Main Icon

باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 849

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی يُوْسُفَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: يَا اَيُّهَاالنّاسُ اَفْشُواالسَّلَامَ وَاَطْعِمُواالطَّعَامَ وَصِلُوالْاَرْحَامَ وَصَلُّوْاوَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ .

عن ابی يوسف عبد الله بن سلام رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يا ايهاالناس افشواالسلام واطعمواالطعام وصلوالارحام وصلواوالناس نيام تدخلوا الجنة بسلام .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابویوسفعبداللّٰہبن سلامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نے رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے ہوئے سنا:”اے لوگو!سلام کوعام کرو،کھاناکھلاؤ،صِلہ رحمی کرواورجب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو،تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ “

شرح حدیث

اس حدیث میں چار باتوں کی بجا آوری پر جنت میں سلامتی کے ساتھ داخلے کی خوشخبری دی گئی ہے: (1)سلام عام کرنا (2) لوگوں کو کھانا کھلانا (3)صِلہ رحمی کرنا (4)شب بیداری کرنا۔ پہلی تین چیزوں کاتعلق معاشرتی زندگی سے جبکہ چوتھی کا تعلق ذاتی زندگی سے ہے۔سلام عام کرنے کے بارےمیں گفتگو سابقہ حدیثوں میں بیان ہوچکی ہے بقیہ تین امور سے متعلق گفتگو ملاحظہ فرمائیے :لوگوں کوکھانا کھلانا:حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”رحمتِ الٰہی کو واجب کرنے والی چیزوں میں سے غریب مسلمان کو کھانا کھلانا بھی ہے۔“حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ جواپنے مسلمان بھائی کوپیٹ بھر کرروٹی کھلائے اور پانی پلا کر اس کی پیاس بجھائےتواللّٰہتعالیٰ اُسے دوزخ سے ایسی سات خندقوں کے برابر دور کردیتاہے جن میں سے ہردو کا درمیانی فاصلہ پانچ سو(500) سال ہے۔حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ”جو اپنے مسلمان بھائی کواس کی چاہت کی چیز کھلائے،اللّٰہتعالیٰ اسے دوزخ پر حرام فرمادیتا ہے۔صلہ رحمی:اُمّ المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے:”صلہ رحمی،حُسنِ اَخلاق اورہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک اختیار کرنا شہروں کو آبادکرتا اورعمروں کو بڑھاتاہے ۔فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:”کوئی گھر والے ایسے نہیں کہ آپس میں صلہ رحمی کریں اور پھر محتاج ہوجائیں۔لوگوں کے آرام کے وقت نماز پڑھنا:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”بے شک جنت میں کچھ ایسے شاندار محلّات ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے وہ محلا ت ان کیلئےتیار فرمائے ہیں جومحتاجوں کو کھانا کھلاتے،سلام عام کرتے اور رات کولوگوں کے آرام کے وقت نماز پڑھتے ہیں۔“ امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیرِِخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مَروی ہے کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بے شک جنت میں ایک درخت ہے جس کی شاخوں سے کپڑوں کے نئے جوڑے نکلتے ہیں،اس کی جڑوں سے زین پہنے ہوئے سونے کے ایسے گھوڑے نکلتے ہیں جن کی لگامیں موتی اوریاقوت کی ہوتی ہیں، وہ پیشاب وپاخانہ نہیں کرتے ،ان کے پَر ہیں،وہ حدِ نگا ہ پر قدم رکھتے ہیں اور اہلِ جنت جہاں چاہیں گے وہ ان کو لے کر اڑیں گے،نچلے درجے والے عرض کریں گے : اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ان لوگوں کو یہ بلند درجہ کیسے ملا ؟ ارشاد ہوگا : یہ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے جبکہ تم سو جایا کرتے تھے، یہ روزہ رکھتے تھے جبکہ تم کھایا کرتے تھے،یہ راہِ خدا میں خرچ کرتے تھے جبکہ تم خرچ نہ کرتے تھے اوریہ راہِ خدا میں جہاد کرتے تھے جبکہ تم راہِ فرار اختیار کرتے تھے ۔“مدنی گلدستہ”آبِ کوثر“کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوناچاہے اسے چاہیے کہ سلام عام کرے،لوگوں کو کھانا کھلائے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اوررات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نمازِ تہجدادا کرے ۔
(2) غریبوں کو کھانا کھلانے سے رحمت ِالٰہی کا نزول ہوتاہے ۔
(3) جو اپنے مسلمان بھائی کو اس کی پسندیدہ چیز کھلائے جہنم کی آگ اس پر حرام ہوجاتی ہے۔
(4) اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے کبھی محتاجی کا شکار نہیں ہوتے ۔
(5) رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک،حُسنِ اَخلاق اورہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا شہروں کی آباد کاری اورعمروں میں اضافے کا باعث ہے ۔
(6) جنت کے بلند وبالا محلات جن میں سے آرپار نظرآتاہے ان خوش نصیبوں کے لئے ہیں جو لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں ،سلام عام کرتے ہیں او ر نمازِ تہجد ادا کرتے ہیں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سلام کو عام کرنے، غریبوں کو کھانا کھلانے،صلہ رحمی کرنے اور نماز تہجد ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 849