- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- حدیث نمبر 259
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَمْ يَتَكَلَّمْ في المَهْدِ اِلَّا ثَلَاثَةٌ : عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ ، وَكَانَ جُرَيْجٌ رَجُلاً عَابِداً ، فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً فَكَانَ فِيهَا فَاَتَتْهُ اُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي
فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ فَقَالَ : يَا رَبِّ اُمِّيْ وَصَلاتِيْ فَاَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهٖ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الغَدِ اَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ فَقَالَ : اَيْ رَبِّ اُمِّيْ وَصَلَاتِي فَاَقْبَلَ عَلٰى صَلاتِهٖ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الغَدِ اَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ فَقَالَ : اَيْ رَبِّ اُمِّيْ وَصَلَاتِيْ فَاَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهٖ فَقَالَتْ : اَللّٰهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتّٰى يَنْظُرَ اِلٰی وُجُوهِ الْمُوْمِسَاتِ فَتَذَاكَرَ بَنُو اِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ وَكَانَتِ امْرَاَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بحُسْنِهَا فَقَالَتْ : اِنْ شِئْتُمْ لَاَفْتِنَنَّهُ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ اِلَيْهَا فَاَتَتْ رَاعِياً كَانَ يَاْوِي اِلٰی صَوْمَعَتِهٖ فَاَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَتْ : هُوَ مِنْ جُرَيْج فَاَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوْهُ وَهَدَمُوْا صَوْمَعَتَهُ وَجَعَلُوْا يَضْرِبُوْنَهُ فَقَالَ : مَا شَاْنُكُمْ قَالُوا : زَنَيْتَ بهٰذِهِ الْبَغِيِِّ فَوَلَدَتْ مِنْكَ قَالَ : اَيْنَ الصَّبيُّ فَجَاؤُوْا بِهٖ فَقَالَ : دَعُوْنِیْ حَتّٰى اُصَلِّي فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ اَ تَى الصَّبيَّ فَطَعنَ في بَطْنِهٖ وَقالَ : يَا غُلامُ مَنْ اَبُوْكَ قَالَ : فُلانٌ الرَّاعِي فَاَقْبَلُوْا عَلٰی جُرَيْجٍ يُقَبِّلُوْنَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهٖ وَقَالُوا : نَبْنِي لَكَ صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ : لَا اُعِيْدُوْهَا مِنْ طِيْنٍ كَمَا كَانَتْ فَفَعَلُوْا وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ منْ اُمِّهٖ فَمَرَّ رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلٰى دَابَّةٍ فَارِهَةٍ وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ فَقَالَتْ اُمُّهُ : اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ اِبْنِيْ مِثْلَ هَذَا فَتَرَكَ الثَّدْيَ وَاَقْبَلَ اِلَيْهِ فَنَظَرَ اِلَيْهِ ، فَقَالَ : اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَى ثَدْيَهُ فَجَعَلَ يَرتَضِعُ فَكَاَنِّي اَنْظُرُ اِلٰی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَهُوَ يَحْكِي ْ اِرْتَضَاعَهُ بِاُصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ في فِيهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا قَالَ : وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُم يَضْرِبُوْنَهَا ويَقُولُونَ : زَنَيْتِ سَرَقْتِ وَهِيَ تَقُولُ : حَسْبِيَ اللهُ ونِعْمَ الوَكِيلُ فَقَالَتْ اُمُّهُ : اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَل اِبْنِيْ مِثْلَهَا فَتَركَ الرَّضَاعَ ونَظَرَ اِلَيْهَا فَقَالَ : اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِثْلَهَا فَهُنَالِكَ تَرَاجَعَا الْحَدِيْثَ فَقَالَتْ : مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ فَقُلْتُ : اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ اِبْنِيْ مِثْلَهُ فَقُلْتَ : اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِيْ مِثْلَهُ وَمَرُّوا بِهٰذِهِ الْاَمَةِ وَهُمْ يَضْرِبُوْنَهَا وَيَقُوْلُوْنَ : زَنَيْتِ سَرَقْتِ فَقُلْتُ : اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلِْ اِبْنِيْ مِثْلَهَا فَقُلْتَ: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِثْلَهَا!قَالَ : اِنَّ ذٰلِكَ الرَّجُلَ كَانَ جَبَّارًا فَقُلْتُ : اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِيْ مِثْلَهُ وَاِنَّ هٰذِهٖ يَقُوْلُوْنَ : زَنَيْتِ وَلَمْ تَزْنِ وَسَرقْتِ وَلَمْ تَسْرِقْ فَقُلْتُ : اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِيْ مِثْلَهَا.( )
عن ابی هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لم يتكلم في المهد الا ثلاثة : عيسى ابن مريم وصاحب جريج ، وكان جريج رجلا عابدا ، فاتخذ صومعة فكان فيها فاتته امه وهو يصلي
فقالت : يا جريج فقال : يا رب امي وصلاتي فاقبل على صلاته فانصرفت فلما كان من الغد اتته وهو يصلي فقالت : يا جريج فقال : اي رب امي وصلاتي فاقبل على صلاته فلما كان من الغد اتته وهو يصلي فقالت : يا جريج فقال : اي رب امي وصلاتي فاقبل على صلاته فقالت : اللهم لا تمته حتى ينظر الی وجوه المومسات فتذاكر بنو اسرائيل جريجا وعبادته وكانت امراة بغي يتمثل بحسنها فقالت : ان شئتم لافتننه فتعرضت له فلم يلتفت اليها فاتت راعيا كان ياوي الی صومعته فامكنته من نفسها فوقع عليها فحملت فلما ولدت قالت : هو من جريج فاتوه فاستنزلوه وهدموا صومعته وجعلوا يضربونه فقال : ما شانكم قالوا : زنيت بهذه البغي فولدت منك قال : اين الصبي فجاؤوا به فقال : دعونی حتى اصلي فصلى فلما انصرف ا تى الصبي فطعن في بطنه وقال : يا غلام من ابوك قال : فلان الراعي فاقبلوا علی جريج يقبلونه ويتمسحون به وقالوا : نبني لك صومعتك من ذهب قال : لا اعيدوها من طين كما كانت ففعلوا وبينا صبي يرضع من امه فمر رجل راكب على دابة فارهة وشارة حسنة فقالت امه : اللهم اجعل ابني مثل هذا فترك الثدي واقبل اليه فنظر اليه ، فقال : اللهم لا تجعلني مثله ثم اقبل على ثديه فجعل يرتضع فكاني انظر الی رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يحكي ارتضاعه باصبعه السبابة في فيه فجعل يمصها قال : ومروا بجارية وهم يضربونها ويقولون : زنيت سرقت وهي تقول : حسبي الله ونعم الوكيل فقالت امه : اللهم لا تجعل ابني مثلها فترك الرضاع ونظر اليها فقال : اللهم اجعلني مثلها فهنالك تراجعا الحديث فقالت : مر رجل حسن الهيئة فقلت : اللهم اجعل ابني مثله فقلت : اللهم لا تجعلني مثله ومروا بهذه الامة وهم يضربونها ويقولون : زنيت سرقت فقلت : اللهم لا تجعل ابني مثلها فقلت: اللهم اجعلني مثلها!قال : ان ذلك الرجل كان جبارا فقلت : اللهم لا تجعلني مثله وان هذه يقولون : زنيت ولم تزن وسرقت ولم تسرق فقلت : اللھم اجعلني مثلها.( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جُھولے میں تین بچوں نے کلام کیا ہے ، ایک حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے۔ دوسرے جریج والے بچے نے ، یہ ایک عبادت گزار آدمی تھااور اِس نے ایک عبادت خانہ بنایا ، ایک دن وہ اپنے عبادت خانے میں نماز پڑھ رہاتھاکہ اُس کی ماں آئی اور کہا : ’’اے جُریج۔ ‘‘اِس نے(دل ہی دل میں) کہا : ’’اے میرے ربّ!ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میری نماز ہے۔ ‘‘پھر وہ نماز پڑھتا رہا اور اُس کی ماں واپس لوٹ گئی ، جب دوسرے دن آئی تواُس وقت بھی یہ نماز پڑھ رہاتھا ، اُس نے کہا : ’’ اے جُریج۔ ‘‘ تواِس نے(دل میں) کہا : ’’اے میرے رب!ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میری نماز ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ نماز پڑھتارہا ۔ ماں واپس چلی گئی اور جب تیسرے دن آئی تو اس وقت بھی جُریج نماز پڑھ رہا تھا ، اس نے کہا : ’’اے جُریج۔ ‘‘تو اُس نے (دل میں )کہا : ’’اے میرے رب!ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میری نماز ہے۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ نماز میں ہی مصروف رہا۔ اس کی ماں نے دعا کی : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اِسے اُس وقت تک موت نہ دینا جب تک یہ زانیہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ ‘‘بنی اسرائیل کے لوگ جُریج اور اُ س کی عبادت کا بہت چرچا کرتے تھے۔ اِن میں ایک فاحشہ عورت تھی جس کے حُسن کی مثال دی جاتی تھی ، اُس نے کہا : ’’اگر تم چاہو تو میں جُریج کو فتنے میں مبتلا کر دوں؟‘‘پھر وہ جُریج کے سامنے آئی تو اُس نے اِس کی طرف توجہ نہ کی ، یہاں سے نکل کر وہ ایک چرواہے کے پاس آئی جو جُریج کے عبادت خانے میں رہتا تھا ، اس نے چرواہے کو اپنے اوپرقدرت دی تو اُس نے اِس کے ساتھ زنا کیا جس سے یہ حاملہ ہو گئی ، پھر جب اِس نے بچہ جَن دیا تو کہنے لگی : ’’یہ جُریج کا بچہ ہے ۔ ‘‘یہ سن کر بنی اسرائیل جُریج کے پاس آئے اوراسے عبادت خانے سے اتار کر عبادت خانہ منہدم کر دیااور اسے مارنے لگے ، یہ صورت حال دیکھ کر جُریج نے کہا : ’’تم یہ ہنگامہ کیوں کر رہے ہو؟‘‘لوگوں نے کہا : ’’تم نے اس فاحشہ عورت کے ساتھ زنا کیااور ا س نے تیرا بچہ جنا ہے ۔ ‘‘ جُریج نے کہا : ’’وہ بچہ کہاں ہے؟‘‘لوگ بچے کو لے کر آئے تو جُریج نے کہا : ’’مجھے کچھ وقت دو تاکہ میں نماز پڑھ لوں۔ ‘‘پھر اُس نے نماز پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد بچے کے پیٹ میں انگلی مار کر کہا : ’’اے بچے!تیرا باپ کون ہے؟‘‘اس نے جواب دیا : ’’فلاں چرواہا۔ ‘‘یہ سن کر لوگ جُریج کی طرف لپکےاوراس کا بوسہ لینا اور (برکت کے لئے) اسے چھونا شروع کر دیا اور کہنے لگے : ’’ہم آپ کے لئے سونے کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں۔ ‘‘
جُریج نے کہا : ’’نہیں ، بس تم اسے پہلے کی طرح مٹی سے بنا دو۔ ‘‘چنانچہ انہوں نے ویسا ہی عبادت خانہ بنا دیا۔
(جھولے میں کلام کرنے والے تیسرے بچے کا واقعہ یہ ہے کہ )ایک بچہ اپنی والدہ کا دودھ پی رہاتھا ، اس دوران ایک شخص عمدہ سواری پر اچھی پوشاک پہنے ہوئے گزرا تو اس کی ماں نے دعا مانگی : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرے بیٹے کو بھی اس جیسا بنا دے۔ ‘‘یہ سن کربچے نے دودھ پینا چھوڑ دیا اوراس شخص کی طرف منہ کرکے اسے دیکھتا رہا ، پھر کہا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے اِس جیسا نہ بنا۔ ‘‘پھر دودھ پینا شروع کر دیا۔ (اس حدیث کے) راوی کہتے ہیں کہ میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف دیکھ رہاتھا ، آپ اپنی شہادت کی انگلی کو منہ میں ڈال کر اس کو چوستے ہوئے بچے کے دودھ پینے کی حکایت کر رہے تھے ۔ (مزید ارشاد فرمایا : )پھر ان کا گزر ایک باندی کے پاس سے ہوا جسے لوگ مار رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے ، تو نے چوری کی ہے اور وہ جواب میں کہتی تھی : ’’مجھے اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے ۔ ‘‘اس بچے کی ماں نے کہا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنا۔ ‘‘اس بچے نے دودھ چھوڑا اور باندی کی طرف دیکھ کر کہنے لگا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اس جیسا بنا۔ ‘‘تب ماں بیٹے میں بحث ہوئی ، ماں نے کہا : ’’ایک اچھی حیثیت والا شخص گزرا اور میں نے دعا مانگی کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میرے بیٹے کو بھی اس جیسا بنا دے ، تو تم نے کہا : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اِ س جیسا نہ بنانا اور ا س باندی کو لوگ مار رہے تھے اور ا س سے کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے ، تو نے چوری کی ہے ، اس پر میں نے دعا مانگی کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ بنا لیکن تو نے کہا کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اس جیسا بنا دے(تم نے ایسی دعا کیوں کی؟)۔ ‘‘بچے نے جواب دیا : ’’وہ شخص ایک ظالم انسان تھااس لئے میں نے دعا کی کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اس جیسانہ بنااور جس باندی سے یہ کہہ رہے کہ تو نے زنا کیا ہے ، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ تو نے چوری کی ہے حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی ، اس لئے میں نے دعا کی کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اس جیسا بنا دے۔ ‘‘
شرح حدیث
مشکل الفاظ کے معانی : مُوْمِسَات : اس سے مراد زانیہ عورتیں ہیں ، مُوْمِسَہْ زانیہ عورت کو کہتے ہیں۔ دَابَّۃٌ فَارِہَۃٌ : پھرتیلا اور عمدہ سواری کا جانور۔ اَلشَّارَۃُ۔ لباس اور ہیئت میں ظاہر ہونے والا جمال۔ تَرَاجَعَا الْحَدِیْثَ : اس کا معنیٰ یہ ہے کہ عورت نے بچے سے بات کی اور بچے نے عورت سے بات کی ۔
والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک عظیم نیکی ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک اور اُن کی خدمت کرناعظیم نیکی ہے اور اِس کی عظمت و اہمیت اور ضرورت کا اندازہ اِس آیت مبارکہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ والدین سے بھلائی کرنے کا بھی حکم دیاہے ، چنانچہ ارشاد ہوتاہے :وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ- وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا(پ۱ ، البقرۃ : ۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔
صدرُالافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم فرمانے کےبعد والدین کے ساتھ بھلائی کرنےکا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت بہت ضروری ہے۔ والدین کے ساتھ بھلائی کے یہ معنیٰ ہیں کہ ایسی کوئی بات نہ کہے جس سے انہیں ایذا ہو اور اپنے بدن ومال سے اُن کی خدمت میں دریغ نہ کرے جب انہیں ضرورت ہو اُن کے پاس حاضر ہو۔ مسئلہ : اگر والدین اپنی خدمت کے لئے نوافل چھوڑنے کا حکم دیں تو چھوڑ دے ، اُن کی خدمت نفل سے مقدم ہے ۔ مسئلہ : واجبات والدین کے حکم سے ترک نہیں کیے جاسکتے۔ ‘‘( )حسن سلوک کا زیادہ حق دارکون ہے؟حسن سلوک کی سب سے زیادہ حق دار ماں ہےجیسا کہ حضرت سَیّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! لوگوں میں میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’تیری ماں۔ ‘‘عرض کی : ’’پھر کون ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’تیری ماں۔ ‘‘عرض کی : ’’پھر کون ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’تیری ماں۔ ‘‘عرض کی : ’’پھر کون ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’تیرا باپ۔ ‘‘( )
