- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
کمزور مسلمانوں کی فضیلت
فیضان ریاض الصالحین جلد 3
حضرت سَیِّدُنا حارثہ بن وہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’ کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کی خبر نہ دوں؟ہرکمزورجسے کمزورسمجھا جائے اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ (کے کرم)پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے گا۔ کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کی خبر نہ دوں؟ہر وہ شخص جوسخت مزاج ، بخیل اورخود کو بڑا سمجھنے والا ہو۔ ‘‘
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ علَيْهِ وَسَلَّم يقولُ : اَلَااُخْبِرُكُمْ بِاَهْلِ الجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ اَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَاَبَرَّهُ اَلَا اُخْبِرُكُمْ بِاَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ .( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 252 ، کمزور مسلمانوں کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب سے ایک آدمی گزراتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے ارشاد فرمایا : ’’اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘اس نے عرض کی : ’’یہ مالدار لوگوں میں سے ایک شخص ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ اس لائق ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے نکاح کر دیا جائے ، اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کر لی جائے۔ ‘‘یہ سن کر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش ہو گئے۔ پھر ایک دوسرا آدمی گزراتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسی شخص سے استفسار فرمایا : ’’اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !یہ فقیر مسلمانوں میں سے ایک شخص ہے اور اس چیز کا حق دار ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے ، اگر سفارش کرے تو ا س کی سفارش قبول نہ کی جائے اوراگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ ‘‘یہ سن کر رسول اکرم شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’یہ فقیر اُس (پہلے آدمی) جیسے روئے زمین کےتمام انسانوں سے بہتر ہے۔ ‘‘
وَعَنْ اَبِيْ الْعَبَّاسْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ تَعَاليٰ عَنْهُ ، اَنَّهُ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍمَا رَاْ يُكَ فِي هٰذَا؟ فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ اَشْرَافِ النَّاسِ : هٰذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ اِنْ خَطَبَ اَنْ يُنْكَحَ وَاِنْ شَفَعَ اَنْ يُشَفَّعَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا رَاْيُكَ فِي هٰذَا؟ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ هَذَا حَرِيٌّ اِنْ خَطَبَ اَنْ لا يُنْكَحَ وَاِنْ شَفَعَ اَنْ لَّا يُشَفَّعَ وَاِنْ قَالَ اَنْ لَّا يُسْمَعَ لِقَوْلِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْاَرْضِ مِثْلَ هَذَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 253 ، کمزور مسلمانوں کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جنت اور جہنم میں بحث ہوئی تو جہنم نے کہا : مجھ میں جابر اور متکبر لوگ ہیں اور جنت نے کہا : مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ ہیں۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا کہ اے جنت!بے شک تومیری رحمت ہے ، تیرے ذریعے میں(اپنے بندوں میں سے ) جس پر چاہوں رحم فرماؤں گا اور اے جہنم!بے شک تومیرا عذاب ہے ، تیرے ذریعے میں(اپنی مخلوق میں سے) جس کو چاہوں عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھرنا میرے ذمہ ہے۔ ‘‘
وَعَنْ اَبِيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِحْتَجَّتِ الْجَنَّةُ والنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ : فِيَّ الْجَبَّارُوْنَ وَالمُتَكَبِّرُونَ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : فِيَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَمَسَاكِيْنُهُمْ فَقَضَى اللهُ بَيْنَهُمَا اِنَّكِ الْجَنَّةُ رَحْمَتِي اَرْحَمُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ وَاِنَّكِ النَّارُ عَذَابِي اُعَذِّبُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ وَلِكِلَيْكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 254 ، کمزور مسلمانوں کی فضیلت
حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک قیامت کے دن ایک بڑااورموٹا آدمی آئے گا جس کاوزن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا۔ ‘‘
وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّهُ لَيَاْتِي الرَّجُلُ السَّمِيْنُ الْعَظِيمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 255 ، کمزور مسلمانوں کی فضیلت
حضرت سِیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک حبشی عورت یا نوجوان مسجد میں جھاڑو لگایا کرتے تھے ، ایک بار رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس عورت یا نوجوان کو نہ پایا تو دریافت فرمایا۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’ تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟‘‘(راوی کہتے ہیں : )شایدصحابہ كرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس عورت یا نوجوان کا معاملہ معمولی سمجھا تھا۔ (جس كی وجہ سے اطلاع نہ دی)پھر ارشاد فرمایا : ’’مجھے ا س کی قبر پر لے چلو۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس کی قبر پر لے گئے تو آپ نے اس کی قبرپر نماز پڑھی ، پھر ارشاد فرمایا : ’’بے شک یہ قبریں اپنی میتوں پر ظلمت سے بھری ہوئی ہیں اور بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اِن پر میرے نماز پڑھنے کی برکت سے قبروں کو منور فرما دےگا۔ ‘‘
وَعَنْهُ : اَنَّ امْرَاَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ المَسْجِدَ اَوْ شَابّاً فَفَقَدَهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاَلَ عَنْهَا اَوْ عَنْهُ فَقَالُوْا : مَاتَ قَالَ : اَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي فَكَاَنَّهُمْ صَغَّرُوْا امْرَهَا اَوْ اَمْرَهُ فَقَالَ : دُلُّوْنِي عَلَى قَبْرِهٖ فَدَلُّوْهُ
فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ : اِنَّ هذِهِ الْقُبُوْرَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى اَهْلِهَا وَاِنَّ اللهَ تَعَالٰى يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِيْ عَلَيْهِمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 256 ، کمزور مسلمانوں کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بہت سے لوگ ایسے ہیں جو پراگندہ بالوں والے ، غبارآلوداور دروازوں سے ہٹائے ہوئے ہیں (لیکن بارگاہِ الٰہی میں ان کا مقام یہ ہے کہ) اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ (کے بھروسے)پر قسم کھا لیں تووہ ضرور اُن کی قسم کو پورا فرما دے۔ ‘‘
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ مَدْفُوْعٍ بِالْاَبْوَابِ لَوْ اَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَاَبَرَّهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 257 ، کمزور مسلمانوں کی فضیلت
: حضرت سَیِّدُنا اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والے زیادہ تر لوگ مسکین ہیں اور مال داروں کو ابھی جنت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن جو جہنم کےحق دار ہیں انہیں آگ کی طرف جانے کا حکم دے دیا گیا ہےاور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس کے اندر داخل ہونے والے افراد میں زیادہ تر عورتیں ہیں۔ ‘‘
وَعَنْ اُسَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قُمْتُ عَلَى بَابِ الجَنَّةِ فَاِذًا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا المَسَاكِينُ وَاَصْحَابُ الجَدِّ مَحْبُوْسُونَ غَيْرَ اَنَّ اَصْحَابَ النَّارِ قَدْ اُمِرَ بِهِمْ اِلَى النَّارِ وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَاِذًا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 258 ، کمزور مسلمانوں کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جُھولے میں تین بچوں نے کلام کیا ہے ، ایک حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے۔ دوسرے جریج والے بچے نے ، یہ ایک عبادت گزار آدمی تھااور اِس نے ایک عبادت خانہ بنایا ، ایک دن وہ اپنے عبادت خانے میں نماز پڑھ رہاتھاکہ اُس کی ماں آئی اور کہا : ’’اے جُریج۔ ‘‘اِس نے(دل ہی دل میں) کہا : ’’اے میرے ربّ!ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میری نماز ہے۔ ‘‘پھر وہ نماز پڑھتا رہا اور اُس کی ماں واپس لوٹ گئی ، جب دوسرے دن آئی تواُس وقت بھی یہ نماز پڑھ رہاتھا ، اُس نے کہا : ’’ اے جُریج۔ ‘‘ تواِس نے(دل میں) کہا : ’’اے میرے رب!ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میری نماز ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ نماز پڑھتارہا ۔ ماں واپس چلی گئی اور جب تیسرے دن آئی تو اس وقت بھی جُریج نماز پڑھ رہا تھا ، اس نے کہا : ’’اے جُریج۔ ‘‘تو اُس نے (دل میں )کہا : ’’اے میرے رب!ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میری نماز ہے۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ نماز میں ہی مصروف رہا۔ اس کی ماں نے دعا کی : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اِسے اُس وقت تک موت نہ دینا جب تک یہ زانیہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ ‘‘بنی اسرائیل کے لوگ جُریج اور اُ س کی عبادت کا بہت چرچا کرتے تھے۔ اِن میں ایک فاحشہ عورت تھی جس کے حُسن کی مثال دی جاتی تھی ، اُس نے کہا : ’’اگر تم چاہو تو میں جُریج کو فتنے میں مبتلا کر دوں؟‘‘پھر وہ جُریج کے سامنے آئی تو اُس نے اِس کی طرف توجہ نہ کی ، یہاں سے نکل کر وہ ایک چرواہے کے پاس آئی جو جُریج کے عبادت خانے میں رہتا تھا ، اس نے چرواہے کو اپنے اوپرقدرت دی تو اُس نے اِس کے ساتھ زنا کیا جس سے یہ حاملہ ہو گئی ، پھر جب اِس نے بچہ جَن دیا تو کہنے لگی : ’’یہ جُریج کا بچہ ہے ۔ ‘‘یہ سن کر بنی اسرائیل جُریج کے پاس آئے اوراسے عبادت خانے سے اتار کر عبادت خانہ منہدم کر دیااور اسے مارنے لگے ، یہ صورت حال دیکھ کر جُریج نے کہا : ’’تم یہ ہنگامہ کیوں کر رہے ہو؟‘‘لوگوں نے کہا : ’’تم نے اس فاحشہ عورت کے ساتھ زنا کیااور ا س نے تیرا بچہ جنا ہے ۔ ‘‘ جُریج نے کہا : ’’وہ بچہ کہاں ہے؟‘‘لوگ بچے کو لے کر آئے تو جُریج نے کہا : ’’مجھے کچھ وقت دو تاکہ میں نماز پڑھ لوں۔ ‘‘پھر اُس نے نماز پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد بچے کے پیٹ میں انگلی مار کر کہا : ’’اے بچے!تیرا باپ کون ہے؟‘‘اس نے جواب دیا : ’’فلاں چرواہا۔ ‘‘یہ سن کر لوگ جُریج کی طرف لپکےاوراس کا بوسہ لینا اور (برکت کے لئے) اسے چھونا شروع کر دیا اور کہنے لگے : ’’ہم آپ کے لئے سونے کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں۔ ‘‘
جُریج نے کہا : ’’نہیں ، بس تم اسے پہلے کی طرح مٹی سے بنا دو۔ ‘‘چنانچہ انہوں نے ویسا ہی عبادت خانہ بنا دیا۔
(جھولے میں کلام کرنے والے تیسرے بچے کا واقعہ یہ ہے کہ )ایک بچہ اپنی والدہ کا دودھ پی رہاتھا ، اس دوران ایک شخص عمدہ سواری پر اچھی پوشاک پہنے ہوئے گزرا تو اس کی ماں نے دعا مانگی : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرے بیٹے کو بھی اس جیسا بنا دے۔ ‘‘یہ سن کربچے نے دودھ پینا چھوڑ دیا اوراس شخص کی طرف منہ کرکے اسے دیکھتا رہا ، پھر کہا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے اِس جیسا نہ بنا۔ ‘‘پھر دودھ پینا شروع کر دیا۔ (اس حدیث کے) راوی کہتے ہیں کہ میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف دیکھ رہاتھا ، آپ اپنی شہادت کی انگلی کو منہ میں ڈال کر اس کو چوستے ہوئے بچے کے دودھ پینے کی حکایت کر رہے تھے ۔ (مزید ارشاد فرمایا : )پھر ان کا گزر ایک باندی کے پاس سے ہوا جسے لوگ مار رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے ، تو نے چوری کی ہے اور وہ جواب میں کہتی تھی : ’’مجھے اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے ۔ ‘‘اس بچے کی ماں نے کہا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنا۔ ‘‘اس بچے نے دودھ چھوڑا اور باندی کی طرف دیکھ کر کہنے لگا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اس جیسا بنا۔ ‘‘تب ماں بیٹے میں بحث ہوئی ، ماں نے کہا : ’’ایک اچھی حیثیت والا شخص گزرا اور میں نے دعا مانگی کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میرے بیٹے کو بھی اس جیسا بنا دے ، تو تم نے کہا : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اِ س جیسا نہ بنانا اور ا س باندی کو لوگ مار رہے تھے اور ا س سے کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے ، تو نے چوری کی ہے ، اس پر میں نے دعا مانگی کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ بنا لیکن تو نے کہا کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اس جیسا بنا دے(تم نے ایسی دعا کیوں کی؟)۔ ‘‘بچے نے جواب دیا : ’’وہ شخص ایک ظالم انسان تھااس لئے میں نے دعا کی کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اس جیسانہ بنااور جس باندی سے یہ کہہ رہے کہ تو نے زنا کیا ہے ، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ تو نے چوری کی ہے حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی ، اس لئے میں نے دعا کی کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اس جیسا بنا دے۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَمْ يَتَكَلَّمْ في المَهْدِ اِلَّا ثَلَاثَةٌ : عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ ، وَكَانَ جُرَيْجٌ رَجُلاً عَابِداً ، فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً فَكَانَ فِيهَا فَاَتَتْهُ اُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي
فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ فَقَالَ : يَا رَبِّ اُمِّيْ وَصَلاتِيْ فَاَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهٖ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الغَدِ اَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ فَقَالَ : اَيْ رَبِّ اُمِّيْ وَصَلَاتِي فَاَقْبَلَ عَلٰى صَلاتِهٖ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الغَدِ اَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ فَقَالَ : اَيْ رَبِّ اُمِّيْ وَصَلَاتِيْ فَاَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهٖ فَقَالَتْ : اَللّٰهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتّٰى يَنْظُرَ اِلٰی وُجُوهِ الْمُوْمِسَاتِ فَتَذَاكَرَ بَنُو اِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ وَكَانَتِ امْرَاَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بحُسْنِهَا فَقَالَتْ : اِنْ شِئْتُمْ لَاَفْتِنَنَّهُ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ اِلَيْهَا فَاَتَتْ رَاعِياً كَانَ يَاْوِي اِلٰی صَوْمَعَتِهٖ فَاَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَتْ : هُوَ مِنْ جُرَيْج فَاَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوْهُ وَهَدَمُوْا صَوْمَعَتَهُ وَجَعَلُوْا يَضْرِبُوْنَهُ فَقَالَ : مَا شَاْنُكُمْ قَالُوا : زَنَيْتَ بهٰذِهِ الْبَغِيِِّ فَوَلَدَتْ مِنْكَ قَالَ : اَيْنَ الصَّبيُّ فَجَاؤُوْا بِهٖ فَقَالَ : دَعُوْنِیْ حَتّٰى اُصَلِّي فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ اَ تَى الصَّبيَّ فَطَعنَ في بَطْنِهٖ وَقالَ : يَا غُلامُ مَنْ اَبُوْكَ قَالَ : فُلانٌ الرَّاعِي فَاَقْبَلُوْا عَلٰی جُرَيْجٍ يُقَبِّلُوْنَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهٖ وَقَالُوا : نَبْنِي لَكَ صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ : لَا اُعِيْدُوْهَا مِنْ طِيْنٍ كَمَا كَانَتْ فَفَعَلُوْا وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ منْ اُمِّهٖ فَمَرَّ رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلٰى دَابَّةٍ فَارِهَةٍ وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ فَقَالَتْ اُمُّهُ : اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ اِبْنِيْ مِثْلَ هَذَا فَتَرَكَ الثَّدْيَ وَاَقْبَلَ اِلَيْهِ فَنَظَرَ اِلَيْهِ ، فَقَالَ : اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَى ثَدْيَهُ فَجَعَلَ يَرتَضِعُ فَكَاَنِّي اَنْظُرُ اِلٰی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَهُوَ يَحْكِي ْ اِرْتَضَاعَهُ بِاُصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ في فِيهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا قَالَ : وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُم يَضْرِبُوْنَهَا ويَقُولُونَ : زَنَيْتِ سَرَقْتِ وَهِيَ تَقُولُ : حَسْبِيَ اللهُ ونِعْمَ الوَكِيلُ فَقَالَتْ اُمُّهُ : اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَل اِبْنِيْ مِثْلَهَا فَتَركَ الرَّضَاعَ ونَظَرَ اِلَيْهَا فَقَالَ : اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِثْلَهَا فَهُنَالِكَ تَرَاجَعَا الْحَدِيْثَ فَقَالَتْ : مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ فَقُلْتُ : اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ اِبْنِيْ مِثْلَهُ فَقُلْتَ : اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِيْ مِثْلَهُ وَمَرُّوا بِهٰذِهِ الْاَمَةِ وَهُمْ يَضْرِبُوْنَهَا وَيَقُوْلُوْنَ : زَنَيْتِ سَرَقْتِ فَقُلْتُ : اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلِْ اِبْنِيْ مِثْلَهَا فَقُلْتَ: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِثْلَهَا!قَالَ : اِنَّ ذٰلِكَ الرَّجُلَ كَانَ جَبَّارًا فَقُلْتُ : اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِيْ مِثْلَهُ وَاِنَّ هٰذِهٖ يَقُوْلُوْنَ : زَنَيْتِ وَلَمْ تَزْنِ وَسَرقْتِ وَلَمْ تَسْرِقْ فَقُلْتُ : اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِيْ مِثْلَهَا.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 259 ، کمزور مسلمانوں کی فضیلت