- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- حدیث نمبر 256
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ : اَنَّ امْرَاَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ المَسْجِدَ اَوْ شَابّاً فَفَقَدَهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاَلَ عَنْهَا اَوْ عَنْهُ فَقَالُوْا : مَاتَ قَالَ : اَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي فَكَاَنَّهُمْ صَغَّرُوْا امْرَهَا اَوْ اَمْرَهُ فَقَالَ : دُلُّوْنِي عَلَى قَبْرِهٖ فَدَلُّوْهُ
فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ : اِنَّ هذِهِ الْقُبُوْرَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى اَهْلِهَا وَاِنَّ اللهَ تَعَالٰى يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِيْ عَلَيْهِمْ. ( )
وعنه : ان امراة سوداء كانت تقم المسجد او شابا ففقدها رسول الله صلى الله عليه وسلم فسال عنها او عنه فقالوا : مات قال : افلا كنتم آذنتموني فكانهم صغروا امرها او امره فقال : دلوني على قبره فدلوه
فصلى عليها ثم قال : ان هذه القبور مملوءة ظلمة على اهلها وان الله تعالى ينورها لهم بصلاتي عليهم. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سِیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک حبشی عورت یا نوجوان مسجد میں جھاڑو لگایا کرتے تھے ، ایک بار رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس عورت یا نوجوان کو نہ پایا تو دریافت فرمایا۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’ تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟‘‘(راوی کہتے ہیں : )شایدصحابہ كرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس عورت یا نوجوان کا معاملہ معمولی سمجھا تھا۔ (جس كی وجہ سے اطلاع نہ دی)پھر ارشاد فرمایا : ’’مجھے ا س کی قبر پر لے چلو۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس کی قبر پر لے گئے تو آپ نے اس کی قبرپر نماز پڑھی ، پھر ارشاد فرمایا : ’’بے شک یہ قبریں اپنی میتوں پر ظلمت سے بھری ہوئی ہیں اور بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اِن پر میرے نماز پڑھنے کی برکت سے قبروں کو منور فرما دےگا۔ ‘‘
شرح حدیث
مسجد کی صفائی کرنے کی فضیلت:مذکورہ حدیث پاک میں مسجد کی صفائی کرنے اور جھاڑو لگانے کی خدمت سر انجام دینے والے کو ملنے والے اِعزاز کا ذکر ہوا ، اِس سے معلوم ہوا کہ مسجد کی صفائی کرنا بڑی فضیلت کا حامل ہے اوریہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی خدمت بیکار نہیں جاتی بلکہ اس کی برکتیں قبر میں بھی نصیب ہوتی ہیں اور حشر میں بھی نصیب ہوں گی ، ترغیب کے لئے مسجد کی صفائی کرنے کے فضائل ملاحظہ ہوں : (1)مسجدمیں جھاڑو دینا اور ا س کی صفائی کرنا کامل ایمان والوں کی نشانی ہے ، چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پارہ۱۰ ، سورۂ توبہ ، آیت ۱۸میں ارشاد فرماتا ہے :اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓىٕكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ(۱۸)ترجمۂ کنزالایمان : اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں۔
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن احمد نسفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’مسجدوں کو آباد کرنے میں یہ اُمور بھی داخل ہیں : جھاڑو دینا ، صفائی کرنا ، روشنی کرنا اور مسجدوں کو دنیا کی باتوں سے اور ایسی چیزوں سے محفوظ رکھنا جن کے لئے وہ نہیں بنائی گئیں۔ ‘‘( )
(2)مسجد کی صفائی اور اُس کی خدمت کرناحُصُولِ جنت کا سبب ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’ایک عورت مسجد سے تنکے اٹھایا کرتی تھی ، اُس کا انتقال ہو گیا تو رحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کواُسے دفن کرنے کی اِطلاع نہ دی گئی (جب معلوم کرنے پر اس کےانتقال کی خبر ملی) تو حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جب تم میں کسی کی وفات ہو جائے تو مجھے اطلاع دے دیا کرو۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس (کی قبر)پر نماز پڑھی اور ارشاد فرمایا : ’’میں نے اس عورت کو جنت میں دیکھا ہے اور ا س کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسجد سے تنکے اٹھایا کرتی تھی۔ ‘‘( ) اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی مسجد کی صفائی کرنے اور اُسے صاف سُتھرا رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمینقبر پر نمازِجنازہ پڑھنے سے متعلق شرعی حکم:اِس حدیث پاک سے معلوم ہواکہ اگر ولی کے نمازِ جنازہ پڑھنے سے پہلے میت کو دفن کر دیا گیا ہو یانماز جنازہ پڑھے بغیر ہی میت کی تدفین کر دی گئی ہوتو ا س کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے۔ چنانچہ بہار شریعت میں ہے : (1)ولی کے سوا کسی ایسے نے نماز پڑھائی جو ولی پر مقدم نہ ہو اورولی نے اُسے اجازت بھی نہ دی تھی ، اس صورت میں ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے اور اگر مردہ دفن ہوگیا ہے تو قبر پرنماز پڑھ سکتا ہے۔ (2) میت کو نماز پڑھےبغیر دفن کر دیا اور مٹی بھی دے دی گئی تو اب اس کی قبر پر نماز پڑھیں ، جب تک پھٹنے کا گمان نہ ہو ، اوراگر مٹی نہ دی گئی ہو تو قبر سے نکالیں اور نماز پڑھ کر دفن کریں ۔ (3)قبر پر نماز پڑھنے میں دنوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں کہ کتنے دن تک پڑھی جائے کیونکہ بدن کا پھٹ جانا موسم ، زمین اور میت کے جسم و مرض کے اختلاف کی وجہ سے مختلف عرصے میں ہوتا ہے ، گرمی میں جلد پھٹے
گا اور سردی میں دیر سے ، تر یا شور زمین میں جلد پھٹے گا جبکہ خشک اور غیر شور میں دیر سے ، اسی طرح فربہ جسم جلد پھٹے گا اور لاغر دیر میں۔ ‘‘( )نماز جنازہ میں تکرار مشروع نہیں:مُفَسِّرِ شَھِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’بعض لوگ اِن احادیث کی بنا پر کہتے ہیں کہ نماز جنازہ کئی بار ہوسکتی ہے مگر یہ غلط ہے ، ورنہ تا قیامت ہمیشہ زائرین حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے روضہ پرپہنچ کر آپ کی نماز جنازہ پڑھا کرتے۔ ولی کے نماز پڑھ لینے کے بعد اورکسی کو جنازہ پڑھنے کا حق نہیں ، دیکھوحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر دو روز تک مسلسل نمازیں ہوتی رہیں مگر جب صدیق اکبر نے جو خلیفۃ المسلمین اور ولیٔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تھے ، آپ پر نماز پڑھ لی پھرکسی نے نہ پڑھی۔ ‘‘( )دعائے رسول کی برکات:سیِّد عالم نور مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نماز جنازہ پڑھنے اور دعا فرمانے کی ایک برکت یہ ہے کہ اس سے بندے کی تاریک قبر روشن ہو جاتی ہے ، جیسا کہ اس حدیث پاک کےآخر میں بیان ہوا۔ جب دعا کی یہ برکت ہے تو جس قبر میں خود تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئیں اس کی روشنی کا کیا عالَم ہوگا۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں اپنی قبر کو روشن کرنے کی یوں التجا ء کرتے ہیں :
روشن كر قبر بے کسوں کی……اے شمع جمال مصطفائی
اندھیر ہے بے ترے مرا گھر ……اے شمع جمال مصطفائیمجھ کو شب غم ڈرا رہی ہے ……اے شمع جمال مصطفائی
حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دعا فرمانے کی دوسری برکت یہ ہے کہ اس سے دلوں کو چین ، اطمینان اور سکون نصیب ہوتاہے ، جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :وَصَلِّ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْؕ-(پ۱۱ ، التوبہ : ۱۰۳)ترجمۂ کنزالایمان : اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو بیشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے۔مدنی گلدستہ
’’تعظیم‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)مسجد کی صفائی کرنااور اسے صاف ستھرا رکھنا بہت فضیلت وبرکت کا باعث ہے۔
(2)خادم یا دوست غائب ہو تو اس کے بارے میں معلومات لینی چاہیےاوراس کے حق میں دعا کر کے خیر خواہی کرنی چاہیے۔
(3)نیک بندوں کے جنازوں میں خاص طور پر حاضر ہونا چاہیے۔
(4)ولی کے نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد دوبارہ نماز جائز نہیں ، اسی طرح جسے نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کر دیا گیا ہواس کی قبر پر مخصوص شرائط کے ساتھ نمازجنازہ پڑھنا جائز ہے۔
(5)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا کی برکت سے قبر کے اندھیرے نور میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، آپ کی دعا کی برکت سے دلوں کو چین ، اطمینان اور سکون نصیب ہوتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں نماز جنازہ میں شرکت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کرنے ، ان کے حق میں دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہماری قبر کو بھی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلوؤں سے منور فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 256