Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1346

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرو بْنِ الْعَاص رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ.

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: قفلة كغزوة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جہادکر کے واپس لوٹنا جہاد کی طرح ہے۔“

شرح حدیث

امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:قَفْلَہجہادسے لوٹنے کو کہتے ہیں ۔ مراد یہاں جہاد سےفارغ ہوکر لوٹنا ہے تو حدیث کا مطلب یہ ہےکہ جہاد کرکے واپس آنے پر بھی ثواب ملتاہے۔جہاد سے واپس لوٹنے کی وضاحت:
∞مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”اس فرمانِ عالی کی چند شرحیں ہیں:ایک یہ کہ غازی کا سفرِ جہاد سے اپنے وطن کی طرف لوٹنا بھی وہ ہی ثواب رکھتا ہے جو جہاد میں جانا رکھتا تھا۔دوسرے یہ کہ دشمن کو بہکانے کے لیے میدانِ جہاد سے واپس ہوجانا تاکہ دشمن مطمئن ہوکر تیاریٔ جنگ ختم کردےپھر اچانک پلٹ کر اس پر حملہ کردیا جائے،یہ ایک جنگی چال ہوتی ہے اس کا ثواب پہلی بار میدانِ جہاد میں آنے کی طرح ہے۔تیسرے یہ کہ دشمن کا دباؤ بڑھ جانے اور اسلامی لشکر کے شکست کھاجانے کے یقین ہوجانے پر جہاد کے میدان سے واپس ہوکر اپنے مرکز میں پہنچ جانا اس کا بھی وہی ثواب ہے جو جہاد میں جانے کا ثواب تھا۔چوتھے یہ کہ دوسری تیسری بار جہاد میں جانے کا وہ ہی ثواب ہے جو اول بار جہاد میں جانے کا تھا۔خیال رہے کہ قَفل اورقُفول کے معنی ہیں لوٹنا،واپس ہونا،اس سے ہے قافلہ،سفر میں جانے والی جماعت کو نیک فال کے لیے قافلہ کہاجاتا ہے،یعنی خیریت سے واپس آنے والے مسافروں کی جماعت۔عبادت سے واپس آنے میں بھی ثواب :شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیثِ پاک کا مطلب یہ ہے کہ مجاہد کی وطن کی طرف واپسی جہاد کے لیےروانہ ہونے کے حکم میں ہے یعنی اہل وعیال کی طرف واپسی کا ثواب ، جہاد کے لیے جانے کے ثواب کی طرح ہے، حج کے بارے میں بھی یہی منقول بلکہ ہر عبادت کےلئےیہی فضیلت ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مجاہد کا جہاد کے بعداپنے اہل وعیال کی طرف لوٹنے کا اجر اتنا ہی ہے جتنا جہاد کی طرف جانے کا کیونکہ واپسی میں نفس کے لیے راحت،جہاد کے لیے قوت اور اہل وعیال کے حق کی ادائیگی ہے۔بعض نے کہا اس سے مراد دشمن کا سامنا کرنے کے بعد دوسری مرتبہ اس کی طرف جا ناہے ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1346