Main Icon

باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 846

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيُ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:لَمَّاخَلَقَ اللهُ اٰدَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلٰی اُولٰئِكَ نَفَرٍ مِّنَ الْمَلَائِكةِ جُلُوْسٍ فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّوْنَكَ فَاِنَّهَا تَحَيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِك فَقَالَ:السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوْا:السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمةُ اللهِ فَزادُوْهُ وَرَحْمةُ اللهِ.

عن ابی هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لماخلق الله ادم صلى الله عليه وسلم قال:اذهب فسلم علی اولئك نفر من الملائكة جلوس فاستمع ما يحيونك فانها تحيتك وتحية ذريتك فقال:السلام عليكم فقالوا:السلام عليك ورحمة الله فزادوه ورحمة الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آدمعَلَیْہِ السَّلَامکو پیدافرمایا توانہیں حکم دیاکہ جاؤ اور فرشتوں کی بیٹھی ہوئی اس جماعت کوسلام کرو،اور ان کا جواب غور سے سنو کیونکہ وہی تمہارا اورتمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔چنانچہ حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامنے فرشتوں سےکہا:اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْانہوں نے جواب دیا:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہاورانہوں نےوَرَحْمَۃُ اللّٰہ“ کا اضافہ کیا۔“

شرح حدیث

سلام کو خاص کرنے کی وجہ:مرقاۃ المفاتیح میں ہے:یہاں فرشتوں سے مرادیا تو مقرب فرشتے ہیں یا نیکیوں پر مامور دائیں جانب والے فرشتے۔علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اپنی عظیم نعمتوں کا شکرادا کرنے کی توفیق دی اوراپنی قدرتِ کاملہ دکھا دی توانہیں مخلوق کے ساتھ حُسنِ معاشرت سکھائی تاکہ خالق کی تعظیم بجا لانے کے بعد مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور دیگر افعال میں سے سلام ہی کو اس لئے خاص کیاگیا کہ یہ باہمی محبت اور دل جیتنے کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ محبت ایمان کی تکمیل کی طرف لے جاتی ہے۔حضرت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرشتوں کوجو سلام کیا وہ پہلا سلام تھا اسی وقت سے سلام کی ابتداہوئی ۔حدیثِ مذکور سے معلوم ہوا کہ فرشتےمَلَاءِ اَعْلٰیمیں عربی زبان بولتے ہیں اور وہاں ایک دوسرے کو سلام بھی کرتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہواکہ حصولِ علم کے لئے اہلِ علم کے پاس خود چل کر جانا چاہیے۔سلام کا اعلیٰ جواب دینا سنتِ ملائکہ ہے:حدیثِ مذکورمیں حضرت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَامکو فرشتوں کے پا س جانے اور ان سے سلام کا جواب معلوم کرنے کا حکم دیا گیا ،تو اس سےیہ لازم نہیں آتا کہ حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامکو سلام کے جواب کا علم نہ تھا بلکہ اسے سنتِ ملائکہ قرار دینے کے لیے ہےتاکہ اولاد ِآدم کو یہ معلوم ہوجائے کہ سلام کرنا سنتِ آدمعَلَیْہِ السَّلَامہے اور اعلیٰ جواب دینا سنت ملائکہ۔ربّ تعالیٰ انہیں تمام چیزوں کا علم پہلے ہی دے چکا تھا۔ حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامکو سلام کے الفاظ سے سلام کرنے کا طریقہ پہلے ہی سے معلوم تھا۔ اس لیے رب تعالیٰ نے آپ کو سلام کے الفاظ نہ بتائے سب کچھ پہلے ہی بتادیا گیا تھا ۔سلام کے جواب میںاَلسَّلامُ عَلَیْکُمکہنا بھی جائز ہے اگرچہوَعَلَیْکُمُ السَّلَامکہنا افضل ہے،دوسرا یہ کہ جواب میں کچھ زیادہ الفاظ کہنا بہتر ہے۔مدنی گلدستہ’’ عرشِ اَعظم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) سلام کی ابتدا اس وقت ہوئی جب حضرت سَیِّدُنا آدم
عَلَیْہِ السَّلَامنے حکمِ الٰہی سے فرشتوں کو سلام کیا ۔
(2) سلام باہمی محبت اور دل جیتنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
(3) حصولِ علم کے لئے اہل علم کے پاس خود چل کر جانا چاہیے۔
(4) جو کسی کے پاس جائے تو سلام میں پہل اسے ہی کرنی چاہئے۔
(5) زیادہ علم والے کا کم علم والے سے کوئی علمی بات سیکھنا باعثِ عار نہیں ۔
(6) سلام کا جواب
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکے ساتھ دینا بھی جائز ہے مگروَعَلَیْکُمُ السَّلَامکے ساتھ دینا بہترہے ۔
(7) سلام کاجواب زیادہ الفاظ سے دینا بہترہے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سلام کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 846