- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- حدیث نمبر 254
کمزور مسلمانوں کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 254
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اَبِيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِحْتَجَّتِ الْجَنَّةُ والنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ : فِيَّ الْجَبَّارُوْنَ وَالمُتَكَبِّرُونَ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : فِيَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَمَسَاكِيْنُهُمْ فَقَضَى اللهُ بَيْنَهُمَا اِنَّكِ الْجَنَّةُ رَحْمَتِي اَرْحَمُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ وَاِنَّكِ النَّارُ عَذَابِي اُعَذِّبُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ وَلِكِلَيْكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا. ( )
وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : احتجت الجنة والنار فقالت النار : في الجبارون والمتكبرون وقالت الجنة : في ضعفاء الناس ومساكينهم فقضى الله بينهما انك الجنة رحمتي ارحم بك من اشاء وانك النار عذابي اعذب بك من اشاء ولكليكما علي ملؤها. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جنت اور جہنم میں بحث ہوئی تو جہنم نے کہا : مجھ میں جابر اور متکبر لوگ ہیں اور جنت نے کہا : مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ ہیں۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا کہ اے جنت!بے شک تومیری رحمت ہے ، تیرے ذریعے میں(اپنے بندوں میں سے ) جس پر چاہوں رحم فرماؤں گا اور اے جہنم!بے شک تومیرا عذاب ہے ، تیرے ذریعے میں(اپنی مخلوق میں سے) جس کو چاہوں عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھرنا میرے ذمہ ہے۔ ‘‘
شرح حدیث
جنت و جہنم کا کلام کرنا ممکن ہے:حدیث پاک میں جنت اور جہنم کی باہمی بحث کا ذکر ہوا ، اس کے متعلق عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’یہ ممکن ہے کہ جنت اور جہنم کی بحث حقیقی طور پر ہوئی ہو (اور اس کی صورت یہ بنی ہو) کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان میں حیات ، فہم اور کلام کی صلاحیت پیدا فرما دی ہو (اور اس صلاحیت کی بنا پر انہوں نے باہم کلا م کیا ہو)کیونکہ اس پر دلائل قائم ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (اپنی جس مخلوق میں چاہے) یہ چیزیں پیدا کرنے پر قادر ہے۔ ‘‘( )جنت رحمت الٰہی کا مظہرہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنت سے ارشاد فرمایا کہ ’’تو میری رحمت ہے۔ ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ جنت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ظاہر ہونے کی جگہ ہے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’شرح السنہ میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنت کو اپنی رحمت فرمایا کیونکہ ا س کے ذریعے رحمتِ الٰہی ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا : میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں رحم فرماؤں گا۔ ‘‘ ورنہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اُس کی اُن صفات میں سے ہے جن سے وہ ہمیشہ سے متصف ہے ، نہ اس کی کوئی صفت حادث (یعنی فنا ہونے والی) ہے ، نہ ہی کسی حادث (یعنی فنا ہونے والی)چیز کانام ہے اوروہ اپنے تمام اسماء اور صفات کے ساتھ قدیم(یعنی ہمیشہ ہمیشہ)سے ہے۔ “ معالم “ میں ہے : رحم فرمانے سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بھلائی کے حق دار کے لئے خیر کا ارادہ فرمائے
اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سزا کے مستحق کو سزا نہ دینا اور غیر مستحق کے ساتھ بھلائی کرنا ہے۔ ‘‘( )جہنم قہر اور غضبِ الہی کا مظہرہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جہنم سے ارشاد فرمایاکہ ’’تو میرا عذاب ہے ۔ ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ جہنم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ملنے والی سزا ، اس کی ناراضی ، قہر اور غضب ظاہر ہونے کا مقام ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جنت و جہنم اورمومن و کافر ، جمال اور جلال کے کامل مظاہر ہیں ۔ ‘‘( )جنت اور جہنم کو بھرنے کی صورت:حدیثِ پاک کے آخر میں جنت و جہنم سے ارشاد ہوا کہ’’ تم دونوں کو بھرنا میرے ذمہ ہے۔ ‘‘جنت کو بھرنے کی صورت یہ ہوگی اللہ عَزَّوَجَلَّ ایک مخلوق پیدا فرمائے گا جس سے جنت کو بھرا جائے گا اور جہنم کو بھرنے کی صورت یہ ہو گی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جہنم میں اپنی شان کے لائق قدم رکھے گا جس سے وہ بھر جائے گی۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ جہنم میں مسلسل لوگ ڈالے جا رہے ہوں گے اور وہ کہہ رہی ہو گی کہ کیا کچھ اور زیادہ ہیں؟یہاں تک کہ رب العزت(اپنی شان کے لائق)اس میں اپنا قدم رکھ دے گا ، پھر جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے مل جائے گا اور وہ کہے گی : بس ، بس ، تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم!اور جنت میں مسلسل جگہ اضافی رہے گی ، حتی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے ایک مخلوق پیدا فرمائے گا اور اسے جنت کے اضافی حصے میں رکھے گا۔ ‘‘( )تکبر جیسے موذی مرض سے بچیے:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہوا کہ متکبرین جہنم میں جائیں گے ، خود کو افضل اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے ، تکبر ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام
ہے ، سب سے پہلے تکبر شیطان نے کیا ، جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے اپنے تکبرکے سبب آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو سجدہ نہ کیا ، اسی تکبر کے سبب اس کی تمام ریاضتیں تباہ وبرباد ہوگئیں ، ذلت ورسوائی اس کا مقدر بن گئی ، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعنت کا طوق اس کے گلے پڑگیا اور وہ جہنم کے دائمی عذاب کا مستحق ٹھہرا ، تکبر کا علم سیکھنا فرض ہے ، تکبر سے بچنے والے کے لیے جنت کی بشارت ہے ، جبکہ متکبر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ناپسندیدہ بندہ ہے ، رب تعالیٰ متکبرین کو سخت ناپسند فرماتا ہے ، متکبر کو بدترین شخص قرار دیا گیا ہے ، تکبر کرنے والے کو کل بروزِ قیامت ذِلَّت ورُسوائی کا سامنا ہوگا ، متکبر رحمت الٰہی سے محروم ہے ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا ، الغرض تکبر میں کوئی بھلائی نہیں ، فقط نقصان ہی نقصان ہے۔
اپنے آپ کو تکبر سے بچائیے ، اپنے اندر عاجزی پیدا کیجئے کہ عاجز بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بہت پسند ہے ، تکبر میں ذلت جبکہ عاجزی میں عزت وعظمت ہے ، ہمارے پیارے آقا حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی بھی تکبر نہ فرمایا ، بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ عاجزی وانکساری کا درس دیا۔ یقینا ً سمجھدار ہے وہ شخص جو اپنے آپ کو تکبر سے بچاتا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیےعاجزی وانکساری کو اپنا تا ہے ، دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرتا ہے ، اور بہت بدنصیب ہے وہ شخص جو زمین پر اکڑکر چلتا ، اپنے آپ کو افضل اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں تکبر جیسے موذی مرض سے نجات عطا فرمائے ، آمین۔ تکبر کی علامات اور علاج کی تفصیل کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۹۷صفحات پر مشتمل کتاب ’’تکبر‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔مدنی گلدستہ
’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی قدرتِ کاملہ سے مخلوق میں سے جسے چاہے جو چاہے طاقت عطا فرمادے۔
(2)ظالم وجابر اور متکبر لوگ جہنم کی زینت ہیں جبکہ کمزور اور مسکین لوگ جنت کی زینت ہیں۔
(3)ظلم وتکبر میں کوئی خیر نہیں ، اُن سے بچنے میں ہی دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔
(4)جنت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت وجمال اورجہنم اُس کے قہر وجلال کا مظہر ہے۔
(5)جنت اور جہنم انتہائی وسیع و عریض ہیں اور قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ ان دونو ں کو بھر دے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے وہ ہمیں نیک اعمال کرنے ، گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں تکبر جیسے موذی مرض سے نجات عطا فرمائے ، جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 254