حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی عُمَارَةَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَاقَالَ:اَمَرَنَارَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِسَبْعٍ: بِعِيَادَةِ الْمَرِ يْضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتشْمِيْتِ الْعَاطِسِ وَنَصْرِ الضَّعِيْفِ وَعَوْنِ الْمَظْلُوْمِ وَ اِفْشَآءِ السَّلَامِ وَاِبْرارِ الْمُقْسِم.
عن ابی عمارةالبراء بن عازب رضي الله عنهماقال:امرنارسول الله صلى الله عليه وسلم بسبع: بعيادة المر يض واتباع الجنائز وتشميت العاطس ونصر الضعيف وعون المظلوم و افشاء السلام وابرار المقسم.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابوعُمارہ بَراء بن عازِبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا :(1)مریض کی عیادت کرنے (2)جنازوں کے ساتھ جانے (3)چھینکنے والے کو جواب د ینے(4)کمزورکی مدد کرنے(5)مظلوم کی فریاد رَسی کرنے (6) سلام کو عام کرنے اور (7)قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنے کا۔
شرح حدیث
حدیثِ مذکور میں سات امور کا حکم دیا گیاہے۔ یہ حکم عام ہے، اس میں واقف کارو اجنبی، رشتہ دار و غیر سب ہی شامل ہیں کہ سب ہی مذکورہ سلوک کے حق دار ہیں ۔ان امور کی بجا آوری میں مسلمانوں کی خیر خواہی،دنیا وآخرت کی بھلائی اور عظیم ثواب کی بشارت ہے ۔ان سے متعلق چند مدنی پھول ملاحظہ فرمائیے:(1)مریض کی عیادت:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’جب کسی بیمار شخص کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی موجود ہو تواس کی عیادت کرنا سنتِ مبارکہ ہےاور اگر دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو توعیادت کرنا واجب ہے۔ ‘‘مریض کی عیادت میں بہت زیادہ اجر وثواب ہے۔فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:”جس نے اچھے طریقے سے وضو کیا اور ثواب کی امید پر اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کی اسے جہنم سے ستر سال کے فاصلے تک دور کردیا جاتا ہے ۔“ایک روایت میں ہے:” جو صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کے لئے جائے توشام تک اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اس کے لئے جنت میں ایک باغ ہے۔(2)جنازوں کے ساتھ جانا :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:جمہورعلماء کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکے نزدیک نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے۔جنازے کے ساتھ جانے کا مطلب جنازے کو اُٹھانااورایک دوسرے سے کندھے بدلنا۔ یہ جنازے میں حاضر رشتہ داروں اور پڑوسیوں پر لازم ہے۔جنازے کے ساتھ جانے کی تین صورتیں ہیں:(1)صرف نمازِ جنازہ پڑھ کر واپس آجانا، اس میں ایک قیراط اجر ہے۔(2) جنازے کے ساتھ جانا اور تدفین تک اس کے ساتھ رہنا،اس کا اجر دو قیراط ہےاور (3)میت کو تلقین کرنے جانا ۔‘‘(3)چھینک کا جواب دینا:چھینک کے جواب سے متعلق چند سنتیں اورآداب ملا حظہ فرمائیے:*∞چھینک آئےتوچھینکنے والےکواَلْحَمْدُلِلّٰہکہنا سنت ہے۔بہتر یہ ہے کہاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنکہے۔سننے والے پر واجب ہے کہ فوراً ”یَرْ حَمُکَ اللّٰہ“کہے اور اتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والاخود سن لے۔ اگر جواب میں تا خیر کردی تو گنہگار ہوگا۔صرف جواب دینے سے گناہ معا ف نہیں ہوگا بلکہ توبہ بھی کرنا ہوگی۔جوا ب اسی صورت میں واجب ہوگا جب چھینکنے والااَلْحَمْدُلِلّٰہکہے، اگر وہ حمد نہ کرے تو جواب بھی واجب نہیں۔*∞حضرت سَیِّدُنَا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اوروہاَلْحَمْدُلِلّٰہکہے تو تم اس کے لئےیَرْحَمُکَ اللّٰہکہواوراگر وہاَلْحَمْدُ لِلّٰہنہ کہے تو تم بھییَرْحَمُکَ اللّٰہنہ کہو۔*∞چھینک کا جواب ایک مرتبہ واجب ہے،دوبارہ چھینک آئی اور اس نےاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہا تو دو بارہ جواب واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔“(4)کمزور کی مدد کرنا:مسلمان بھائی کی مدد کرنے کی فضیلت سے متعلق تین فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:∞ (1)”جو کسی مسلمان کی دُنیوی مصیبت دور کرےاللّٰہتعالیٰ بروزِقیامت اس کی مصیبت دور فرمائے گااور جو کسی مسلمان کے عیب چھپائےاللّٰہتعالیٰ دنیا وآخر ت میں اس کے عیب چھپائے گا اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس وقت تک بندے کی مدد فرماتارہتاہے جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتارہے۔“(2)”جس نے کسی ضرورت مند مسلمان کی مدد کیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے اس دن ثابت قدمی عطا فرمائے گا جس دن لوگوں کے قدم پھسل رہے ہوں گے۔“(3)”جواپنےمسلمان بھا ئی کی حاجت پوری ہونےتک اس کی مدد کرتا رہےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّپچھتر ہزار(75000)فرشتوں کےذریعےاس پرسایَۂ رحمت فرماتاہے۔