Main Icon

باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 934

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَ نِیِّ قَالَ:كَانَ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ فَتَقَالَّ النَّاسَ عَلَيْهَا جَزَّاَهُمْ عَلَيْهَا ثَلاَثَةَ اَجْزَاءٍ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوْفٍ فَقَدْ اَوْجَبَ.

عن مرثد بن عبد الله اليز نی قال:كان مالك بن هبيرة رضی اللہ عنہ اذا صلى على الجنازة فتقال الناس عليها جزاهم عليها ثلاثة اجزاء ثم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من صلى عليه ثلاثة صفوف فقد اوجب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا مَرثَد بنعبداللّٰہیَزنِیْرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا مالک بنہُبَیْرَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجب بھی کسی کی نمازِ جنازہ پڑھاتے اور لوگ کم ہوتے تو انہیں تین حصوں میں تقسیم کردیتے پھر فرماتے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جس پر تین صفیں نماز جنازہ پڑھیں اُس کے لیے (جنت) واجب ہو جاتی ہے۔“

شرح حدیث

نمازجنازہ میں کم از کم تین صفیں ہوں:اسی باب کی پہلی حدیث پاک میں سو (100)نمازیوں کا ذِکر تھا اور دوسری حدیث پاک میں چالیس کا جبکہ مذکورہ حدیث پاک میں صرف تین صفوں پر جنت کی بشارت دی گئی ہے، یہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا اپنے بندوں پر فضل و کرم ہے۔عَلَّامَہ اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اہل میت کو چاہیے کہ جب تک میت کے خراب ہونے کا خوف نہ ہو نماز جنازہ کے لیے سو(100) آدمیوں کی جماعت کا انتظار کریں اگر سو آدمی آسانی سے نہ ہو سکیں تو چالیس لوگوں کی جماعت کا انتظار کریں اور اگر چالیس افراد بھی نماز جنازہ کے لیے نہ ہوسکیں تو پھر تین صفیں بنالیں۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہ حدیث بہت اُمید افزاہے کیونکہ یہاں صفوں کی حد بیان نہ فرمائی گئی اگر دو دوآدمیوں کی صفیں بھی نماز جنازہ میں ہو جائیں تب بھی میت کی بخشش کی قومی اُمید ہے۔ یہ سب اِس اُمَّتِ مَرحومہ پرحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے صدقہ سے رب کی رحمت ہے، رب کی رحمت بہانہ چاہتی ہے قیمت نہیں مانگتی۔ اب بھی فقہافرماتے ہیں کہ تھوڑے نمازیوں کو بھی تین صفوں میں بانٹ کر جنازہ پڑھو یہ اسی حدیث پرعمل ہے۔ خیال رہے کہ اور نمازوں میں صف اَوَّل افضل ہے مگر نماز جنازہ میں صف آخری بہتر۔“کم نمازیوں کی زیادہ صفیں بنانا:مرقاۃ المفاتیح میں ہے:تین صفوں کی قید سے نمازِ جنازہ میں صِرف ایک ہی صف بنانے کی کراہت کی طرف اشارہ ہے۔علامہ کِرْمَانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: نماز جنازہ میں صفوں میں سب سے آخری صف سب سے افضل ہے اور اس کے علاوہ نمازوں میں پہلی صف افضل ہوتی ہے، نماز جنازہ کی آخری صف کے افضل ہونے کی وجہ یہ ہےکیونکہ اس میں تواضع کا اظہار ہے اور آخری صف والے کی سفارشاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے یہاں مقبول ہونے کا سبب ہے۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں: ”نماز جنازہ میں متعدد صفیں بنانی چاہئیں کہ یہ میت کی بخشش کے لیے اثر رکھتی ہیں۔ صحابئ رسول حضرت سَیِّدُنَا مالک بنہُبَیْرَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنماز جنازہ میں شریک ہونے والوں کی تین صفیں بناتے چاہے لوگ کم ہوتے یا زیادہ۔ لیکن صفیں زیادہ ہوں اور ان میں تعداد کم ہو یا پھر صف ایک ہو اور اس میں زیادہ لوگ ہوں ، ان دونوں میں کونسی سے صورت افضل ہے اس بارے میں کلام ہے ۔ اور میرے نزدیک زیادہ صفیں بنانا افضل ہے۔“ ”اگر کُل سات ہی شخص ہوں تو ایک امام ہو اور تین پہلی صف میں اور دو دوسری میں اور ایک تیسری میں۔“”اگر امام کے علاوہ پانچ آدمی ہوں تو دو دو آدمی دو صفیں بنائیں گے اور ایک آدمی تیسری صف تاکہ تین صفوں کی بشارت میت کو حاصل ہوجائے۔“
مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضرت مالک بن
ہُبَیْرَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجب بھی کوئی ایسا جنازہ پڑھاتے جس میں لوگ کم ہوتے تو آپ انہیں تین حصوں میں تقسیم کردیتے اور پھر یہ حدیث پاک سناتے کہ ”جس پر تین صفیں نماز جنازہ پڑھیں اُس کے لیے (جنت) واجب ہو جاتی ہے۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یعنی آپ ایسے جنازے کی نماز پڑھاکر لوگوں کو یہ حدیث سنا دیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ نماز جنازہ سے پہلے یا بعد جنازے کے متعلق تھوڑا وعظ کہہ دینا منع نہیں جب کہ اس سے دفن میں دیر نہ لگے۔“مدنی گلدستہ’’نمازِ جنازہ‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) جس کی نمازِ جنازہ میں تین صفیں ہوتی ہیں اُس پر جنت واجب ہوجاتی ہے۔
(2) صحابئ رسول حضرت سَیِّدُنَا مالک بن
ہُبَیْرَہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجب کوئی ایسا جنازہ پڑھاتے کہ جس میں لوگ کم ہوتے تو آپ ان کی تین صفیں بنالیتے۔
(3) میت کے خراب ہونے کا خوف نہ ہو تونمازِ جنازہ کے لیے سو افراد کا انتظار کریں اگر سو آسانی سے نہ ہو سکیں تو چالیس کا اور چالیس بھی نہ ہوسکیں تو پھر تین صفیں بنا کر نمازِ جنازہ ادا کرلیں۔
(4) تین صفوں سے میت کی بخشش ہوجانا اِس اُمَّتِ مَرحومہ پرحضور
صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے صدقہ سے رب کی رحمت ہے، رب کی رحمت بہانہ چاہتی ہے قیمت نہیں مانگتی۔
(5) دیگر نمازوں میں صف اَوَّل افضل ہے مگر نمازِ جنازہ میں آخری صف۔
(6) نمازِ جنازہ میں آخری صف اس لئے افضل ہے کیونکہ اس میں تواضع کا اظہار ہے۔
(7) لوگ کم ہوں تو ایک صف بنانے کے بجائے چند افراد پرمشتمل متعددصفیں بنانا بہتر ہے۔
(8) اگر کُل سات ہی شخص ہوں تو ایک امام ہو اور تین پہلی صف میں اور دو دوسری میں اور ایک تیسری میں اور اگر امام کے علاوہ پانچ آدمی ہوں تو دو دو آدمی دو صفیں بنائیں اور ایک آدمی تیسری صف تاکہ میت کو تین صفوں کی فضیلت حاصل ہوجائے۔
(9) تدفین میں دیر نہ ہوتونمازِ جنازہ سے پہلے یا بعد تھوڑا وعظ کہہ دینا منع نہیں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مسلمانوں کے جنازہ میں شریک ہونے اور میت کی بخشش کے لیے کم از کم تین صفیں بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 934