Main Icon

کمزور مسلمانوں کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 257

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ مَدْفُوْعٍ بِالْاَبْوَابِ لَوْ اَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَاَبَرَّهُ. ( )

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : رب اشعث اغبر مدفوع بالابواب لو اقسم على الله لابره. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بہت سے لوگ ایسے ہیں جو پراگندہ بالوں والے ، غبارآلوداور دروازوں سے ہٹائے ہوئے ہیں (لیکن بارگاہِ الٰہی میں ان کا مقام یہ ہے کہ) اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ (کے بھروسے)پر قسم کھا لیں تووہ ضرور اُن کی قسم کو پورا فرما دے۔ ‘‘

شرح حدیث

’’دروازوں سے ہٹائے ہوئے‘‘کا معنی:علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان’’مَدْفُوعٍ بِالْاَبْوَابِیعنی دروازوں سے ہٹائے ہوئے‘‘ کا یہ مطلب نہیں کہ وہ (عام فقیروں کی طرح) دنیا داروں کے دروازوں پر جاتے ہیں اور وہاں سے نکال دیئے جاتے ہیں کیونکہ(عمومی طور پر) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اولیاء اِس ذلت سے محفوظ ہیں ، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی کے دروازے پر نہیں جاتے ، اگر بالفرض جائیں تو لوگوں کی نظر میں حقیر ہونے کی بنا پر کوئی اُن سے ملنا گوارا نہ کرے گااور یہ اس لئے ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے لوگوں سے اُن کا حال چھپانے کا اِرادہ فرمایا ہے تاکہ انہیں غیر سے انسیت نہ ہو ، ظلمت کے دروازوں پر کھڑے ہونے اور حرام کھانے سے بچے رہیں ، صرف اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے دروازے پر حاضر رہیں اور(مخلوق سے) ایسے بے نیاز ہو جائیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی سے کوئی سوال نہ کریں۔ ‘‘( )رب تعالیٰ کےگمنام بندوں کی شان:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے جن بندوں کا حال مخلوق سے چھپایا ہے انہیں دی جانے والی عظمت وشان کے

بارے میں دو فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ ہوں :
(1)’’اہل جنت کے بادشاہ گرد آلود چہرے ، بکھرے بالوں والے اور پھٹے پرانے کپڑوں والے وہ لوگ ہیں جن کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی ، اگر وہ بادشاہوں کے پاس جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہ ملے ، عورتو ں سے نکا ح کا پیغام دیں تو اِنکار کر دیا جائے ، جب بات کریں تو اُن کی بات سنی نہ جائےاوراُن کی ضروریات اُن کے سینوں میں ہلچل مچا رہی ہوتی ہیں ، یہ ایسے جنتی ہیں کہ بروزِ قیامت اِن میں سے ایک کا نوربھی تمام لوگوں پر تقسیم کر دیا جائے تو وہ سب کو پورا ہو جائے۔ ‘‘( )
(2)’’بے شک میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر وہ تم سے ایک دینار مانگیں تو تم انہیں نہ دو ، اگر ایک درہم کا سوال کریں تو تم منع کر دو اور اگر ایک پیسہ مانگیں تب بھی تم انکار کر دو حالانکہ ان کی شان یہ ہے کہ اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے جنت مانگ لیں تو وہ ضرور انہیں عطا کر دے ، بہت سے پھٹے پرانے کپڑوں والے ایسے ہیں کہ ان کی پرواہ نہیں کی جاتی لیکن اگر وہ کسی بات پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھا لیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسےضرور پورا فرما دے۔ ‘‘( )
مقبول بندوں کے 3 واقعات:مذکورہ فرامین مبارکہ سے معلوم ہو اکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے مقبول بندوں کی قسم کو پورافرما دیتا ہے ، اسی مناسبت سے قسم پوری ہونے کے تین واقعات پیش خدمت ہیں :
(1)حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضرت سیدنا رُبَیع بنتِ نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک لڑکی کے سامنے والے دانت توڑ دیئے تو اس کے رشتہ داروں نے قصاص کا مطالبہ کیا ، اِن کے رشتہ داروں نے (دیت لے کرقصاص) معاف کر دینے کی درخواست کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر یہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے قصاص کا حکم فرما دیا۔ حضرت سیدنا