اگرصبح کو مدد کرے تو شام تک او ر شام کو کرے تو صبح تک وہ فرشتے اس کے لئے دعا واستغفار کرتےہیں اوراس کے ہر قدم پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کا ایک گناہ معاف فرما تا اور ایک درجہ بلند فرماتاہے۔“(5)مظلوم کی فریاد رَسی:شارِحِ بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:مسلمان کی مدد ،مدد کرنے والے کے حال کے اعتبار سے کبھی فرض ہوتی ہے کبھی واجِب کبھی مُستَحَب۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”جو شخص مظلوم کی مدد کرسکتا ہے اور اس کی بات سنی جاتی ہے ایسے شخص پر مظلوم کی مدد کرنا فرض ہے۔“حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عبرت نشان ہے:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے: مجھے میری عزّت وجلال کی قسم! میں ظالم سے بدلہ ضَرور لوں گا چاہے جلدی لوں یا دیر سےاور اُس سے بھی بدلہ لوں گا جوباوُجُودِقدرت مظلوم کی مدد نہ کرے۔“
حکایت:حضرتِ سیِّدُناعَمْرو بن شُرَحْبِیلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَکِیْلفرماتے ہیں: ایک شخص کا انتقال ہو گیا جب اسے قبر میں اتارا گیا تو فرشتے اس کے پاس آئے اور کہا: ہم تجھےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے عذاب سے سو کوڑے ماریں گے۔اس شخص نے اپنے نماز روزے اور جہاد وغیرہ کا ذکر کیا یہاں تک کہ فرشتے کمی کرتے کرتے دس کوڑوں تک پہنچ گئے۔وہ شخص پھر منت سماجت کرنے لگا یہاں تک کہ صرف ایک کوڑا سزا باقی رہ گئی۔فرشتوں نے کہا: ہم تجھے ایک کوڑا تو ضرور ماریں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایک کوڑا مارا جس سے پوری قبر میں آگ شعلہ زن ہو گئی اور وہ شخص بے ہوش ہو گیا جب ہوش آیا تو کہنے لگا: تم نے مجھے یہ کوڑا کس وجہ سے مارا؟ فرشتوں نے کہا: ایک دن تو سو کر اٹھا اور وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی اور تو نے ایک مظلوم کی فریاد بھی سنی جو مدد کے لیے پکار رہا تھا لیکن تو نے اس کی مدد نہیں کی۔(6)سلام کو عام کرنا:سلام کو عام کرنے سے مراد اس کی اشاعت و کثرت اور ہر مسلمان کو سلام کرنا ہے ۔حدیث پاک میں ہے کہ’’جس کو پہچانتے ہو اور نہیں پہچانتے سب کو سلام کرو۔‘‘سلام کا جواب فوراً دینا واجب ہے، بلاعذرتاخیر کی تو گنہگار ہوا اور یہ گناہ جواب دینے سے دفع نہ ہوگا، بلکہ توبہ کرنی ہوگی۔جن لوگوں کو اس نے سلام کیا ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا، بلکہ کسی اور نے جو اس مجلس سے خارج تھا جواب دیا تو یہ جواب اہلِ مجلس کی طرف سے نہیں ہوا یعنی وہ لوگ بری الذمہ نہ ہوئے۔ایک شخص مجلس میں آیا اور اس نے سلام کیا اہلِ مجلس پر جواب دینا واجب ہے اور دوبارہ پھر سلام کیا توجواب دینا واجب نہیں۔ مجلس میں آکر کسی نےاَلسَّلَامُ عَلَیْکَکہا یعنی صیغہ واحد بولا اور کسی ایک شخص نے جواب دے دیا تو جواب ہوگیا خاص اس کو جواب دینا واجب نہیں جس کی طرف اس نے اشارہ کیا ہے۔ ہاں اگر اس نے کسی شخص کا نام لے کر سلام کیا کہ فلاں صاحباَلسَّلَامُ عَلَیْکَتو خاص اس شخص کو جواب دینا ہوگا، دوسرے کا جواب اس کے جواب کے قائم مقام نہیں ہوگا۔(7)قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنا:علّامہ مُلّا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں: ’’اگر کوئی شخص مستقبل کے متعلق کسی ایسے کام کی قسم کھائے جو گناہ نہ ہو اور تم اس کی قسم پوری کرسکتے ہو تو ضرور کروتاکہ اس کی قسم پوری ہوجائے اور قسم ٹوٹنے کی وجہ سے اس پر کفارہ واجب نہ ہو۔مثلاً کوئی کہے: خداکی قسم! جب تک تم فلاں کام نہ کرو گےمیں تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔یا خدا کی قسم!تم یہ کام ضرور کرو گے۔“مدنی گلدستہ’’ جَنَّتِ عَدْن ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جو روزِ قیامت ثابت قدمی ، پردہ پوشی،نصرتِ خداوندی اور مصیبتوں سے حفاظت کا خواہشمند ہو اسے چاہیے کہ کمزور مسلمانوں کی مدد اورپردہ پوشی کرے ۔
(2) اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو مسلمان بھائیوں کے جنازوں میں ضرور شرکت کرنی چاہیے کہ حق مسلم ہے اور اس کی ادائیگی پر عظیم ثواب کی بشارت ہے ۔
(3) جوکسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے اس کےلئے فرشتے استغفار کرتے ہیں ۔
(4) قدرت کے باوجود کسی مظلوم کی مدد نہ کرنا عذابِ الٰہی کا باعث ہے۔
(5) جس شخص کوسلام کیاجائےاس پر سلام کا جواب دیناواجب ہےاور اگر کسی جماعت کو سلام کیا جائے تو ان میں سے کسی ایک کا جواب دینا سب کی طرف سے کافی ہے۔
(6) ہمارے کسی عمل سےمسلمان بھائی کاکام بنتا ہو تو شرعی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے وہ کام کرلینا چاہئے کہ مسلمان بھائی کی خیر خواہی باعث اجر ہے ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مذکورہ حدیث میں موجود سات اُمور کو بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 847