Main Icon

کمزور مسلمانوں کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 254

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِحْتَجَّتِ الْجَنَّةُ والنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ : فِيَّ الْجَبَّارُوْنَ وَالمُتَكَبِّرُونَ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : فِيَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَمَسَاكِيْنُهُمْ فَقَضَى اللهُ بَيْنَهُمَا اِنَّكِ الْجَنَّةُ رَحْمَتِي اَرْحَمُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ وَاِنَّكِ النَّارُ عَذَابِي اُعَذِّبُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ وَلِكِلَيْكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا. ( )

وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : احتجت الجنة والنار فقالت النار : في الجبارون والمتكبرون وقالت الجنة : في ضعفاء الناس ومساكينهم فقضى الله بينهما انك الجنة رحمتي ارحم بك من اشاء وانك النار عذابي اعذب بك من اشاء ولكليكما علي ملؤها. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جنت اور جہنم میں بحث ہوئی تو جہنم نے کہا : مجھ میں جابر اور متکبر لوگ ہیں اور جنت نے کہا : مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ ہیں۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا کہ اے جنت!بے شک تومیری رحمت ہے ، تیرے ذریعے میں(اپنے بندوں میں سے ) جس پر چاہوں رحم فرماؤں گا اور اے جہنم!بے شک تومیرا عذاب ہے ، تیرے ذریعے میں(اپنی مخلوق میں سے) جس کو چاہوں عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھرنا میرے ذمہ ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

جنت و جہنم کا کلام کرنا ممکن ہے:حدیث پاک میں جنت اور جہنم کی باہمی بحث کا ذکر ہوا ، اس کے متعلق عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’یہ ممکن ہے کہ جنت اور جہنم کی بحث حقیقی طور پر ہوئی ہو (اور اس کی صورت یہ بنی ہو) کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان میں حیات ، فہم اور کلام کی صلاحیت پیدا فرما دی ہو (اور اس صلاحیت کی بنا پر انہوں نے باہم کلا م کیا ہو)کیونکہ اس پر دلائل قائم ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (اپنی جس مخلوق میں چاہے) یہ چیزیں پیدا کرنے پر قادر ہے۔ ‘‘( )جنت رحمت الٰہی کا مظہرہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنت سے ارشاد فرمایا کہ ’’تو میری رحمت ہے۔ ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ جنت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ظاہر ہونے کی جگہ ہے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’شرح السنہ میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنت کو اپنی رحمت فرمایا کیونکہ ا س کے ذریعے رحمتِ الٰہی ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا : میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں رحم فرماؤں گا۔ ‘‘ ورنہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اُس کی اُن صفات میں سے ہے جن سے وہ ہمیشہ سے متصف ہے ، نہ اس کی کوئی صفت حادث (یعنی فنا ہونے والی) ہے ، نہ ہی کسی حادث (یعنی فنا ہونے والی)چیز کانام ہے اوروہ اپنے تمام اسماء اور صفات کے ساتھ قدیم(یعنی ہمیشہ ہمیشہ)سے ہے۔ “ معالم “ میں ہے : رحم فرمانے سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بھلائی کے حق دار کے لئے خیر کا ارادہ فرمائے

اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سزا کے مستحق کو سزا نہ دینا اور غیر مستحق کے ساتھ بھلائی کرنا ہے۔ ‘‘( )
جہنم قہر اور غضبِ الہی کا مظہرہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جہنم سے ارشاد فرمایاکہ ’’تو میرا عذاب ہے ۔ ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ جہنم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ملنے والی سزا ، اس کی ناراضی ، قہر اور غضب ظاہر ہونے کا مقام ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جنت و جہنم اورمومن و کافر ، جمال اور جلال کے کامل مظاہر ہیں ۔ ‘‘( )جنت اور جہنم کو بھرنے کی صورت:حدیثِ پاک کے آخر میں جنت و جہنم سے ارشاد ہوا کہ’’ تم دونوں کو بھرنا میرے ذمہ ہے۔ ‘‘جنت کو بھرنے کی صورت یہ ہوگی اللہ عَزَّوَجَلَّ ایک مخلوق پیدا فرمائے گا جس سے جنت کو بھرا جائے گا اور جہنم کو بھرنے کی صورت یہ ہو گی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جہنم میں اپنی شان کے لائق قدم رکھے گا جس سے وہ بھر جائے گی۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ جہنم میں مسلسل لوگ ڈالے جا رہے ہوں گے اور وہ کہہ رہی ہو گی کہ کیا کچھ اور زیادہ ہیں؟یہاں تک کہ رب العزت(اپنی شان کے لائق)اس میں اپنا قدم رکھ دے گا ، پھر جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے مل جائے گا اور وہ کہے گی : بس ، بس ، تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم!اور جنت میں مسلسل جگہ اضافی رہے گی ، حتی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے ایک مخلوق پیدا فرمائے گا اور اسے جنت کے اضافی حصے میں رکھے گا۔ ‘‘( )تکبر جیسے موذی مرض سے بچیے:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہوا کہ متکبرین جہنم میں جائیں گے ، خود کو افضل اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے ، تکبر ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام

ہے ، سب سے پہلے تکبر شیطان نے کیا ، جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے اپنے تکبرکے سبب آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو سجدہ نہ کیا ، اسی تکبر کے سبب اس کی تمام ریاضتیں تباہ وبرباد ہوگئیں ، ذلت ورسوائی اس کا مقدر بن گئی ، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعنت کا طوق اس کے گلے پڑگیا اور وہ جہنم کے دائمی عذاب کا مستحق ٹھہرا ، تکبر کا علم سیکھنا فرض ہے ، تکبر سے بچنے والے کے لیے جنت کی بشارت ہے ، جبکہ متکبر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ناپسندیدہ بندہ ہے ، رب تعالیٰ متکبرین کو سخت ناپسند فرماتا ہے ، متکبر کو بدترین شخص قرار دیا گیا ہے ، تکبر کرنے والے کو کل بروزِ قیامت ذِلَّت ورُسوائی کا سامنا ہوگا ، متکبر رحمت الٰہی سے محروم ہے ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا ، الغرض تکبر میں کوئی بھلائی نہیں ، فقط نقصان ہی نقصان ہے۔
اپنے آپ کو تکبر سے بچائیے ، اپنے اندر عاجزی پیدا کیجئے کہ عاجز بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بہت پسند ہے ، تکبر میں ذلت جبکہ عاجزی میں عزت وعظمت ہے ، ہمارے پیارے آقا حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی بھی تکبر نہ فرمایا ، بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ عاجزی وانکساری کا درس دیا۔ یقینا ً سمجھدار ہے وہ شخص جو اپنے آپ کو تکبر سے بچاتا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیےعاجزی وانکساری کو اپنا تا ہے ، دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرتا ہے ، اور بہت بدنصیب ہے وہ شخص جو زمین پر اکڑکر چلتا ، اپنے آپ کو افضل اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں تکبر جیسے موذی مرض سے نجات عطا فرمائے ، آمین۔ تکبر کی علامات اور علاج کی تفصیل کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۹۷صفحات پر مشتمل کتاب ’’تکبر‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
مدنی گلدستہ
’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی قدرتِ کاملہ سے مخلوق میں سے جسے چاہے جو چاہے طاقت عطا فرمادے۔
(2)ظالم وجابر اور متکبر لوگ جہنم کی زینت ہیں جبکہ کمزور اور مسکین لوگ جنت کی زینت ہیں۔

(3)ظلم وتکبر میں کوئی خیر نہیں ، اُن سے بچنے میں ہی دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔
(4)جنت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت وجمال اورجہنم اُس کے قہر وجلال کا مظہر ہے۔
(5)جنت اور جہنم انتہائی وسیع و عریض ہیں اور قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ ان دونو ں کو بھر دے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے وہ ہمیں نیک اعمال کرنے ، گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں تکبر جیسے موذی مرض سے نجات عطا فرمائے ، جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 254