- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- حدیث نمبر 933
باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 933
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوْتُ فَيَقُوْمُ عَلَى جَنَازَتِهِ اَرْبَعُوْنَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُوْنَ بِاللهِ شَيْئًا اِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيْهِ.
عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم یقول: ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته اربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا الا شفعهم الله فيه.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مرنے والے مسلمان کے جنازے میں چالیس ایسے افراد شریک ہوں جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تواللّٰہتعالیٰ اس مرنے والے کے حق میں ان لوگوں کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔“
شرح حدیث
جنازہ چالیس لوگ ضرور پڑھیں:مذکورہ حدیث پاک میں اس جنازے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جس میں چالیس مسلمان شریک ہوں، اس حدیث پاک کا پسِ منظر یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے فرزند مقامِ قُدَید یاعُسْفَانمیں وفات پاگئے تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ اےکُرَیب! دیکھو کتنے لوگ جمع ہو گئے؟ حضرت سَیِّدُنَا کُرَیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: میں نکلا تو کچھ لوگ جمع تھے، میں نے آپ کو خبردی۔فرمایا کیا تم کہہ سکتے ہو کہ چالیس ہوں گے؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: میت کو لاؤ، میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مرنے والے مسلمان کے جنازہ میں چالیس ایسے افراد شریک ہوں جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تواللّٰہتعالیٰ اس مرنے والے کے حق میں ان لوگوں کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔“( )علامہ ابنِ عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”جب تمہارے کسی عزیز کا انتقال ہو جائے تو کوشش کرو کہ اس کی نماز جنازہ چالیس یا اس سے زیادہ افراد پڑھیں کیونکہ اس حدیث پاک کے مطابق وہ میت کے لیے شفیع ہوں گے۔ منقول ہے کہ ایک عربی شخص ایسے جنازہ کے پاس سے گزرا جس پر لوگوں کی بہت بڑی تعداد نماز جنازہ ادا کر رہی تھی، وہ عربی شخص بولا: یہ میت اہلِ جنت میں سے ہے۔لوگوں نے کہا: کس وجہ سے؟ وہ بولا: کیا ایسا کوئی کریم و مہربان ہے جس کے پاس بہت سے لوگ کسی ایک انسان کی سفارش کریں اور وہ ان کی سفارش کو رد کردے؟ نہیں، خدا کی قسم وہ کبھی اس سفارش کورد نہیں کرے گا، تو پھر سب سے زیادہ مہربان اور سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والی ذات سے یہ بات کیسے مُتَصَوَّر ہے؟ چنانچہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے ان لوگوں کو اسی لیے ہی مَدعُو کیا ہے کہ وہ اُس میت کی سفارش کریں اور وہ اُن کی سفارش قبول فرمائے۔“چالیس نیک بندوں میں ایک ولی:مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”جہاں چالیس مسلمان جمع ہوں ان میں کوئی ولی ضرور ہوتا ہے جس کی دعا قبول ہوتی ہے، اس کی برکت سے دوسروں کی بھی۔ خیال رہے کہ یہ ذکر ولیٔ تشریعی کا ہے، ( ) ولیٔ تکوینی کی تعداد مقرر ہے کہ ہر زمانہ میں اتنے اَبدال اتنے غوث اور ایک قطبِ عالَم ہوں گے اورمسلمانوں سے مراد متقی مسلمان ہیں، ورنہ سینماؤں اور تماشہ گاہوں میں سینکڑوں فُسَّاق ہوتے ہیں۔‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نماز جنازہ میں کثیر مسلمانوں کی شرکت بہت برکت و فضیلت کا باعث ہے۔ چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: ”جنازے پر تکثیرِ جماعت شرعًا بہت محبوب کہ اس میں میت کی اِعَانَتِ جسیم(یعنی بہت زیادہ مدد) اوراُس کے لیے عَفْوِ سَیِّئَات(یعنی گناہوں کی معافی) و رَفعِ دَرَجات کی اُمیدِعظیم ہے۔ لہٰذا شریعتِ مُطَہَّرَہ نے صِرف فرضیتِ کفایہ پر اِکتفا نہ فرمایا بلکہ نماز جنازہ میں نمازیوں کے لیے عظیم واعظم اَفضالِ الٰہیہ(یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے انتہائی بڑے فضل و کرم) کے وعدے دئیے کہ لوگ اگر نفعِ میّت کے خیال سے جمع نہ ہوں گے اپنے فائدے کے لیے دوڑیں گے۔
نوٹ: مزید شرح کیلئے فیضان ریاض الصالحین،جلدچہارم،باب نمبر51، حدیث نمبر 430ملاحظہ کیجئے۔مدنی گلدستہ’’مغفرت ‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جس مسلمان کی نماز جنازہ میں چالیس مسلمان شریک ہوںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی مغفرت فرمادیتا ہے۔
(2) ایک حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے کہ جس کی نماز جنازہ میں سو (100) مسلمان ہوں اس کی مغفرت ہو جاتی ہے اور ایک حدیث پاک میں چالیس کا ذکر ہے لیکن ان اَحادیث میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ پہلےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے سو مسلمانوں کا ذکر کیا ہو اور بعد میں اپنے فضل و کرم سے چالیس فرمادیا ہو۔
(3) اگر کسی مہربان شخص سے بہت سارے لوگ کسی ایک انسان کی سفارش کریں تو وہ ان کی سفارش کو رد نہیں کرتا تو پھراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ذات تو سب سے بڑھ کر رحم وکرم فرمانے والی ہے وہ میت کے حق میں اپنے بندوں کی سفارش کو یقینًا قبول فرمائے گا۔
(4) جہاں چالیس نیک مسلمان ہوتے ہیں ان میں ایکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ولی بھی ہوتا ہے جس کی دعا قبول ہوتی ہے اور اس کی برکت سے دوسروں کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں۔
(5) نماز جنازہ میں کثیر لوگوں کی شرکت شرعًا بہت محبوب ہے کہ اس سے میت کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں اسی لیے شریعت نے نماز جنازہ میں شریک ہونے کی بڑی فضیلتیں بیان کی ہیں تاکہ اگر لوگ میت کو نفع پہنچانے کی غرض سے نہ بھی آئے تو اپنے فائدے کے لیے ضرور آئیں گے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مسلمانوں کے جنازوں میں شریک ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 933