باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی:اسلام کی کونسی خوبی سب سےا چھی ہے؟ارشاد فرمایا:” کھانا کھلاؤاور ہر واقف اور ناواقف کو سلام کرو۔“

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ الله عَنْهُ ا َنَّ رَجُلًاسَاَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اَيُّ الْاِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ:تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَءُ السَّلَا مَ عَلٰى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 845 ، باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آدمعَلَیْہِ السَّلَامکو پیدافرمایا توانہیں حکم دیاکہ جاؤ اور فرشتوں کی بیٹھی ہوئی اس جماعت کوسلام کرو،اور ان کا جواب غور سے سنو کیونکہ وہی تمہارا اورتمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔چنانچہ حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامنے فرشتوں سےکہا:اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْانہوں نے جواب دیا:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہاورانہوں نےوَرَحْمَۃُ اللّٰہ“ کا اضافہ کیا۔“

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيُ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:لَمَّاخَلَقَ اللهُ اٰدَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلٰی اُولٰئِكَ نَفَرٍ مِّنَ الْمَلَائِكةِ جُلُوْسٍ فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّوْنَكَ فَاِنَّهَا تَحَيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِك فَقَالَ:السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوْا:السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمةُ اللهِ فَزادُوْهُ وَرَحْمةُ اللهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 846 ، باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابوعُمارہ بَراء بن عازِبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا :(1)مریض کی عیادت کرنے (2)جنازوں کے ساتھ جانے (3)چھینکنے والے کو جواب د ینے(4)کمزورکی مدد کرنے(5)مظلوم کی فریاد رَسی کرنے (6) سلام کو عام کرنے اور (7)قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنے کا۔

عَنْ اَبِی عُمَارَةَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَاقَالَ:اَمَرَنَارَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِسَبْعٍ: بِعِيَادَةِ الْمَرِ يْضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتشْمِيْتِ الْعَاطِسِ وَنَصْرِ الضَّعِيْفِ وَعَوْنِ الْمَظْلُوْمِ وَ اِفْشَآءِ السَّلَامِ وَاِبْرارِ الْمُقْسِم.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 847 ، باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤاور تم مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔کیامیں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جس پر عمل کرو توآپس میں محبت کرنے لگو ؟اپنے درمیان سلام کو عام کرو۔“

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:لَا تَدْخُلُواالْجَنَّةَ حَتّٰى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتّٰى تَحَابُّوا اَ وَلَا اَدُلُّكُمْ عَلٰى شَيْءٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْهُ تَحَابَبْتُمْ ؟اَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 848 ، باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابویوسفعبداللّٰہبن سلامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نے رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے ہوئے سنا:”اے لوگو!سلام کوعام کرو،کھاناکھلاؤ،صِلہ رحمی کرواورجب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو،تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ “

عَنْ اَبِی يُوْسُفَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: يَا اَيُّهَاالنّاسُ اَفْشُواالسَّلَامَ وَاَطْعِمُواالطَّعَامَ وَصِلُوالْاَرْحَامَ وَصَلُّوْاوَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 849 ، باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُنا طفیل بن ابی بن کعبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ وہ حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس جاتے تو وہ انہیں اپنے ہمراہ بازار لے جاتے۔فرماتے ہیں: جب ہم بازار جاتے توحضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجس رَدّی فروش،بیوپاری،مسکین اورکسی بھی شخص کے پاس سے گزرتے اسے سلام کرتے۔ ایک دن جب میں آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی خدمت میں حاضر ہوااورآپ مجھےبازارلےجانےلگےتومیں نےعرض کی:آپ بازارجاکرکیاکریں گے؟آپ نہ تووہاں خرید وفروخت کےلئے ٹھہرتے ہیں،نہ کسی چیز کے سودے کے بارے میں پوچھتےہیں، نہ بھاؤ کرتے اورنہ ہی بازار کی کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں۔میری گزارش تو یہ ہے کہ یہیں ہمارے پاس تشریف رکھیں ہم یہاں بیٹھ کر گفتگو کریں گے۔فرمایا: اے پیٹ والے!حضرت سَیِّدُنا طفیلرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکاپیٹ کچھ بڑا تھا۔ہم صِرف سلام کرنے کی غرض سے جاتے ہیں کہ ہم جس سے ملیں اسے سلام کریں۔

عَنِ الطُّفَيْل بْنِ اُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ:اَنَّه كَانَ يَاْتِیْ عَبْدَاللهِ بْنِ عُمَرَ فَيَغْدُوْمَعَهُ اِلَی السُّوْقِ قَالَ:فَاِذَاغَدَوْنَا اِلَى السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ الله عَلٰی سَقَّاطٍ وَلَا صَاحِبِ بَيْعَةٍ وَلَا مِسْكِينٍ وَلَا اَحَدٍ اِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ الطُّفَيْلُ: فَجِئْتُ عَبْدَاللهِ بنَ عُمَرَ يَوْمًافَاسْتَتْبَعَنِي اِلَى السُّوقِ فَقُلْتُ لَهُ:مَاتَصْنَعُ بالسُّوقِ وَاَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَى البَيْعِ وَلَا تَسْاَلُ عَنِ السِّلَعِ وَلَاتَسُوْمُ بِهَا وَلَا تَجْلِسُ في مَجَالِسِ السُّوقِ؟ وَاَقُوْلُ:اجْلِسْ بِنَا هاهُنَا نَتَحَدَّثُ فَقَالَ:يَا اَبَا بَطْنٍ(وَكَانَ الطفَيْلُ ذَابَطْنٍ)اِنَّمَانَغْدُوْمِنْ اَجْلِ السَّلَامِ فنُسَلِّمُ عَلٰی مَنْ لَقِيْنَاهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 850 ، باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان