Main Icon

باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 848

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:لَا تَدْخُلُواالْجَنَّةَ حَتّٰى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتّٰى تَحَابُّوا اَ وَلَا اَدُلُّكُمْ عَلٰى شَيْءٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْهُ تَحَابَبْتُمْ ؟اَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ.

عن ابی هريرةرضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا تدخلواالجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوا ا ولا ادلكم على شيء اذا فعلتموه تحاببتم ؟افشوا السلام بينكم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤاور تم مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔کیامیں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جس پر عمل کرو توآپس میں محبت کرنے لگو ؟اپنے درمیان سلام کو عام کرو۔“

شرح حدیث

ایمان ، جنت اور باہمی محبت :حدیثِ مذکور میں جنت میں داخلے کے لئے ایمان کواو رایمان کے لئے مسلمانوں سے باہمی محبت کو شرط قرار دیا گیا اور باہمی محبت بڑھانے کا نسخہ سلام کو عام کرنا بتایا گیا ۔ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ جنت میں داخلے کے لئے ایمان شرط ہے بغیر ایمان کے جنت نہیں مل سکتی کیونکہ کفار پر جنت حرام ہے۔ حدیث میں ایمان سے مراد ایمانِ کامل ہے یعنی مسلمانوں سے محبت کئے بغیر نہ ہی ایمان کامل ہوتا ہے اور نہ ایمانی حالت درست ہوسکتی ہے۔مسلمانوں کی باہمی محبت سے معاشرے میں بھائی چارے کی فضا قائم ہوتی ہےاوربڑے بڑے گناہوں کا خاتمہ ہوتاہے کیونکہ آپس میں محبت سے رہنے والے ایک دوسرے کی غیبت، چغلی، بہتان تراشی ،تہمت، گالی گلوچ ، بغض وکینہ،حسد اوران جیسے دیگر گناہوں سےمحفوظ رہتے ہیں۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےایک اچھےمومن کی صفات بیان کرتے ہوئےارشاد فرمایا :’’مومن محبت کرتا ہےاور اس سے محبت کی جاتی ہے اور جو نہ خودمحبت کرے اور نہ اس سے محبت کی جائے اس میں کوئی بھلائی نہیں۔‘‘ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ بندے ہیں جو دوسروں سے محبت کرتے ہیں اوران سے محبت کی جاتی ہے اور سب سے ناپسندیدہ چغلخور اور لوگوں کے درمیان جُدائی ڈالنے والے ہیں ۔‘‘سلام کو عام کرنا:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکور میں سلام کو عام کرنے کی بہت زیادہ ترغیب ہے۔ہر واقف وانجان مسلمان کوسلام کرنا چاہیے، کیونکہ کسی کے دل میں محبت داخل کرنے کاپہلاسبب سلام ہے۔سلام حصولِ محبت کی چابی ہے۔ سلام مسلمانوں کا وہ بہترین وصف ہے جو انہیں دیگر قوموں سےممتاز کرتاہے۔سلام میں ریاضت ِ نفس، عاجزی اورمسلما نوں کی تعظیم ہے۔حضرتِ سَیِّدُناعماربن یاسر نے بن یاسررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے منقول ہے کہ جس میں تین باتیں جمع ہوجائیں وہ ایمان کو جمع کرلیتا ہے:(1) اپنے نفس کے ساتھ انصاف کرنا(2)سلام کو عام کرنااور (3)تنگی میں خرچ کرنا۔سلام کی وجہ سے قطع تعلقی اورکینہ وفسادسے حفاطت رہتی ہے۔ یاد رہے کہ سلام کی فضیلت اسی وقت حاصل ہوگی جب اس سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رضا مقصودہو کوئی نفسانی خواہش پیشِ نظر نہ ہو۔ سلام کے لئے اپنے دوست و احباب ہی کو خاص نہ کیا جائے بلکہ بِلا امتیاز ہر اجنبی اور واقف کار مسلمان کو سلام کیا جائے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’ سلام ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ایمان کے بغیر کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جنت صرف مومنوں ہی کے لئے ہے۔
(2) ایمان کامل اسی وقت ہوتاہے جب اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت ہو ۔
(3) مسلمانوں میں باہمی محبت پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ سلام کو عام کرنا ہے ۔
(4) سلام مسلمانوں کا وہ بہترین وصف ہے جوانہیں دیگر قوموں سےممتاز کر دیتاہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 848