Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1319

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ اُمَّ الرُّبَيِّعِ بِنْتَ الْبَرَاءِ وَهِيَ اُمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ اَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللهِ اَلَا تُحَدِّثُنِيْ عَنْ حَارِثَةَ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ فَاِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَ اِنْ كَانَ غَيْرَ ذٰلِكَ اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ فِي الْبُكَاءِ فَقَالَ : يَا اُمَّ حَارِثَةَ اِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ وَ اِنَّ ابْنَكِ اَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْاَعْلَى.

عن انس رضي الله عنه ان ام الربيع بنت البراء وهي ام حارثة بن سراقة اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله الا تحدثني عن حارثة وكان قتل يوم بدر فان كان في الجنة صبرت و ان كان غير ذلك اجتهدت عليه في البكاء فقال : يا ام حارثة انها جنان في الجنة و ان ابنك اصاب الفردوس الاعلى.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ اُمِّ ربیع بنتِ براء یعنی حارثہ بن سراقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی والدہ نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا آپ مجھے حارثہ کے بارے میں نہیں بتائیں گے؟اور وہ بدر کے دن شہید ہوچکے تھے۔اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی اور اگر وہ کسی اور جگہ میں ہے تو اس پر خوب روؤں گی۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اے حارثہ کی ماں!جنت کے مختلف درجے ہیں اور تیرا بیٹا فردوسِ اعلیٰ میں پہنچ چکا ہے۔“

شرح حدیث

جنت کے درجات میں سب سے اُونچا درجہ:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”مقصد یہ ہے کہ حضور میرے بچے حارثہ کا پتہ بتا دیجئے کہ وہ کہاں ہے جنت یا دوزخ میں۔معلوم ہوا کہ حضراتِ صحابہ کرام کا عقیدہ تھا کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّممدینہ منورہ تشریف فرما ہو کر جنت و دوزخ کے ہر مقام اور وہاں کے باشندوں کو دیکھ رہے ہیں،پتا اُس سے پوچھا جاتا ہے جو جانتا ہو۔حضور نے بھی یہ نہ فرمایا کہ مجھے خبر نہیں تیرا بیٹا کہاں ہے حضرت جبرئیل(عَلَیْہِ السَّلَام) آئیں گے تو پوچھ کر بتائیں گے بلکہ فورًا بتادیا جو جنت کو دیکھ رہا ہے وہ زمین کے ذرہ ذرہ کو بھی دیکھ رہا ہے کیونکہ جنت بمقابلہ روئے زمین سے دور ہے،یہ ہی معنیٰ ہیں حاضر ناظر کے،صحابہ کرام کا یہ ہی عقیدہ تھا۔خیال رہے کہ بی بی ربیع کو حضرت حارثہ کے شہید ہونے میں شک تھا کیونکہ وہ کفار سے لڑے بغیر غائبانہ تیر سے شہید ہوئے تھے نہ معلوم وہ تیر کافر نے مارا تھا یا کسی مسلمان کا ہی لگ گیا تھا۔اس نے یہ تَرَدُّد ظاہر کیا،شہید کے جنتی ہونے میں شک نہ تھا کہ یہ تو قرآن مجید سے ثابت ہے خبرِ قرآنی میں کسی مسلمان کو شک و ترددنہیں ہوسکتا۔یہاں رونے سے مراد جائز رونا ہے آنسوؤں سے، نوحہ ماتم مراد نہیں کہ حضراتِ صحابہ اور صحابیات اس سے محفوظ تھے یعنی پھر میں اس محرومی پر روؤں کہ میرا بیٹا جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھا اور جنتی بھی نہ ہوا،اس محرومی پر رونا بھی عبادت ہے،جیسےﷲ کی نعمت پر خوش ہونا عبادت ہے۔ جنت کے سو درجے ہیں اوپر تلے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ جنت کے درجوں میں سب سے اونچا درجہ جنت الفردوس ہے جو سب سے آخری درجہ ہے جس کے اوپر عرشِ الٰہی ہے۔ تیرے بیٹے کو ربّ نے وہ دیاہے کہ اب اس کی روح فردوس کی سیر کررہی ہے،بعدِ قیامت وہ مع جسم اس میں داخل ہوگا۔یہ ہے میرے محبوبصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا علم غیب کہ حضور مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوکر جنت کے ہر طبقہ کے ہر باشندے کو دیکھ رہے ہیں اور آئندہ ہرسعید وشَقی اور ان کے درجوں مرتبوں کو بھی جانتے ہیں۔“غزوۂ بدر میں انصار کے پہلے شہید:شارِحِ بخاری علامہ سید محمود احمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے جب اُمِّ حارثہ سے یہ فرمایا کہ تیرا بیٹا جنت میں ہے وہ ہنستی ہوئی واپس ہوئیں اورکہا:بَخِ بَخِ یَا حَارِثَہ(یعنی واہ واہ اے حارثہ!)۔حارثہ بن سراقہ انصار میں پہلے شخص ہیں جو غزوۂ بدر میں شہید ہوئے۔اس حدیث سے واضح ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو اپنی امت کےنیک اعمال کےاﷲکے ہاں بھی مقبول ہونے کا بھی علم ہے اور یہ بھی علم ہے کہ آپ کی امت کے فلاں شخص کو جنتُ الفردوس میں جگہ عطا ہوئی ہے اور یہ بھی اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے۔“مدنی گلدستہ’’بیتُ اﷲ‘‘کے7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) سرورِ کائنات
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے سب سے پہلےجس غزوہ میں شرکت فرمائی وہ غزوۂ بدر تھا جو ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔
(2) جہاد میں جان کی پروا نہیں کرنی چاہیے اور عہد کو پورا کرنا چاہیےاگرچہ اس کی تکمیل میں جتنی بھی مشقت برداشت کرنی پڑے حتّٰی کہ جان کی بازی لگادینی چاہیے۔
(3) حضرات صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا عقیدہ تھا کہ حضور صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم جنت و دوزخ کے ہر مقام اور وہاں کے باشندوں سے باخبر ہیں ۔
(4)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی نعمت پر خوش ہونا عبادت ہے۔
(5) جنت کا سب سے بلند درجہ جنت الفردوس ہے یہ عرشِ الٰہی کے نیچے واقع ہے ۔
(6) حضور نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر سعیدوشقی کو جانتے ہیں ان کے اعمال سے بھی واقف ہیں ۔
(7) حضرت سَیِّدُنا حارِثہ بن سُراقہ
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُوہ پہلے انصاری صحابی ہیں جو غزوۂ بدر میں شہید ہوئے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ایمان و عافیت کے ساتھ شہادت کی موت نصیب کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1319