Main Icon

باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 932

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّیْ عَلَيْهِ اُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ يَبْلُغُوْنَ مِائَةً كُلُّهُمْ يَشْفَعُوْنَ لَهُ اِلَّا شُفِّعُوْا فِيْهِ.

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: ما من ميت يصلی عليه امة من المسلمين يبلغون مائة كلهم يشفعون له الا شفعوا فيه.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جس میت پر بھی مسلمانوں کی ایسی جماعت نماز پڑھے جس کی تعداد سو (100) کو پہنچتی ہو اور وہ سب کے سب اُس کے لیے سفارش کریں تو اُس میت کے حق میں اُن کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔“

شرح حدیث

دعا کے سبب مغفرت:مذکورہ حدیثِ پاک میں نمازِ جنازہ میں سو آدمیوں کے شریک ہونے کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے کہ جس شخص کی نمازِ جنازہ سو(100)مسلمان پڑھیں اس کی بخشش کردی جاتی ہے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”جس بھی مسلمان میت پرمسلمانوں کی اتنی بڑی جماعت نماز پڑھے کہ جن کی تعداد سو (100) کو پہنچتی ہو اور وہ جماعت اُس میت کے لیے سفارش کریں یعنی وہ اس کے لیے دعا کریں تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّمیت کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔“ایک اشکال اور اس کا جواب:مذکورہ حدیث پاک پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس حدیث پاک میں ہے کہ جس میت کی نماز جنازہ میں سو (100) مسلمان شریک ہوں اور وہ اس کے لیے دعا کریں تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے جبکہ حضرت سَیِّدُنا کُرَیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ایک حدیث مروی ہے جس میں چالیس مسلمانوں کا ذکر ہے تو بظاہر ان اَحادیث میں تعارُض نظر آتا ہے لیکن درحقیقت ان میں کوئی تعارض نہیں۔ چنانچہ عَلّامہ تُورپَشتِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ اور حضرت سَیِّدُنا کُرَیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی بیان کردہ احادیث میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنےپہلے یہ ارشاد فرمایا ہو کہ جس جنازہ میں سو (100) مسلمان ہوں اس میت کی مغفرت ہو جائے گی اور پھر بعد میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے بندوں پر فضل و کرم میں زیادتی کرتے ہوئے چالیس آدمیوں کا ذکر فرمادیا۔ یہاں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ان دونوں عددوں سے کثرت مراد ہو کوئی خاص عدد مراد نہ ہو یعنی جس کے جنازہ میں کثیر لوگ شریک ہوں گے اس کی مغفرت کردی جائے گی۔“اِمَام قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَہَّابفرماتے ہیں:”ایک حدیثِ پاک میں تین صفوں کا ذکر ہے (یعنی جس کی نماز جنازہ میں تین صفیں ہوں گی اس پر جنت واجب ہے) تو اب ان تمام اَحادیث میں اختلاف نظر آتا ہے، اس وجہِ اختلاف کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے سائل کے سوال کے مطابق جوابات دئیے ہوں (یعنی سائل نے عرض کی ہو کہ جس کی نماز جنازہ میں سو افراد ہوں کیا اس کی مغفرت ہو جائے گی؟ تو جواب میں فرمایا ہو”ہاں“، اسی طرح دوسرے نے سوال کیا ہو کہ اگر چالیس لوگ شریک ہوں تو کیا مغفرت ہو گی؟ تو جواب میں فرمایا ہو ”ہاں“) اور شاید اگر کوئی اس سے بھی کم مقدار کے بارے میں پوچھتا تو بھی آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہاں فرماتے اور تین صفوں والی حدیث پاک کو مدِّنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو یہ ممکن بھی ہے کہ چالیس سے بھی کم افراد ہوں تو مغفرت ہو جائے گی، اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی اپنے نبی کی مراد زیادہ جانتا ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 932