- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- حدیث نمبر 253
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اَبِيْ الْعَبَّاسْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ تَعَاليٰ عَنْهُ ، اَنَّهُ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍمَا رَاْ يُكَ فِي هٰذَا؟ فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ اَشْرَافِ النَّاسِ : هٰذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ اِنْ خَطَبَ اَنْ يُنْكَحَ وَاِنْ شَفَعَ اَنْ يُشَفَّعَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا رَاْيُكَ فِي هٰذَا؟ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ هَذَا حَرِيٌّ اِنْ خَطَبَ اَنْ لا يُنْكَحَ وَاِنْ شَفَعَ اَنْ لَّا يُشَفَّعَ وَاِنْ قَالَ اَنْ لَّا يُسْمَعَ لِقَوْلِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْاَرْضِ مِثْلَ هَذَا. ( )
وعن ابي العباس سهل بن سعد الساعدي رضي الله تعالي عنه ، انه قال : مر رجل على النبي
صلى الله عليه وسلم فقال لرجل عنده جالسما را يك في هذا؟ فقال: رجل من اشراف الناس : هذا والله حري ان خطب ان ينكح وان شفع ان يشفع فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم مر رجل اخر فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما رايك في هذا؟ فقال : يا رسول الله هذا رجل من فقراء المسلمين هذا حري ان خطب ان لا ينكح وان شفع ان لا يشفع وان قال ان لا يسمع لقوله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : هذا خير من ملء الارض مثل هذا. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب سے ایک آدمی گزراتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے ارشاد فرمایا : ’’اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘اس نے عرض کی : ’’یہ مالدار لوگوں میں سے ایک شخص ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ اس لائق ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے نکاح کر دیا جائے ، اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کر لی جائے۔ ‘‘یہ سن کر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش ہو گئے۔ پھر ایک دوسرا آدمی گزراتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسی شخص سے استفسار فرمایا : ’’اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !یہ فقیر مسلمانوں میں سے ایک شخص ہے اور اس چیز کا حق دار ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے ، اگر سفارش کرے تو ا س کی سفارش قبول نہ کی جائے اوراگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ ‘‘یہ سن کر رسول اکرم شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’یہ فقیر اُس (پہلے آدمی) جیسے روئے زمین کےتمام انسانوں سے بہتر ہے۔ ‘‘
شرح حدیث
قریب سے گزرنے والے دو اَفراد کا تعارف:حضرت سَیِّدُنا علامہ بد ر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ گزرنے والا پہلا شخص مسلمان اور اپنی قوم میں معززآدمی تھا جبکہ دوسرے شخص کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ حضرت سَیِّدُنا
جُعَیل بِن سُراقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے جو سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےاَصحاب اور رب تعالیٰ کے نیک و صالح بندوں میں سے تھے ۔ ‘‘( )بعض نے یہ لکھا ہے کہ پہلے شخص حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے ۔ ( )دنیا داروں کی نظر میں فضیلت کا معیار:اِس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ لوگ مال کو شرافت سمجھتے اور مالدار کو شریف جانتے ہیں خواہ وہ کیسا ہی بدتر کیوں نہ ہو جبکہ غریب فقیر مسلمانوں کو کسی اچھے سلوک کا حق دار نہیں سمجھتے اگرچہ وہ کتنا ہی پرہیز گار ، اِطاعت شعار اور عبادت گزار ہو۔ یاد رہے کہ کسی شخص کے معزز اور شریف ہونے کا یہ معیار بنانا اور دولت کو پیمانہ بنا کر اُس کے ذریعے عزت و شرافت کو پرکھنا کسی طور پر درست نہیں ، عقلی طور پر ا س لئے کہ مالداروں میں سرکشی ، تکبر ، غرور اور جبر و ظلم بہت ہوتا ہے اور اِن بدترین خرابیوں والے انسان کو عقل سلیم رکھنے والا شخص کبھی معزز اور شریف نہیں سمجھے گا جبکہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی دُنیوی عزت و شرف ، مال و دولت ، مرتبہ ومنصب ، حسب ونسب ، شکل وصورت ، لباس اور رہائش گاہ نہیں دیکھی جاتی بلکہ اُس کی بارگاہ میں پرہیز گاری ، دل اور اَعمال کو دیکھا جاتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتاہے :یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-(پ۲۶ ، الحجرات : ۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھوبیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
