازی کو گھڑ سواری سے اچھاکہا گیا ہے کیونکہ گھڑ سواری سے مراد نیزہ بازی ہے کہ عموماً گھوڑے پر سوار ہوکر دشمن کو نیزے مارے جاتے ہیں جبکہ تیر اندازی پیدل ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ نیز ہ بازی سے تیر اندازی زیادہ پیاری ہے کہ تیر اندازی جہاد میں زیادہ نفع مند ہے یا یہ مطلب ہے کہ گھڑ سواری کی مشق سے تیر اندازی کی مشق زیادہ اچھی ہے کیونکہ گھڑ سواری سے کبھی فخرورِیا بھی پیدا ہوجاتےہے۔“نعمت کی قدر کرنی چاہئے:مرآۃ المناجیح میں ہے:”جسے یہ فن (تیراندازی وغیرہ )آتے ہوں پھر وہ ان کی مشق چھوڑ دے جس کی وجہ سے وہ بھول جائے تو اس نے ربّ تعالیٰ کی نعمت کی ناقدری کی اور وہ ناشکری کا مُرتکب ہوا لہٰذا گنہگار ہوگا جیسے کوئی قرآنِ مجید حفظ کرکے بھول جائے سُستی کی وجہ سے یوں ہی دینی علم حاصل کرکے بھول جانا بھی گناہ ہے جب کہ اپنی سُستی کی وجہ سے ہو ،نعمت کی قدر چاہیے۔“
دلیل الفالحین میں ہے:”تیراندازی علومِ شرعیہ میں سے ہے ،اس نعمت کوسیکھنے کے بعد لاپروائی اور بے رغبتی کے سبب ایسا نہ چھوڑے کہ اُسے بھول جائےکیونکہ ایسا کرنے کے سبب وہ نعمت کو چھوڑنے والا اور اس کی ناشکری کرنے والا ہےالبتہ کسی مرض وغیرہ عذر کےباعث چھوٹ جائےتو کوئی حرج نہیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1335