باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 913
جلد 6
حدیث مبارکہ
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللہُ عَنْهُمَا اَنَّ اِمْرَاَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَهِيَ حُبْلٰى مِنَ الزِّنَا فَقَالَتْ: يَارَسُوْلَ اللہِ اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْهُ عَلَيَّ فَدَعَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَلِيَّهَا فَقَالَ:اَحْسِنْ اِلَيْهَا فَاِذَاوَضَعَتْ فَاْتِنِیْ بِهَا فَفَعَلَ فَاَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ اَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا.
عن عمران بن الحصين رضي اللہ عنهما ان امراة من جهينة اتت النبي صلى اللہ عليه وسلم وهي حبلى من الزنا فقالت: يارسول اللہ اصبت حدا فاقمه علي فدعا رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم وليها فقال:احسن اليها فاذاوضعت فاتنی بها ففعل فامر بها النبي صلى اللہ عليه وسلم فشدت عليها ثيابها ثم امر بها فرجمت ثم صلى عليها.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا عمران بن حُصَینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:قبیلہجُھَیْنَہکی ایک عورت جو زنا سے حاملہ تھی، بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں قابل حد ہوں،مجھ پر حد قائم کیجئے۔رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس کے سرپرست کو بلاکر ارشاد فرمایا: ”اِس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، جب بچہ پیدا ہوجائے تو اِسے میرے پاس لے آنا۔“ اُس شخص نے ایسا ہی کیا (پھر جب وہ عورت لائی گئی) تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم سے اُس عورت پر اس کے کپڑےاچھی طرح باندھ دیئے گئے پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے سنگسار کرنے کا حکم دیا۔چنانچہ اُسے سنگسار کیا گیا پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
شرح حدیث
حدیث کی باب سے مناسبت:یہ باب جس کی موت قصاص یا سزا کی وجہ سے قریب ہو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرنے کے بارے میں بھی ہے۔حدیث میں ہے کہ جس عورت کو سزا ہونے والی تھی نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس عورت کے سرپرست کو عورت کے ساتھ اچھا سُلوک کرنے کا حکم دیا۔ اسی لیےاِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیِّنے اِس حدیث کو اِس باب میں ذکر فرمایا۔عورت کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وجہ:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم کیوں دیا؟ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئےاِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیِّشرح مسلم میں فرماتے ہیں:اس عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم دینے کی دو وَجہیں ہیں:*∞ایک تو یہ کہ اُس کے عزیز و اقارِب کی طرف سے اُس پر خوف ہے کہ غیرت و عار کی وجہ سے وہ اسے تکلیف پہنچاسکتے ہیں تو انہیں اس چیز سے باز رہنے کےلیے اُس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔*∞دوسری وجہ یہ ہے کہ اُس پر رحم فرماتے ہوئے یہ حکم دیا کیونکہ وہ توبہ کرچکی ہے اور لوگوں کو اس کے ساتھ حُسنِ سُلُوک پر اُبھارا کیونکہ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والی عورت سے لوگ نفرت کرتے ہیں اور اُسے بُرا بھلا کہتے ہیں۔عورت کے کپڑوں کو باندھنے کا اس لئے فرمایا گیا تاکہ سنگسار کرتے وقت بے پردگی نہ ہو۔مریض کا خیال رکھنے کی ترغیب:مریض کے گھر والوں اور اس کے خادموں کو چاہیے کہ مریض کا اچھی طرح خیال رکھیں ۔اُس کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں۔حالتِ مرض میں تکلیف اور ایک ہی جگہ پڑا رہنے سے مریض کچھ چِڑ چِڑا بھی ہوجاتا ہے اور اسے ذرا ذرا سی بات پر غصہ آجاتا ہے۔ لہٰذا مریض کو ایسے وقت میں ہمدردی اور خیال کی ضرورت ہوتی ہے جتنا زیادہ اس کا خیال رکھا جائے گا اتنی جلدی وہ صحتیاب ہوگا ۔ اگر اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ مریض کی تیمارداری کریں گے تواِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّثواب بھی ملے گا جیساکہ پچھلے اَبواب میں مریض کی عیادت کرنے کے بہت سے فضائل گزرے ہیں۔ جب عیادت کرنے پربہت زیادہ اجر وثواب ہے تو جو ہر وقت مریض کے ساتھ رہے اُس کی دیکھ بھال کرے اس کا خیال رکھے تو اس کے لیے کتنا ثواب ہوگا۔