ایک اور مقام پررب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍترجمۂ کنزالایمان : کیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم ان
وَّ بَنِیْنَۙ(۵۵) نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِؕ-بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۵۶)(پ۱۸ ، المومنون : ۵۵ ، ۵۶)
کی مدد کررہے ہیں مال اور بیٹوں سےیہ جلد جلد ان کو بھلائیاں دیتے ہیں بلکہ انہیں خبر نہیں۔
ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے :وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًاۙ-وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ(۳۵) قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۳۶) وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا٘-فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ(۳۷)(پ۲۲ ، السبا ، ۳۵ تا۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان : اور بولے ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہم پر عذاب ہونا نہیں تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لئے چاہے اور تنگی فرماتا ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمہیں ہمارے قرب تک پہنچائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیکی کی ان کے لئے دونا دون (کئی گنا) صلہ ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں۔
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔ ‘‘( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! افسوس! ہمارے معاشرے میں بھی یہ وبا عام ہے کہ جس کے پاس دولت ، کوئی بڑا عہدہ یا منصب وغیرہ ہو تووہ لوگوں کی نظر میں انتہائی معزز ہوتا ہے اگرچہ کتنا ہی بڑ ا رب تعالیٰ کا نافرمان ہو۔ جبکہ غریبوں کو کسی اچھے سلوک کا حق دارسمجھنا تو دور کی بات ، اُن سے سیدھے منہ بات کرنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا اگرچہ وہ غریب شخص کتنا ہی نیک متقی اور پرہیز گار ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام مسلمانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے دِین دار غریب مسلمانوں کی قدر کرنے اور ان کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
فقیر مسلمان کے افضل ہونے کی وجہ:حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ ’’جس کی تو نے تعریف کی اگر ایسے آدمیوں سے روئے زمین بھر جائے تو ان سب سے یہ آخری اکیلا آدمی افضل و اعلیٰ اور اشرف ہے۔ ‘‘اس سے معلوم ہوا کہ دیندار فقیر دنیادار مسلمان سے افضل ہے ۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے شارح حدیث ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’فقیر کا دل صاف ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاحکم قبول کرنے اور ا س کی محبت کے مرتبے تک پہنچنے کے زیادہ قریب ہوتا ہے جبکہ بیوقوف مالدارسرکش ، بے پرواہ ، متکبر اور مغرور ہوتا ہے اور اس بات کا مشاہدہ بھی ہے کہ علمائے کرام کے شاگرد ، اولیائے عظام کے مرید اور ابتدا میں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی پیروی کرنے والے فقیر اور مسکین لوگ ہوتے ہیں بلکہ عبادات جیسے نماز وغیرہ کی طرف سبقت کرنے والے حتی کہ حج جیسی عبادت جو صرف مالداروں پر فرض ہے ، اس کی ادائیگی میں کوشش کرنے والے بھی اکثر غریب فقیر ہوتے ہیں ، نیز اِن میں اِخلاص ہوتا ہے اور اِن کے کام فاسد اَغراض سے پاک ہوتے ہیں ، اِسی لئے وہ کامیاب ہیں ۔ ‘‘( )فقیر کے افضل ہونے کا معیار:مذکورہ بالا کلام سے واضح ہواکہ فقیر وہ افضل ہے جو دنیوی مال و دولت وغیرہ کے اعتبار سے غریب ہے لیکن شریعت کے احکام پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو ، فرائض و واجبات کی اچھے طریقے سے ادائیگی کرتا ہو ، نیک اعمال میں مشغول رہتا ہو لہٰذا وہ لوگ جو عوام الناس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ظاہری فقر کا لبادہ اوڑھتے لیتے ہیں ، وضع قطع شریعت کے مخالف بنا کر لوگوں کو اپنے زہد اور ولایت کا جھانسا دیتے ہیں ، عمل نام کی چیز پلے نہ ہونے کے باوجود جھوٹی عزت اور شہرت حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ مراتب پر فائز ہونے کے بلند وبانگ جھوٹے دعوے کرتے ہیں ، خلافِ شرع امور کا ارتکاب کر کے خلق خدا کی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنے بناوٹی تصوف کو اعلیٰ جانتے اور علماء وفقہاء ، مفسرین ومحدثین اور اکابر اہل علم کو حقارت کی
نگاہ سے دیکھتے اور لوگوں کو ان سے بد ظن کرتے ہیں ، یونہی وہ لوگ جو فقیر بن کر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں یہ ہر گز افضل نہیں کیونکہ افضلیت کی بنیادی وجہ صورت و سیرت اور عمل و کردار کا شریعت کے مطابق ہونا ہے اورجو خلاف شرع اُمور کا مرتکب ہو وہ کس طرح افضل ہو سکتا ہے؟نکاح کے لئے دِین داری دیکھی جائے:مذکورہ حدیث پاک سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہواکہ عورت کے نکاح کے لئے ایسے مرد کا انتخاب کیا جائے جو دیندار اور احکام شرع کا پابند ہو اگرچہ وہ غریب ہی کیوں نہ ہو اور ایسے شخص کے انتخاب سے اجتناب کیا جائے جو دولت مند اور رئیس تو ہو مگر دین دار نہ ہو۔ اس میں ایسے لوگوں کے لیے عبرت کے بے شمار مدنی پھول ہیں جو اپنے بیٹوں ، بیٹیوں کے لیے دین داری کے بجائے مال ودولت اور بینک بیلنس ، بنگلہ گاڑی والے رشتوں کی تلاش میں رہتے ہیں ، بلکہ جب تک مطلوبہ رشتہ نہ مل جائے اس وقت تک کہیں اور نکاح کےلیے تیار ہی نہیں ہوتےنیز انہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کی جوان اولادجوانی کی دہلیز سےنکل کر بڑھاپے کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 158صفحات پر مشتمل کتاب ’’اسلامی زندگی‘‘ کے صفحہ 38 پر لکھا ہے : “ سخت غلطی یہ ہے کہ لڑکی اور لڑکے مالدار تلاش کئے جائیں کیوں کہ مالدار کی تلاش میں لڑکے اور لڑکیاں جوان ، جوان بیٹھے رہتے ہیں نہ کوئی خاطر خواہ مالدار ملتا ہے نہ شادیاں ہوتی ہیں۔ اور جوان لڑکی ماں باپ کے لیے پہاڑ ہے اس کو گھر میں بغیر نکاح رکھنا سخت خرابیوں کی جڑ ہے۔ دوسری یہ کہ جو محبت و اخلا ق غریبوں میں ہے وہ مالداروں میں نہیں ، تیسرے یہ کہ اگر مالدار کو تم اپنی کھال بھی اتار کر دے دو ، ان کی آنکھ میں نہیں آتا ، یہ طعنے ہوتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں ملا اور اگر دلہن والے مال دارہیں تو داماد مثل نوکر کے سُسرال میں رہتے ہیں۔ بیوی پر شوہر کا کوئی رُعب نہیں ہوتا۔ اگر دولہاوالے مال دار ہیں تو لڑکی اس گھر میں لونڈی یا نوکرانی کی طرح ہوتی ہے۔ ‘‘( )
اللہ عَزَّوَجَلَّ والدین کو عقل سلیم عطا فرمائے ، اورانہیں اپنے بیٹوں خصوصاً بیٹیوں کے لئے نیک اور پرہیزگار رشتے تلاش کرنے اورنکاح میں دِین داری کو ترجیح دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’اِخلاص‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)دنیا کی مال و دولت اور منصب و وجاہت کو عزت و ذلت اور عظمت وفضیلت کا معیار سمجھنا درست نہیں بلکہ اس کا حقیقی معیار تقویٰ و پرہیز گاری اور نیک عمل و کردار ہے۔(2)امیروں کے مقابلے میں عموماًغریب لوگ دِین اور اُس کے اَحکام پر عمل کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں ، اِن میں اِخلاص بھی ہوتا ہے اور اِن کے کاموں میں کوئی فاسد غرض شامل نہیں ہوتی۔(3)بعض مال دار بھی باعمل فقیروں سے افضل ہوتے ہیں۔(4)با عمل فقیر بے عمل امیر سے افضل ہے جبکہ بے عمل فقیرکسی سے افضل نہیں۔(5)اپنے یا اپنے بچوں کے نکاح میں دین داری کو ترجیح دینی چاہیے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ∞ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بقدر ضرورت ظاہری مال ودولت کے ساتھ ساتھ اخلاص ، تقویٰ و پرہیزگاری کی باطنی دولت بھی عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 253