- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- حدیث نمبر 934
باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 934
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَ نِیِّ قَالَ:كَانَ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ فَتَقَالَّ النَّاسَ عَلَيْهَا جَزَّاَهُمْ عَلَيْهَا ثَلاَثَةَ اَجْزَاءٍ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوْفٍ فَقَدْ اَوْجَبَ.
عن مرثد بن عبد الله اليز نی قال:كان مالك بن هبيرة رضی اللہ عنہ اذا صلى على الجنازة فتقال الناس عليها جزاهم عليها ثلاثة اجزاء ثم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من صلى عليه ثلاثة صفوف فقد اوجب.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا مَرثَد بنعبداللّٰہیَزنِیْرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا مالک بنہُبَیْرَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجب بھی کسی کی نمازِ جنازہ پڑھاتے اور لوگ کم ہوتے تو انہیں تین حصوں میں تقسیم کردیتے پھر فرماتے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جس پر تین صفیں نماز جنازہ پڑھیں اُس کے لیے (جنت) واجب ہو جاتی ہے۔“
شرح حدیث
نمازجنازہ میں کم از کم تین صفیں ہوں:اسی باب کی پہلی حدیث پاک میں سو (100)نمازیوں کا ذِکر تھا اور دوسری حدیث پاک میں چالیس کا جبکہ مذکورہ حدیث پاک میں صرف تین صفوں پر جنت کی بشارت دی گئی ہے، یہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا اپنے بندوں پر فضل و کرم ہے۔عَلَّامَہ اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اہل میت کو چاہیے کہ جب تک میت کے خراب ہونے کا خوف نہ ہو نماز جنازہ کے لیے سو(100) آدمیوں کی جماعت کا انتظار کریں اگر سو آدمی آسانی سے نہ ہو سکیں تو چالیس لوگوں کی جماعت کا انتظار کریں اور اگر چالیس افراد بھی نماز جنازہ کے لیے نہ ہوسکیں تو پھر تین صفیں بنالیں۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہ حدیث بہت اُمید افزاہے کیونکہ یہاں صفوں کی حد بیان نہ فرمائی گئی اگر دو دوآدمیوں کی صفیں بھی نماز جنازہ میں ہو جائیں تب بھی میت کی بخشش کی قومی اُمید ہے۔ یہ سب اِس اُمَّتِ مَرحومہ پرحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے صدقہ سے رب کی رحمت ہے، رب کی رحمت بہانہ چاہتی ہے قیمت نہیں مانگتی۔ اب بھی فقہافرماتے ہیں کہ تھوڑے نمازیوں کو بھی تین صفوں میں بانٹ کر جنازہ پڑھو یہ اسی حدیث پرعمل ہے۔ خیال رہے کہ اور نمازوں میں صف اَوَّل افضل ہے مگر نماز جنازہ میں صف آخری بہتر۔“کم نمازیوں کی زیادہ صفیں بنانا:مرقاۃ المفاتیح میں ہے:تین صفوں کی قید سے نمازِ جنازہ میں صِرف ایک ہی صف بنانے کی کراہت کی طرف اشارہ ہے۔علامہ کِرْمَانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: نماز جنازہ میں صفوں میں سب سے آخری صف سب سے افضل ہے اور اس کے علاوہ نمازوں میں پہلی صف افضل ہوتی ہے، نماز جنازہ کی آخری صف کے افضل ہونے کی وجہ یہ ہےکیونکہ اس میں تواضع کا اظہار ہے اور آخری صف والے کی سفارشاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے یہاں مقبول ہونے کا سبب ہے۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں: ”نماز جنازہ میں متعدد صفیں بنانی چاہئیں کہ یہ میت کی بخشش کے لیے اثر رکھتی ہیں۔ صحابئ رسول حضرت سَیِّدُنَا مالک بنہُبَیْرَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنماز جنازہ میں شریک ہونے والوں کی تین صفیں بناتے چاہے لوگ کم ہوتے یا زیادہ۔ لیکن صفیں زیادہ ہوں اور ان میں تعداد کم ہو یا پھر صف ایک ہو اور اس میں زیادہ لوگ ہوں ، ان دونوں میں کونسی سے صورت افضل ہے اس بارے میں کلام ہے ۔ اور میرے نزدیک زیادہ صفیں بنانا افضل ہے۔“ ”اگر کُل سات ہی شخص ہوں تو ایک امام ہو اور تین پہلی صف میں اور دو دوسری میں اور ایک تیسری میں۔“”اگر امام کے علاوہ پانچ آدمی ہوں تو دو دو آدمی دو صفیں بنائیں گے اور ایک آدمی تیسری صف تاکہ تین صفوں کی بشارت میت کو حاصل ہوجائے۔“
مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضرت مالک بنہُبَیْرَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجب بھی کوئی ایسا جنازہ پڑھاتے جس میں لوگ کم ہوتے تو آپ انہیں تین حصوں میں تقسیم کردیتے اور پھر یہ حدیث پاک سناتے کہ ”جس پر تین صفیں نماز جنازہ پڑھیں اُس کے لیے (جنت) واجب ہو جاتی ہے۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یعنی آپ ایسے جنازے کی نماز پڑھاکر لوگوں کو یہ حدیث سنا دیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ نماز جنازہ سے پہلے یا بعد جنازے کے متعلق تھوڑا وعظ کہہ دینا منع نہیں جب کہ اس سے دفن میں دیر نہ لگے۔“مدنی گلدستہ’’نمازِ جنازہ‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) جس کی نمازِ جنازہ میں تین صفیں ہوتی ہیں اُس پر جنت واجب ہوجاتی ہے۔
(2) صحابئ رسول حضرت سَیِّدُنَا مالک بنہُبَیْرَہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجب کوئی ایسا جنازہ پڑھاتے کہ جس میں لوگ کم ہوتے تو آپ ان کی تین صفیں بنالیتے۔
(3) میت کے خراب ہونے کا خوف نہ ہو تونمازِ جنازہ کے لیے سو افراد کا انتظار کریں اگر سو آسانی سے نہ ہو سکیں تو چالیس کا اور چالیس بھی نہ ہوسکیں تو پھر تین صفیں بنا کر نمازِ جنازہ ادا کرلیں۔
(4) تین صفوں سے میت کی بخشش ہوجانا اِس اُمَّتِ مَرحومہ پرحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے صدقہ سے رب کی رحمت ہے، رب کی رحمت بہانہ چاہتی ہے قیمت نہیں مانگتی۔
(5) دیگر نمازوں میں صف اَوَّل افضل ہے مگر نمازِ جنازہ میں آخری صف۔
(6) نمازِ جنازہ میں آخری صف اس لئے افضل ہے کیونکہ اس میں تواضع کا اظہار ہے۔
(7) لوگ کم ہوں تو ایک صف بنانے کے بجائے چند افراد پرمشتمل متعددصفیں بنانا بہتر ہے۔
(8) اگر کُل سات ہی شخص ہوں تو ایک امام ہو اور تین پہلی صف میں اور دو دوسری میں اور ایک تیسری میں اور اگر امام کے علاوہ پانچ آدمی ہوں تو دو دو آدمی دو صفیں بنائیں اور ایک آدمی تیسری صف تاکہ میت کو تین صفوں کی فضیلت حاصل ہوجائے۔
(9) تدفین میں دیر نہ ہوتونمازِ جنازہ سے پہلے یا بعد تھوڑا وعظ کہہ دینا منع نہیں ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مسلمانوں کے جنازہ میں شریک ہونے اور میت کی بخشش کے لیے کم از کم تین صفیں بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 934