والدین کی دعا مقبول ہوتی ہے:والدین اپنی اولاد کے بارے میں جو دعا مانگتے ہیں وہ مقبول ہوتی ہے جیساکہ اِس حدیث پاک میں ماں کی دعا مقبول ہونے کا ذکر ہےاور والد کی دعا کے بارے میں حضرت سَیّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رحمتِ عالم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’تین قسم کی دعائیں مقبول ہیں اور اُن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں : (۱)مظلوم کی دعا(۲) مسافر کی دعا (۳) باپ کی اپنے بیٹے کے لئے دعا۔ ‘‘( )اہم کام پہلےکیا جائے:مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کام زیادہ اہم ہو پہلے اسے کیا جائے ، جیسے نوافل ادا کرنے کے مقابلے میں والدین کا حکم ماننا اہم ہے ا س لئے پہلے ان کا حکم مانا جائے بعد میں نوافل ادا کئے جائیں ، اسی طرح خود پر اور اہل و عیال پر خرچ کرنا دوسروں پر خرچ کرنے سے اہم ہے اِس لئے پہلے اِن پر خرچ کیا جائے بعد میں دوسروں پر خرچ کیا جائے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اچھا صدقہ وہ ہے جس کے بعدمال داری قائم رہے (اور محتاجی نہ ہو)اور صدقہ دینے کی ابتدا اُن لوگوں سے کرو جوتمہارے زیر کفالت ہیں۔ ‘‘( )نیک لوگوں جیسا ہونے کی دعا مانگیں:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ بچے نے ظالم آدمی جیسا نہ ہونے اور نیک باندی جیسا ہونے کی دعا مانگی ، اس سے معلوم ہواکہ فاسق و فاجر ، ظالم و جابر ، مشہور دنیا داروں اور مالداروں جیسا ہونے کی دعا نہیں مانگنی چاہیے بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک اور پرہیزگار بندوں جیسا ہونے کی دعا مانگنی چاہیے اگرچہ وہ غریب ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ1∞کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نیکوں کے سردار اور
گناہوں سے معصوم ہونے کے باوجود نیکوں جیسا ہونے کی دعا مانگا کرتے تھے ۔ چنانچہ اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہحضور نبی کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یوں دعا مانگا کرتے تھے : ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اُن لوگوں میں سے بنا دے جو نیکیاں کریں تو خوش ہوں اور گناہ کریں تو مغفرت طلب کر یں۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’ماں باپ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول(1)والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا عظیم نیکی اور نفل نماز پر مقدم ہے۔
(2)فرائض و واجبات کی ادائیگی والدین کی اطاعت سے مقدم ہے جبکہ نوافل کی ادائیگی سے والدین کی جائز اُمور میں اِطاعت مقدم ہے۔
(3)حسن سلوک میں ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے۔
(4)والدین کی اپنی اولاد کے بارے میں مانگی ہوئی دعا قبول ہوتی ہے۔
(5)جب دو کام درپیش ہوں تو اُن میں جو سب سے اہم ہے اُسے پہلے کیا جائے۔
(6)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک اور پرہیزگار بندوں جیساہونے کی دعامانگنی چاہئے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے ، اُن کی ہرجائز کام میں اِطاعت کرنے ، اُن کی خدمت کرنے ، اُن کی دعائیں لینے کی توفیق عطا فرمائے ، اور ہمیں اپنے نیک پرہیزگار بندوں جیسا بنائے ، دنیا وآخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 259