- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- حدیث نمبر 255
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّهُ لَيَاْتِي الرَّجُلُ السَّمِيْنُ الْعَظِيمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ. ( )
وعن ابي هريرة رضي الله عنه ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : انه لياتي الرجل السمين العظيم يوم القيامة لا يزن عند الله جناح بعوضة. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک قیامت کے دن ایک بڑااورموٹا آدمی آئے گا جس کاوزن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا۔ ‘‘
شرح حدیث
مچھر کے پرکے برابر وزن نہ ہونے کا مطلب:ا س حدیث پاک میں عظیم سے مراد مال و دولت اور منصب و مرتبے والا جبکہ سمین سے موٹا اور صحت مند آدمی مراد ہے اوربعض شارحین کے نزدیک اس کا وزن مچھر کے پر کے برابر نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں اس نے جو نیک اعمال(کفر کی حالت میں یا اخلاص کے بغیر) کئے ہوں گے قیامت کے دن اُن کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گااور بعض نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن (کفر اور نفاق کی وجہ سے)اس کی ذلت و حقارت کا یہ حال ہو گاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مچھر کے پر کےبرابر بھی ا س کی کوئی
حیثیت اور قدر ومنزلت نہ ہو گی۔ ‘‘( )عمل کی مقبولیت کے لئے درکار تین چیزیں:یاد رہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں وہ نیک عمل مقبول ہے جو ایمان کی حالت میں ، تمام حقوق و آداب کے ساتھ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے کیاگیا ہو چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹)(پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۱۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی۔صدرُ الاَفاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘میں فرماتے ہیں : ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ عمل کی مقبولیت کے لئے تین چیزیں درکار ہیں : ایک تو طالبِ آخرت ہونا یعنی نیت نیک۔ دوسرے سعی یعنی عمل کو باہتمام اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنا۔ تیسری ایمان جو سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ‘‘( )
اس سے واضح ہوا کہ جسےمنصب ، مرتبہ ، مال و دولت اور جسمانی صحت جیسی نعمتیں ایمان کی حالت میں اورشریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے حاصل ہوں ، نیزوہ اُن کا استعمال شریعت کے اَحکامات کے مطابق کرے تواُسے قیامت کے دن یہ نعمتیں کام آئیں گی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ایسے شخص کی قدر ومنزلت بھی ہو گی اور جسے یہی نعمتیں کفرو نفاق کی حالت میں اورشریعت کے اَحکامات کی مخالفت کر کے حاصل ہوں ، یونہی وہ اُن کا استعمال بھی احکامِ شریعت کے بر خلاف کرےتو قیامت کے دن اُسے اِن سے کچھ فائدہ نہ ہو گا بلکہ یہ اُس کے لئے وبالِ جان بن جائیں گی اوراِن نعمتوں کے حامل کافر ومنافق شخص کی بارگاہِ الٰہی میں کوئی حیثیت نہ ہو گی۔
کافروں اور ریاکاروں کےاعمال کا حال:وہ لوگ جوکفر کی حالت میں نیک اعمال کر کر کے تھکےاور یہ اُمید لگائے بیٹھے ہوں کہ ان اعمال پر انہیں فضل و انعامات سے نوزا جائے گا ، اسی طرح وہ لوگ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ لوگوں کو دکھانے اور اپنی واہ واہ کروانے کے لئے نیک اعمال کرنے کی مشقت اٹھاتے ہوں ، قیامت کے دن ان کے یہ اعمال باطل ، مَردود اور بے وزن ہوں گے جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ(۱۰۳) اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا(۱۰۴) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(۱۰۵)(پ۱۶ ، الکھف ، ۱۰۳ تا۱۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کررہے ہیں یہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت(ضائع) ہے تو ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے ۔
اوراخلاص کی دولت سے محروم شخص کی مثال بیان کرتے ہوئے مسلمانوں سے ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًاؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(۲۶۴)(پ۳ ، البقرۃ : ۲۶۴)ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔
اس آیت میں بیان کی گئی مثال کی وضاحت کرتے ہوئے صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘میں فرماتے ہیں : ’’یہ منافق ریا کار کے عمل کی
مثال ہے کہ جس طرح پتھر پر مٹی نظر آتی ہے لیکن بارش سے وہ سب دور ہو جاتی ہے خالی پتھر رہ جاتا ہے یہی حال منافق کے عمل کا ہے کہ دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ عمل ہے اور روزِ قیامت وہ تمام عمل باطل ہوں گے کیونکہ رِضائے الٰہی کے لئے نہ تھے۔ ‘‘( )اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے حال پر رحم فرمائے اوراِخلاص کی دولت عطا فرمائے۔ آمیننیک اَعمال میں وزن نہ ہونے کا انجام:یہ بھی یاد رہے کہ انسان دنیا میں اچھے یا بُرے جو بھی اَعمال کرتا ہے ، اُن کے بارے میں عمومی قانون یہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں میزا نِ عمل میں تولا جائے گا ، پھر جس کی نیکیوں کا وزن زیادہ ہو گا تو اُسے جنت میں داخلے کی صورت میں کامیابی نصیب ہو گی اور جس کی نیکیوں کاوزن کم ہو گاتو وہ جہنم کے عذاب کا حقدار ہو گا اور جس کی نیکیوں میں کچھ بھی وز ن نہ ہوگاتووہ ہمیشہ کے لئے داخل جہنم ہو کر سب سے زیادہ خسارے میں رہے گا ، چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸) وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ(پ۸ ، اعراف : ۸ ، ۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پلّے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچےاور جن کے پلے ہلکے ہوئے تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے :فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ(۶) فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ(۷) وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ(۸) فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ(۹) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ(۱۰) نَارٌ حَامِیَةٌ۠(۱۱)(پ۳۰ ، القارعۃ : ۶تا۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان : تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں وہ تو من مانتے عیش میں ہیں اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہےاور تو نے کیا جانا کیا نیچا دکھانے والی ایک آ گ شعلے مارتی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ایمان اور اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے پر استقامت عطا فرمائے اوراپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدنی گلدستہ
’’ایمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اِیمان اور اِخلاص کے بغیر مال و دولت اور صحت و جسامت کی کوئی قدر ومنزلت نہیں ہے۔
(2)کفار نیک اَعمال کی مشقت اُٹھانے کے باوجود قیامت کے دن سب سے زیادہ خسارے میں ہوں گے ۔
(3)کفر ونفاق سے نیک عمل برباد وباطل ہوجاتا ہے اور ریاکاری سے عمل کا ثواب نہیں ملتا۔
(4)ایمان اور اخلاص سے خالی نیکیاں قیامت کے دن وزن سے خالی ہو ں گی۔
(5)نیکیوں میں وزن کم ہونا جہنم میں داخلے کا سبب ہے اور وزن بالکل نہ ہونا ہمیشہ کے لئے دخول جہنم کا سبب ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اعمال کرنے ، گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اخلاص کی دولت عطا فرمائے ، کل بروزِقیامت بلا حساب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 255