Main Icon

باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 933

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوْتُ فَيَقُوْمُ عَلَى جَنَازَتِهِ اَرْبَعُوْنَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُوْنَ بِاللهِ شَيْئًا اِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيْهِ.

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم یقول: ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته اربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا الا شفعهم الله فيه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مرنے والے مسلمان کے جنازے میں چالیس ایسے افراد شریک ہوں جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تواللّٰہتعالیٰ اس مرنے والے کے حق میں ان لوگوں کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔“

شرح حدیث

جنازہ چالیس لوگ ضرور پڑھیں:مذکورہ حدیث پاک میں اس جنازے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جس میں چالیس مسلمان شریک ہوں، اس حدیث پاک کا پسِ منظر یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے فرزند مقامِ قُدَید یاعُسْفَانمیں وفات پاگئے تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ اےکُرَیب! دیکھو کتنے لوگ جمع ہو گئے؟ حضرت سَیِّدُنَا کُرَیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: میں نکلا تو کچھ لوگ جمع تھے، میں نے آپ کو خبردی۔فرمایا کیا تم کہہ سکتے ہو کہ چالیس ہوں گے؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: میت کو لاؤ، میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مرنے والے مسلمان کے جنازہ میں چالیس ایسے افراد شریک ہوں جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تواللّٰہتعالیٰ اس مرنے والے کے حق میں ان لوگوں کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔“( )علامہ ابنِ عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”جب تمہارے کسی عزیز کا انتقال ہو جائے تو کوشش کرو کہ اس کی نماز جنازہ چالیس یا اس سے زیادہ افراد پڑھیں کیونکہ اس حدیث پاک کے مطابق وہ میت کے لیے شفیع ہوں گے۔ منقول ہے کہ ایک عربی شخص ایسے جنازہ کے پاس سے گزرا جس پر لوگوں کی بہت بڑی تعداد نماز جنازہ ادا کر رہی تھی، وہ عربی شخص بولا: یہ میت اہلِ جنت میں سے ہے۔لوگوں نے کہا: کس وجہ سے؟ وہ بولا: کیا ایسا کوئی کریم و مہربان ہے جس کے پاس بہت سے لوگ کسی ایک انسان کی سفارش کریں اور وہ ان کی سفارش کو رد کردے؟ نہیں، خدا کی قسم وہ کبھی اس سفارش کورد نہیں کرے گا، تو پھر سب سے زیادہ مہربان اور سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والی ذات سے یہ بات کیسے مُتَصَوَّر ہے؟ چنانچہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے ان لوگوں کو اسی لیے ہی مَدعُو کیا ہے کہ وہ اُس میت کی سفارش کریں اور وہ اُن کی سفارش قبول فرمائے۔“چالیس نیک بندوں میں ایک ولی:مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”جہاں چالیس مسلمان جمع ہوں ان میں کوئی ولی ضرور ہوتا ہے جس کی دعا قبول ہوتی ہے، اس کی برکت سے دوسروں کی بھی۔ خیال رہے کہ یہ ذکر ولیٔ تشریعی کا ہے، ( ) ولیٔ تکوینی کی تعداد مقرر ہے کہ ہر زمانہ میں اتنے اَبدال اتنے غوث اور ایک قطبِ عالَم ہوں گے اورمسلمانوں سے مراد متقی مسلمان ہیں، ورنہ سینماؤں اور تماشہ گاہوں میں سینکڑوں فُسَّاق ہوتے ہیں۔‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نماز جنازہ میں کثیر مسلمانوں کی شرکت بہت برکت و فضیلت کا باعث ہے۔ چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: ”جنازے پر تکثیرِ جماعت شرعًا بہت محبوب کہ اس میں میت کی اِعَانَتِ جسیم(یعنی بہت زیادہ مدد) اوراُس کے لیے عَفْوِ سَیِّئَات(یعنی گناہوں کی معافی) و رَفعِ دَرَجات کی اُمیدِعظیم ہے۔ لہٰذا شریعتِ مُطَہَّرَہ نے صِرف فرضیتِ کفایہ پر اِکتفا نہ فرمایا بلکہ نماز جنازہ میں نمازیوں کے لیے عظیم واعظم اَفضالِ الٰہیہ(یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے انتہائی بڑے فضل و کرم) کے وعدے دئیے کہ لوگ اگر نفعِ میّت کے خیال سے جمع نہ ہوں گے اپنے فائدے کے لیے دوڑیں گے۔
نوٹ: مزید شرح کیلئے فیضان ریاض الصالحین،جلدچہارم،باب نمبر51، حدیث نمبر 430ملاحظہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’مغفرت ‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جس مسلمان کی نماز جنازہ میں چالیس مسلمان شریک ہوں
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی مغفرت فرمادیتا ہے۔
(2) ایک حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے کہ جس کی نماز جنازہ میں سو (100) مسلمان ہوں اس کی مغفرت ہو جاتی ہے اور ایک حدیث پاک میں چالیس کا ذکر ہے لیکن ان اَحادیث میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ پہلے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے سو مسلمانوں کا ذکر کیا ہو اور بعد میں اپنے فضل و کرم سے چالیس فرمادیا ہو۔
(3) اگر کسی مہربان شخص سے بہت سارے لوگ کسی ایک انسان کی سفارش کریں تو وہ ان کی سفارش کو رد نہیں کرتا تو پھر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ذات تو سب سے بڑھ کر رحم وکرم فرمانے والی ہے وہ میت کے حق میں اپنے بندوں کی سفارش کو یقینًا قبول فرمائے گا۔
(4) جہاں چالیس نیک مسلمان ہوتے ہیں ان میں ایک
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ولی بھی ہوتا ہے جس کی دعا قبول ہوتی ہے اور اس کی برکت سے دوسروں کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں۔
(5) نماز جنازہ میں کثیر لوگوں کی شرکت شرعًا بہت محبوب ہے کہ اس سے میت کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں اسی لیے شریعت نے نماز جنازہ میں شریک ہونے کی بڑی فضیلتیں بیان کی ہیں تاکہ اگر لوگ میت کو نفع پہنچانے کی غرض سے نہ بھی آئے تو اپنے فائدے کے لیے ضرور آئیں گے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مسلمانوں کے جنازوں میں شریک ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 933