Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1333

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُقْبةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْلُ: سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ اَرْضُوْنَ وَيَكْفِيْكُمُ اللَّهُ فَلَا يعْجِزْ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّلْهُوَ بِاَسْهُمِهِ.

عن عقبة بن عامر الجهني رضي اﷲ عنہ قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ستفتح عليكم ارضون ويكفيكم الله فلا يعجز احدكم ان يلهو باسهمه.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا عقبہ بن عامر جہنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:”عنقریب تمہارے لئے کچھ علاقے فتح ہوں گےاوراﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہیں کافی ہے تو تم میں سے کوئی بھی اپنے تیروں کے ساتھ کھیلنے (یعنی مشق کرنے)سے عاجز نہ ہو۔“

شرح حدیث

تیراندازی کی ترغیب:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَہَّابفرماتے ہیں:”اِس حدیث پاک سے باہم تیر اندازی کے مقابلے اور تیر اندازی میں سبقت کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہےنیز اس حدیث میں تیر اندازی کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اسے چھوڑا نہ جائے اگرچہ فتوحات کی کثرت اور دِینِ اِسلام کے غلبہ کے سبب اس سے بے نیازی ہوجائے۔اس حدیث سے اسلحہ سے کھیلنااور باہم مقابلہ کرنا اورگھوڑے دوڑانے وغیرہ کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں جہاد کی مشق اور تیاری کے تحت داخل ہیں یونہی جسم کی ورزش اور اعضا کی ریاضت(مضبوطی وسختی) بھی اس میں داخل ہے۔“تیر اندازی کو لَہْوْ کہنے کی وضاحت:”مرآۃ المناجیح“میں ہے:”تیر اندازی کو لَہْوْ(کھیل)فرمانا رغبت کے لیے ہے یعنی یہ فن عبادت بھی ہے اور دل لگی فرحت و سُرور،قوت و طاقت حاصل ہونے کا ذریعہ بھی لہٰذا اس سے غافل نہ رہو،نفس لَہْوْ یعنی کھیل کود کی طرف راغب ہے،دل عبادت کا خواہاں،تیر اندازی میں یہ دونوں صفتیں موجود ہیں لہٰذا یہاں لَہْوْ سے مراد غفلت کی چیز نہیں بلکہ مراد رغبت کی چیز ہے،صحابہ کرام نے اس حدیث پر عمل کیا اور عہدِ فاروقی میں جنگوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ کاش آج اسکولوں میں بجائے ہاکی کرکٹ اور فٹ بال کے ایسے کھیل کھلائے جائیں جو کھیل بھی ہوں اور ہنر بھی جیسے گھوڑ دوڑ اور نشانہ بازی۔“اہلِ روم کی جنگ عموماً تیراندازی سے ہے:حدیثِ مذکورحضرت سَیِّدُنا عُقبہ بِن عامررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے یوں بھی مروی ہے:”عنقریب تم پر روم فتح کیا جائے گا اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہاری کافی ہے تو تم میں سے کوئی اپنے تیروں کے ساتھ کھیلنے سے عاجز نہ ہو۔“اس حدیثِ پاک کے تحت شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اہلِ روم کی جنگ عموماً تیراندازی سے ہے،اس لیے تمہیں تیراندازی سیکھنا چاہیے،اس کی تیاری اورمشق کروتاکہ رومیوں کے ساتھ جنگ کرسکو اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہیں اُن کے شر سےمحفوظ رکھے۔بعض شارِحین نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ روم کی فتح کے باوجود تیر اندازی ترک نہ کرو اور اس کی مشق مسلسل جاری رکھو اور اس بات پر مغرور نہ ہوجاؤ کہ روم فتح ہوگیا ہےاب تیراندازی کی حاجت نہیں ہے کیونکہ اس کی حاجت دائمی ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1333