Main Icon

باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 850

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ الطُّفَيْل بْنِ اُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ:اَنَّه كَانَ يَاْتِیْ عَبْدَاللهِ بْنِ عُمَرَ فَيَغْدُوْمَعَهُ اِلَی السُّوْقِ قَالَ:فَاِذَاغَدَوْنَا اِلَى السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ الله عَلٰی سَقَّاطٍ وَلَا صَاحِبِ بَيْعَةٍ وَلَا مِسْكِينٍ وَلَا اَحَدٍ اِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ الطُّفَيْلُ: فَجِئْتُ عَبْدَاللهِ بنَ عُمَرَ يَوْمًافَاسْتَتْبَعَنِي اِلَى السُّوقِ فَقُلْتُ لَهُ:مَاتَصْنَعُ بالسُّوقِ وَاَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَى البَيْعِ وَلَا تَسْاَلُ عَنِ السِّلَعِ وَلَاتَسُوْمُ بِهَا وَلَا تَجْلِسُ في مَجَالِسِ السُّوقِ؟ وَاَقُوْلُ:اجْلِسْ بِنَا هاهُنَا نَتَحَدَّثُ فَقَالَ:يَا اَبَا بَطْنٍ(وَكَانَ الطفَيْلُ ذَابَطْنٍ)اِنَّمَانَغْدُوْمِنْ اَجْلِ السَّلَامِ فنُسَلِّمُ عَلٰی مَنْ لَقِيْنَاهُ.

عن الطفيل بن ابي بن كعب:انه كان ياتی عبدالله بن عمر فيغدومعه الی السوق قال:فاذاغدونا الى السوق لم يمر عبد الله علی سقاط ولا صاحب بيعة ولا مسكين ولا احد الا سلم عليه قال الطفيل: فجئت عبدالله بن عمر يومافاستتبعني الى السوق فقلت له:ماتصنع بالسوق وانت لا تقف على البيع ولا تسال عن السلع ولاتسوم بها ولا تجلس في مجالس السوق؟ واقول:اجلس بنا هاهنا نتحدث فقال:يا ابا بطن(وكان الطفيل ذابطن)انمانغدومن اجل السلام فنسلم علی من لقيناه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا طفیل بن ابی بن کعبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ وہ حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس جاتے تو وہ انہیں اپنے ہمراہ بازار لے جاتے۔فرماتے ہیں: جب ہم بازار جاتے توحضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجس رَدّی فروش،بیوپاری،مسکین اورکسی بھی شخص کے پاس سے گزرتے اسے سلام کرتے۔ ایک دن جب میں آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی خدمت میں حاضر ہوااورآپ مجھےبازارلےجانےلگےتومیں نےعرض کی:آپ بازارجاکرکیاکریں گے؟آپ نہ تووہاں خرید وفروخت کےلئے ٹھہرتے ہیں،نہ کسی چیز کے سودے کے بارے میں پوچھتےہیں، نہ بھاؤ کرتے اورنہ ہی بازار کی کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں۔میری گزارش تو یہ ہے کہ یہیں ہمارے پاس تشریف رکھیں ہم یہاں بیٹھ کر گفتگو کریں گے۔فرمایا: اے پیٹ والے!حضرت سَیِّدُنا طفیلرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکاپیٹ کچھ بڑا تھا۔ہم صِرف سلام کرنے کی غرض سے جاتے ہیں کہ ہم جس سے ملیں اسے سلام کریں۔

شرح حدیث

عملی تبلیغ:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”حضرت ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُہرتاجروغیر تاجر،امیروفقیر،واقف وناواقف سب کو سلام کرتے۔سلام کی اشاعت اور لوگوں کو سلام کا عادی بنانے کےلئے یہ عملی تبلیغ تھی۔معلوم ہوا کہ لوگوں کو سنت کا عادی بنانا بھی بہترین عبادت ہے۔علماء کِرام اگر لوگوں کے پاس جاکر انہیں تبلیغ کریں تو بہت ہی اچھا ہے،گھر بُلاکر تبلیغ کرنا اور لوگوں کے گھر جاکر تبلیغ کرنا دونوں ہی سنت ہیں۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث سے ثابت ہوا کہ ہمارے اسلاف کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنیکیوں کے بہت زیادہ حریص تھے۔یہی حرص انہیں ایسے اعمال پر ابھارتی جن میں ثواب کے کثیر مواقع ہوتےجیسا کہ حضرت سَیِّدُنَاعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا سلام کی خاطربازار جانا۔ لوگ عموماً بازار میں مال کماتے ہیں مگر نیکیوں کے حریص ہر جگہ نیکیاں کمانے کا موقع ڈھونڈ لیتے ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں بھی نیکیوں کا حریص بنائے اور اپنے اَسلاف کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ تَعَالٰیکے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔سنتوں پر عمل کے شیدائی:مذکور روایت میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بہت ہی پیارے صحابی حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہماکاذکرِ خیر ہے۔ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکونبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اداؤں کو اپنانے کا بے حد شوق تھا،جس کام کا سنت ہونامعلوم ہوجاتا اس پر ضرور عمل کرتے۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنا نافعرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : اگر تم حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں پر عمل کرتا دیکھ لیتے تو انہیں دیوانہ سمجھتے ۔ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَامکہ مکرمہزَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وتَعْظِیماًکے راستے میں اپنی سواری کے جانور کو سر سے پکڑ کر اِدھر اُدھرچلاتے اور فرماتے: شاید میری سواری کے قدم بھی اس جگہ لگ جائیں جہاں میرے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سواری کے قدم لگے ہیں۔مدنی گلدستہ’’تبلیغ دِین ‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) بازار غفلت کی جگہ ہے مگر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نیک بندے احکامِ شرعیہ پر عمل پیرا ہوکر یہاں بھی نیکیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔
(2) گھر بُلاکرتبلیغ کرنا اور لوگوں کے گھر جاکرتبلیغ کرنا دونوں سنت ہیں،دوسری صورت زیادہ بہتر ہے۔
(3) ہمارے اَسلاف کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنیکیوں کے بہت زیادہ حریص تھے۔یہی حرص انہیں ایسے اعمال پر ابھارتی جن میں ثواب کے کثیر مواقع ہوتے۔
(4) اپنے عمل کے ذریعےلوگوں کو دینی احکام کی طرف مائل کرنا عملی تبلیغ ہے اور یہ بہترین عبادت ہے ۔
(5) حضور نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں پر عمل کر نے کا ایسا جذبہ ہونا چاہئے کہ لوگ دیوانہ سمجھنے لگیں ۔
(6) ہمارے اَسلاف کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامسنتوں کی پیروی کے لئے دل وجان سے کوشش کرتے تھے۔
(7) سنتوں کی پیروی ا ور اَسلاف
کے نقشِ قدم پر چلنا دنیا وآخرت میں کامیابی کا باعث ہے ۔
(8) صحابہ کرام نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے منسوب ہر شے سے محبت کیا کرتے تھے ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں خوب نیکیاں کرنے اور اپنے اَسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سنتوں کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 850