Main Icon

باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 845

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ الله عَنْهُ ا َنَّ رَجُلًاسَاَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اَيُّ الْاِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ:تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَءُ السَّلَا مَ عَلٰى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه ا ن رجلاسال رسول الله صلى الله عليه وسلم اي الاسلام خير ؟ قال:تطعم الطعام وتقرء السلا م على من عرفت ومن لم تعرف.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی:اسلام کی کونسی خوبی سب سےا چھی ہے؟ارشاد فرمایا:” کھانا کھلاؤاور ہر واقف اور ناواقف کو سلام کرو۔“

شرح حدیث

اسلام باہمی محبت وبھائی چارے پراُبھارتاہے:اس حدیث میں کھانا کھلانےاورسلام کرنے کو اسلام کی بہترین خوبی بتایا گیا۔ان کے فوائد سے کسی عقل مندکو انکار نہیں ہو سکتا۔ یہ دونوں چیزیں آپس میں محبت و اتفاق پیدا کرنے کے لیے مُجَرَّب (تجربہ شدہ) عمل ہیں۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”حدیث میں مسلمانوں کوباہمی محبت وبھائی چارے پراُبھارا گیا ہے اور سلام کرنےاورکھانا کھلانے کے ذریعے لوگوں کے دل جیتنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کیونکہ سلام وطعام سے بڑھ کر کوئی عمل باہمی محبت ومَوَدَّت پر ابھارنے والا نہیں۔قرآنِ پاک میں کھانا کھلانے والوں کی تعریف بیان کی گئی اورانہیں عظیم اجر وثواب کا مژدہ سنایا گیا جبکہ حقداروں کو کھانا نہ کھلانے والوں کی مذمت کی گئی اوران کا ذکرجہنمیوں کے ساتھ کیا گیا۔امام قاضی عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَہَّابفرماتے ہیں:مسلمانوں کی باہمی محبت وبھائی چارہ دِین کے فرائض میں سے ایک اہم فریضہ،شریعت کارُکن اوراِسلام کی طاقت کوجمع کرنے والا عمل ہے۔ اسی طرح ہرواقف واجنبی کو سلام کرنا، ان سے تواضُع سے پیش آنا اور سلام کو عام کرنا یہ اس اُمَّت کاشِعار ہے۔عَلّامہ سیدمحموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:حدیث میں دو باتوں کو اسلام کی بہترین خصلت قراردیا، کھانا کھلانا اور سلام کرنا مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف دوہی بہترین خصلتیں ہیں بلکہ مقصود یہ بتانا ہے کہ اسلام کی بہترین خصلتوں میں سے یہ دو بھی ہیں۔ کھانا کھلانے کی اہمیت و اِفادِیَّت سے کون انکار کرسکتا ہے خصوصاً غریب و نادار کوکھانا کھلانا ایک ایسا عمل ہے جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو بہت ہی محبوب ہے۔ کتابِ مجید(یعنی قرآنِ پاک) میں یتیموں،مسکینوں، غریبوں کےلیے خوراک مہیا کرنے کی مختلف و مُؤثر انداز میں ترغیب دی گئی ہے۔ہر واقف واجنبی کو سلام کرنا:مذکورہ حدیثِ پاک میں واقف ناواقف سب کو سلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔نزہۃ القاری میں ہے: ”عادت یہ ہے کہ انسان عموماً انہیں کو سلام کرتا ہے جنہیں پہچانتا ہے، لوگ اجنبی کو سلام نہیں کرتے۔اس پر تنبیہ فرمائی کہ ہر مسلمان کو سلام کرو خواہ اُسے پہچانتے ہو خواہ نہ پہچانتے ہو۔البتہ غیر مسلم کو سلام کرنا جائز نہیں اور وہ بدمذہب جن کی بدمذہبی حدِّکفر تک پہنچتی ہو۔اسی طرح اُن بدمذہبوں کو بھی سلام کرنا جائز نہیں جو گمراہ ہیں اگرچہ ان کی گمراہی حدِّکفرتک نہ پہنچی ہو، بلکہ بدمذہبوں کو سلام کا جواب دینا بھی جائز نہیں،اسی طرح فاسقِ مُعْلِن (اعلانیہ گناہ کرنے والے)کو بھی سلام کرنا منع ہے۔“کھاناکھلانا:فقیہ اعظم،حضرت علامہ مولانا مفتی شریفُ الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”سب مخلوق کو کھانا کھلاؤ خواہ وہ مالدار ہو خواہ وہ غریب ہو، خواہ شناسا ہو خواہ غیر شناسا، انسان ہو یا حیوان سب کو کھلاؤ۔ اس حدیث میں کھانا کھلانے اور سلام کرنے کوخَیْرُ الْاِسْلَام(اسلام کی بہترین خوبی )فرمایا۔اس میں ایک دقیق اشارہ اس بات کی جانب ہے کہ اگرچہ بعض اَعمال بعض سےفِیْ نَفْسِہِ(حقیقتاً)افضل ہیں مگرکبھی خاص وجہ سے کوئی خاص عمل افضل اور بہتر ہوجاتا ہے۔اس سے ان تمام احادیث میں تطبیق ہوگئی کہ کسی میں جہاد کواَفْضَلُ الْاَعْمَالبتایا کسی میں کلمہ طیبہ پڑھنے کو وغیرہ وغیرہ ۔مدنی گلدستہ
’’سلام کرو ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) صحابہ کرام
رضائے الٰہی پانے کے لئے افضل اعمال کی جستجو میں رہتے۔اسی لئے وقتاًفوقتاً اپنے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے افضل اعمال کے بارے میں سوال کرتے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحسبِ حال انہیں دنیاوآخرت کی بھلائی پر مشتمل حکمت بھرا جواب ارشاد فرماتے۔
(2) علمائے کرام سے کسی مسئلے کے بارے میں سوال محض جواب جاننے کے لئے نہیں ہونا چاہیے بلکہ معلوم ہونے کے بعد ممکنہ اس پر عمل بھی کرنا چاہیے۔
(3) ہرمسلمان کو سلام کرنا چاہئے خواہ واقف کا ر ہو یا انجان البتہ غیر مسلم کو سلام نہ کریں۔
(4) مسلمانوں کی آپس کی محبت دین کےخزانوں میں سے ایک عظیم خزانہ ،شریعت کا رُکن اوراسلام کی طاقت کوجمع کرنے والا عمل ہے۔
(5) مسلمانوں کو کھانا کھلانا جنت میں لے جانے والا اور قابلِ تعریف عمل ہے ۔
(6) باہمی محبت و مَودَّت بڑھانے کے لئے سلام وطعام سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ۔
(7) بدمذہب کو بھی سلام کرنا جائز نہیں اگرچہ اس کی گمراہی حدِّکفرتک نہ پہنچی ہو بلکہ بدمذہب کو سلام کا جواب دینا بھی جائز نہیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مسلمانوں کو سلام کرنےاور کھانا کھلانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 845