اَنس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’کیا رُبَیع کے اگلے دانت توڑے جائیں گے ؟ایسا نہیں ہو سکتا ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا!اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے۔ ‘‘ارشاد فرمایا’’اے انس!کتاب اللہ میں قصاص کا حکم ہے ۔ ‘‘اتنی دیر میں وہ لوگ راضی ہو گئے اور (دیت قبول کر کے قصاص)معاف کر دیا ، اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّکے بندوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر وہ اس کے بھروسے پر قسم کھا لےتووہ رب تعالیٰ اسے سچا کر دیتا ہے۔ ‘‘( )
(2)حضر ت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا رُبَیع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہن ام حارثہ نے کسی کو زخمی کر دیا تو اس کے رشتہ داروں نےسرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں اس کا مقدمہ پیش کیا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اس کاقصاص لیا جائے گا ، اس کاقصاص لیا جائے گا ۔ ‘‘حضرت سیدنا رُبَیع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی والدہ نے عرض کی : ’’ یَارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیافلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ ‘‘حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ سُبْحَانَ اللہ ، اے رُبَیع کی ماں!کتاب اللہ میں قصاص کا حکم ہے۔ ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’نہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!اس سےکبھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ ‘‘حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’وہ مسلسل یہی کہتی رہیں یہاں تک کہ ان لوگوں نے دیت قبول کر لی تب رحمتِ عالم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی اللہ عَزَّوَجَلَّ (کے بھروسے)پر قسم کھالے تو وہ اس کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔ ‘‘( )
(3)حضرت سَیّدنا محمد بن سوید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں قحط پڑگیااوروہاں ایک ایسا شخص بھی تھاجو ہر وقت مسجد نبوی میں رہتا اور کسی کو اس کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ اہل

مدینہ دعا میں مشغول تھے کہ ایک شخص آیا جس پر دو پرانی چادریں تھیں ، اس نے دو مختصر رکعت نماز ادا کرنے کے بعداپنے ہاتھ پھیلا دئیے اور عرض کرنے لگا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میں تجھے قسم دیتا ہو ں ، ہم پر ابھی بارش نازل فرما دے۔ ‘‘ابھی اس کے ہاتھ بلند اور دعا جاری تھی کہ آسمان بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیااور اتنی زور داربارش ہونے لگی کہ اہل مدینہ ڈوبنے کے خوف سے چیخنے لگ گئے ۔ اس شخص نے عرض کی : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!اگر تیرے علم میں یہ ان کے لئے کافی ہے تو بارش روک دے۔ ‘‘پس اسی وقت بارش رک گئی۔ دعا مانگ کریہ شخص وہاں سے روانہ ہواتو مسجد میں رہنے والا وہ نیک شخص ا س کے پیچھے ہو لیا ، یہاں تک کہ اس کا گھر دیکھ کر واپس آ گیا۔ اگلی صبح یہ نیک آدمی ا س کے گھر گیااور کہا : ’’میں ایک کام سے آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ ‘‘ اس شخص نے کہا : ’’فرمائیے کیاکام ہے؟‘‘اس نیک آدمی نے کہا : ’’میرے حق میں دعا فرما دیں۔ ‘‘اس نے جواب دیا : ’’سُبْحَانَ اللہ!آپ کی شان تو بہت بڑی ہے اور آپ مجھ سے دعا کا سوال کر رہے ہیں۔ ‘‘پھر ا س نیک آدمی نے پوچھا : ’’جو کچھ میں نے دیکھااس مقام تک آپ کی رسائی کیسے ہوئی؟‘‘اس نے جواب دیا : ’’میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے احکام میں اس کی اطاعت کی ، اب میں نے ا س سے مانگا تو اس نے مجھے عطا کر دیا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’ولایت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)کچھ لوگ بندوں کی نظر میں حقیر ہوتے ہیں لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ان کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہوتا ہے لہذا کسی کو بھی ظاہری حلیہ دیکھتے ہوئے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خاص الخاص بندے دنیا داروں کے دروازوں پر جانے کی ذلت سے محفوظ ہیں۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی بارگاہ کے بعض مقبول بندوں کا حال لوگوں سے چھپادیتا ہے جس کی وجہ سے لوگ ان کی حقیقت کو پہچان نہیں سکتے ۔

(4)اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے اطاعت گزار بندوں کی دعائیں خاص طور پر قبول فرماتا اور بسا اوقات ان کی قبولیت کو فوراً ظاہر بھی فرما دیتا ہے۔
(5)اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے ولیوں اور برگزیدہ بندوں کو بہت عظمتیں اور شانیں عطا فرمائی ہیں ، لہذا ان مقدس ہستیوں کی گستاخی سے بچنا چاہیے اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کرنا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ولیوں کی معرفت عطا فرمائے ، ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کو حقیر جاننے سے محفوظ فرمائے ، ہمیں بھی اپنے مقرب بندوں کے صدقے نیک پرہیزگار بنائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 257