چھوٹی تکلیف بڑا فائدہ:اس باب میں یہ بات بھی بیان کی گئی کہ مریض کی طرف سے پہنچنے والی مصیبت اورتکلیف کو برداشت کیا جائے اور اس پر صبر سے کام لیا جائے۔حضرت سَیِّدُنا ابو سعیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں: ”مسلمان کو جو تکلیف و اذیت اور غم پہنچے، یہاں تک کہ کانٹا جو اُسے چُبھے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔‘‘بیماری نعمتِ الٰہی ہے:بیمارکو چاہیے کہ بیماری کو زحمت نہیں بلکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نعمت خیال کرے چنانچہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”بیماری بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے ،اس کے مَنافِع بے شمار ہیں ، اگرچِہ آدمی کو بظاہر اس سے تکلیف پہنچتی ہے مگر حقیقۃً راحت و آرام کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آتا ہے۔یہ ظاہری بیماری جس کو آدمی بیماری سمجھتا ہے، حقیقت میں روحانی بیماریوں کا ایک بڑا زبردست علاج ہے۔حقیقی بیماری اَمراضِ رُوحانیہ(مثلا دنیا کی مَحَبت، دولت کی حرص ،بخل ، دل کی سختی وغیرہ)ہیں کہ یہ البتہ بہت خوف کی چیز ہے اور اِسی کو مرضِ مُہلک (یعنی ہلاک کرنے والی بیماری) سمجھنا چاہیے۔‘‘
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ”بیمار عابد “کے صفحہ نمبر4 پر فرماتے ہیں:”بیماری اور پریشانی پرشِکوہ کرنے کے بجائے صبر کی عادت بنانی چاہیے کہ شکایت کرنے سے مصیبت دور نہیں ہوجاتی بلکہ بے صبری کرنے سے صَبْرکا اَجرضائِع ہو جاتا ہے۔بلا ضرورت بیماری و مصیبت کا اِظہار کرنا بھی اچھی بات نہیں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم، نُورِمجسمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:’’جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اُس نے اسے چھپایا اور لوگوں سے اس کی شکایت نہ کی تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّپر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرما دے۔‘‘بیمار کے لیے تحفہ:فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:”جب کوئی بندہ بیمار ہوجاتا ہے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاُس کی طرف دَو فرشتے بھیجتا ہے کہ جاکر دیکھو میرا بندہ کیا کہتا ہے۔بیمار اگراللّٰہتعالیٰ کی حمد وثنا کرتا (مَثَلاًاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہتا )ہے تو فرشتےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں جاکر اس کا قَول عرض کرتے ہیں اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّخوب جانتا ہے ۔ ارشادِ الٰہی ہوتا ہے : ’’اگر میں نے اس بندے کو اس بیماری میں موت دے دی تو اسے جنت میں داخل کروں گا اور اگر صحت عطا کی تو اسے پہلے سے بھی بہتر گوشت اور خون دو ں گا اور اس کے گناہ کومعاف کردوں گا۔‘‘نوٹ:بیماری کے فضائل کے متعلق جاننے کے لیے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ48 صفحات پر مشتمل رسالے ”بیمار عابد “ کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔اس رسالے میں 78 بیماریوں کے روحانی علاج بھی موجود ہیں آپ خود بھی اس کا مطالعہ کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلائیں۔ یہ رسالہ آپ مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصل کرسکتے ہیں اور اسے دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ بھی کرسکتے ہیں۔مدنی گلدستہ’’نعمتِ رب‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) مریض کے گھر والوں اور خادموں کو چاہیے کہ مریض کا اچھی طرح خیال رکھیں۔
(2) جس کی موت جان لیوا مرض یا قصاص کی وجہ سے قریب ہو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے۔
(3) تیمادار کو چاہیے کہ بیمار کی طرف سے پہنچے والی تکلیف پر صبر کر کے اجر و ثواب کمائے۔
(4) بیماریاللّٰہتعالیٰ کی نعمت ہے۔
(5) ظاہری بیماری حقیقت میں باطنی بیماریوں کا علاج ہے۔
(6) بیمار کو چاہیے کہ اپنی بیماری اور تکلیف کا دوسروں پر بلا وجہ اِظہار نہ کرے اور نہ ہی شکوہ و شکایت کے الفاظ زبان پر لائے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بیمار کی تیمارداری کرنے ،اس کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے اور دوسروں کو بھی اس بات کی نصیحت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 913