Main Icon

کمزور مسلمانوں کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 252

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ علَيْهِ وَسَلَّم يقولُ : اَلَااُخْبِرُكُمْ بِاَهْلِ الجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ اَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَاَبَرَّهُ اَلَا اُخْبِرُكُمْ بِاَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ .( )

عن حارثة بن وهب رضي الله عنه ، قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : الااخبركم باهل الجنة كل ضعيف متضعف لو اقسم على الله لابره الا اخبركم باهل النار كل عتل جواظ مستكبر .( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا حارثہ بن وہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’ کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کی خبر نہ دوں؟ہرکمزورجسے کمزورسمجھا جائے اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ (کے کرم)پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے گا۔ کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کی خبر نہ دوں؟ہر وہ شخص جوسخت مزاج ، بخیل اورخود کو بڑا سمجھنے والا ہو۔ ‘‘

شرح حدیث

مشکل الفاظ کے معانی : اَلْعُتُلُّیعنی سخت مزاج۔ اَلْجَوَّاظُیعنی مال جمع کرنے اور اس میں بخل کرنے

والا۔ بعض شارِحِین کے نزدیک اِس سے مراد وہ شخص ہے جو اکڑ کر چلتا ہو اور بعض کے نزدیک اِس سے مراد وہ شخص ہے جو چھوٹے قد والا اور بڑے پیٹ والا ہو۔
’’ضَعِيْف‘‘ یعنی کمزورکے معنی:شارِحین نے حدیثِ پاک کے لفظ ضَعِيْفیعنی کمزورکے مختلف معانی بیان فرمائے ہیں ، اِن میں زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اِس سے وہ شخص مراد ہے جس میں تکبر اور ظلم و جبر نہ ہو۔ چنانچہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’زیادہ ظاہر یہ ہے کہ ضعیف سے مراد وہ شخص ہے جو متکبر اور ظالِم وجابِر نہ ہو۔ ‘‘( )رب تعالیٰ کو طاقتور مسلمان پسند ہیں:معلوم ہوا کہ یہاں کمزورسے مراد وہ شخص نہیں جو جسمانی اعتبار سے کمزور ہو اور اس میں طاقت و قوت نہ ہو کیونکہ قوی اور طاقتورمسلمان تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پسندیدہ ہیں۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’طاقتور مومن بہتر ہے اور وہ کمزور مومن سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پسندیدہ ہے۔ ‘‘( )
مُفَسِّرِ شَھِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْر حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں کہ ’’تندرستی و صحت اور مضبوط بدن والا مسلمان کمزور بیمار مُسلمان سے زیادہ اچھا ہے کہ تندرست مسلمان نماز وروزہ حج بلکہ جہاد وغیرہ عبادات بے تکلف کرسکتا ہے۔ لہٰذا مسلمان بیمار رہنے کی تمنا نہ کرے بیماری کا فوراً علاج کرکے تندرست ہوجائے۔ ‘‘( )
’’ مُتَضَعَّف‘‘کمزور سمجھا جانے والا شخص:علامہ بدرُ الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’مُتَضَعَّفسے مراد وہ شخص ہے جسے لوگ کمزور

سمجھتے ہوں اور اس کا دُنیوی حال اچھا نہ ہونے کی وجہ سے اسے حقیر بھی جانتے ہوں۔ ‘‘( )
شارِحین نے اِس لفظ کا ایک اِعراب ’’مُتَضَعِّف‘‘بھی بیان کیا ہے ، اِس صورت میں اس سے مراد وہ شخص ہو گا جومسلمانوں کے ساتھ عاجزی و اِنکساری سے پیش آئے اگرچہ وہ اپنے دشمنوں(یعنی کفار)کے ساتھ طاقت و قوت کا مظاہرہ کرے(اِس کی تائید اِس آیت سے ہوتی ہے جس میں) ارشاد ہوتاہے :
وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ)پ۲٦∞ ، الفتح : ۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔
ایک اور آیتِ مبارکہ میں ارشاد ہوتاہے :
اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ٘-(پ۶ ، المائدہ : ۵۴)
ترجمۂ کنزالایمان : مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت۔
یہ لکھنے کے بعد حضرت سَیِّدُنا ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اس میں اشارہ ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے ساتھ جتنا زیادہ عاجزی اور انکساری سے پیش آئے گا وہ اتنا ہی زیادہ مقرب بندوں کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوگا اور جو جتنا زیادہ تکبر اور ظلم کرے گا وہ اتنا ہی زیادہ پست مقام پر ہو گا۔ ‘‘( )
دینی اعتبار سے مضبوط مسلمانو ں کا مقام:اس حدیث پاک میں دنیوی اعتبار سے کمزور ، غریب اور گمنام جبکہ دینی اعتبار سے مضبوط مسلمانوں کی فضیلت اور اُن کا مقام و مرتبہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ جنتی لوگوں میں سے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ایسے بلند مقام پر فائز ہیں کہ اگر وہ اس کے فضل وکرم پر اعتماد کرتے ہوئے کسی کام کے متعلق قسم کھا لیں مثلًا اگر وہ کسی سے کہہ دیں کہ خدا کی قسم! تیرے ہاں بیٹا ہوگا ، یا خدا کی قسم! آج بارش ہو گی ، یا خداکی قسم! فلاں اسلامی لشکر کو فتح حاصل ہوگی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی قسم ضرور پوری فرمادے گا اور ضرور اس کے ہاں بیٹا ہوگا ، ضروراس دن بارش ہو گی ، ضرور لشکر اسلام کو فتح حاصل ہو گی ، یونہی اگر وہ کسی کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کر دیں

تووہ ان کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔ ان کے فضائل پرمشتمل تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’کیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں جو جنت کے بادشاہ ہیں؟‘‘ عرض کی گئی : ’’کیوں نہیں۔ ‘‘ فرمایا’’وہ کمزور اور ناتواں شخص(جنت کا بادشاہ ہے)جو پھٹے پرانے کپڑے پہنتا ہو اور لوگ ا س کی پرواہ نہ کرتے ہوں لیکن اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بھروسے پر کسی چیز کی قسم کھا لے تووہ اسے پورا فرما دے گا۔ ‘‘ ( ) (2)’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب بندے وہ ہیں جو پرہیز گار اور کم مال والے ہیں ، جب وہ غائب ہو جائیں تو انہیں تلاش نہ کیا جائے اور جب وہ حاضر ہوں تو انہیں پہچانا نہ جائے ، یہی لوگ ہدایت کے امام اور علم کے چراغ ہیں۔ ‘‘ ( ) (3)’’میرے نزدیک قابل رشک مسلمان وہ ہے جس کے پاس دنیا کا مال بہت کم ہو ، کثرت سے نماز پڑھتا ہو ، لوگوں سے اس کا حال چھپا ہوا ہو ، لوگ ا س کی کچھ پرواہ نہ کرتے ہوں ، گزارے کے مطابق ملنے والی روٹی پر قناعت کرتا ہو ، اس کی موت جلد آ جائے ، اس کے وارث اور اس پر آنسو بہانے والے افراد زیادہ نہ ہوں۔ ‘‘( )
جنت اور جہنم میں داخل ہونے والے اکثرافراد:مذکورہ حدیث پاک میں جنت اور جہنم میں داخل ہونے والے دو طرح کے لوگوں کا ذکر ہے اور مراد یہ ہے کہ جنت اور جہنم میں داخل ہونے والے زیادہ تر لوگ ان دو قسموں کے ہوں گے ، چنانچہ علامہ بد ر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں : ’’یہاں مراد یہ ہے کہ اکثر اہل جنت اور اکثر اہل جہنم یہ لوگ ہوں گے ، یہ مراد نہیں ہے کہ صرف ان دونوں قسموں کے تمام افراد جنت اور جہنم میں داخل ہوں گے ، اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر کمزور اہل جنت میں سے ہے اور اس کا عکس لازم نہیں آتا(یعنی اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ جو کمزور نہ ہو وہ جنتی نہیں) اور یہی معاملہ اہل نار کا ہے( کہ بد زبان ، بخیل اور متکبر جہنم میں جائے گا لیکن اس کا عکس لازم نہیں کہ جو ایسا نہ ہو وہ جہنم میں نہ جائے گا)۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’اولیاء ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بعض برگزیدہ بندوں کو یہ شان بھی عطا فرماتا ہے کہ جب وہ کسی بات پر قسم اٹھالیں تو ربّ تعالیٰ اسے ضرور پورا فرماتا ہے۔
(2)جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے ولیوں کو عظمت عطا فرمائی ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ان مقدس ہستیوں کا ادب واحترام کریں اور ان کی عزت وعظمت ہی کو بیان کریں۔
(3)مسلمانوں کے ساتھ عاجزی و انکساری سے پیش آنا اعلیٰ مراتب پر فائز ہونے کا ذریعہ ہے جبکہ تکبر اور ظلم کرنا پستی میں مبتلا ہونے کا سبب ہے ۔
(4)رب تعالیٰ اپنی بارگاہ کے مقرب بندوں کو عزت وعظمت اور کرامات سے نوازتا ہے۔
(5)بزرگوں سے نعمتِ الٰہی مانگنا جائز ہے اور ان سے دعائے مغفرت کروانا چاہیے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی باتوں کو پورا فرما تاہے۔
(6)بد زبانی ، بخل اور تکبر ایسے مذموم افعال ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جہنم میں بھی داخل کیا جا سکتا ہے ، لہذا ان مذموم اور قبیح افعال سے بچنا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کی بھی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں جنت میں لےجانے والے اعمال کرنے اور جہنم میں لے جانے والے اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 252