Main Icon

علماء کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 348

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرِو الْبَدَرِیِّ الْاَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ فَاِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَاَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَاِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَاَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَاَقْدَمُهُمْ سِنًّا وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ اِلَّا بِاِذْنِهِ. وَفِی رِوَایَۃٍ لَہُ : ” فَاَقْدَمُہُمْ سِلْمًا“ بَدَلَ ” سِنًّا“ اَیْ اِسْلَامًا. وَفِی رِوَایَۃٍ : يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ وَاَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً فَاِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَاِنْ كَانُوْا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا. ( )

عن ابي مسعود عقبۃ بن عمرو البدری الانصاری رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يؤم القوم اقرؤهم لكتاب الله فان كانوا في القراءة سواء فاعلمهم بالسنة فان كانوا في السنة سواء فاقدمهم هجرة فإن كانوا في الهجرة سواء فاقدمهم سنا ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه ولا يقعد في بيته على تكرمته الا باذنه. وفی روایۃ لہ : ” فاقدمہم سلما“ بدل ” سنا“ ای اسلاما. وفی روایۃ : يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله واقدمهم قراءة فان كانت قراءتهم سواء فليؤمهم أقدمهم هجرة فان كانوا في الهجرة سواء فليؤمهم أكبرهم سنا. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو مسعود عقبہ بن عَمرو بدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور تاجدار رسالت ، شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” قوم کی اِمامت وہ شخص کرے جو اُن میں زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو ، اگر سب قرآن پڑھنے میں برابر ہوں تو پھر سنت کو زیادہ جاننے والا ، اگر سنت کو جاننے میں بھی سب برابر ہوں تو جو ہجرت میں سب سے مقدم ہو وہ اِمامت کرائے ، اگر ہجرت میں بھی سب یکساں ہوں تو جو عمر میں بڑا ہووہ امامت کرائے ، اور کوئی شخص ( بغیر اجازت ) کسی کی جگہ امامت نہ کرے اور نہ ہی کسی کے گھر میں اس کے بغیر اجازت اعلیٰ مقام پر بیٹھے ۔ “ ایک روایت میں : ” جو عمر میں بڑا ہو“ کے بجائے یہ فرمایا : ” جو پہلے اسلام لایا ہو ۔ “ ایک روایت میں ہے کہ’’ لوگوں کی امامت وہ کرے جو ان میں زیادہ
کتابُ اللہپڑھنے والا ہو اور زیادہ قراءت جانتا ہو ، پھر اگر قراءت میں سب یکساں ہوں تو وہ امامت کرے جو ہجرت کرنے میں مقدم ہو ، اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو پھروہ امامت کرے جو عمر میں بڑا ہو ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :اِس حدیث پاک میں امامت کے مراتب کا بیان ہے کہ کون زیادہ امامت کا مستحق ہے ، نیز اس میں علماء کی فضیلت کا بھی بیان ہے کہ لوگوں میں جو شخص زیادہ قرآن وحدیث کو جاننے والا ہو اسے امامت کے لیے دوسروں پر مقدم کیا جائے ۔ یہ باب بھی علماء کی تعظیم کے اور اُن کے مَراتِب کے بارے میں ہے اسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اِس باب میں بیان فرمائی ۔
¥
عالم اِمامت کا زیادہ حق دار ہے :مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’عہدِ نبوی میں قریبًا سارے صحابہ نماز کے مسائل کے عالم تھے مگر قاری کوئی کوئی تھا ، اس لیے حضورِ اَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ ارشاد فرمایا کہ امامت کے لیے مقدم وہ ہے جو عالِم ہونے کے ساتھ قاری بھی ہو ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ قاری غیر عالِم ، عالِم غیر قاری سے مُقَدَّم ہوگا ۔ دیکھو حضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مرضِ وفات شریف میں صدیقِ اکبر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کو امام بنایا حالانکہ اُبَی ابن کعب صحابہ میں بڑے قاری تھے ، بلکہ فرمایا : جہاں ابوبکر موجود ہوں وہاں کسی کو امامت کا حق نہیں ۔ حضورِ اَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وہ عمل اِس حدیث کی تفسیر ہے اِسی لیے امامِ اعظم و امامِ شافعی وغیرہم (رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی) امامت میں عالِم کو قاری پر مُقَدَّم رکھتے ہیں کیونکہ علم کی ضرورت نماز کے ہر رکن میں ہے ، قرأت کی ضرورت صرف ایک رکن ( قیام ) میں ۔ امام ابو یوسف اور بعض دیگر علماء (رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی) نے ظاہر حدیث کو دیکھ کر قاری کو عالِم پر مُقَدَّم رکھا مگر قولِ اوّل نہایت صحیح ہے ۔ اگر قراءت سب کی یکساں ہو تو صرف عالِم کو مقدم کرو ۔ خیال رہے کہ یہاں علم سنت سے مراد نماز کے اَحکام کا جاننا ہے نہ کہ سند یافتہ عالِم ہونا ۔ ‘‘ ( )

¥
سب سے زیادہ اِمامت کا مستحق شخص :دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پرمشتمل کتاب ’’بہارِ شریعت ‘‘ جلد اول صفحہ 567 پر ہے : ’’ سب سے زیادہ مستحق اِمامت وہ شخص ہے جو نماز و طہارت کے احکام کو سب سے زیادہ جانتا ہو ، اگرچہ باقی علوم میں پوری دستگاہ ( مہارت ) نہ رکھتا ہو ، بشرطیکہ اتنا قرآن یاد ہو کہ بطورِ مسنون پڑھے اور صحیح پڑھتا ہو یعنی حروف مخارج سے ادا کرتا ہو اور مذہب کی کچھ خرابی نہ رکھتا ہو اور فواحش ( بے حیائیوں ) سے بچتا ہو ، اس کے بعد وہ شخص جو تجوید ( قراء ت ) کا زیادہ علم رکھتا ہو اور اس کے موافق ادا کرتا ہو ۔ اگر کئی شخص ان باتوں میں برابر ہوں تو وہ کہ زیادہ وَرع رکھتا ہو یعنی حرام تو حرام شبہات سے بھی بچتا ہو ، اِس میں بھی برابر ہوں ، تو زيادہ عمر والا یعنی جس کو زيادہ زمانہ اسلام ميں گزرا ، اِس میں بھی برابر ہوں ، تو جس کے اَخلاق زیادہ اچھے ہوں ، اِس میں بھی برابر ہوں ، تو زیادہ وَجاہت والا یعنی تہجد گزار کہ تہجد کی کثرت سے آدمی کا چہرہ زیادہ خوبصورت ہو جاتا ہے ، پھر زیادہ خوبصورت ، پھر زیادہ حسب والا پھر وہ کہ باعتبارِ نسب کے زیادہ شریف ہو ، پھر زیادہ مالدار ، پھر زیادہ عزت والا ، پھر وہ جس کے کپڑے زیادہ ستھرے ہوں ، غرض چند شخص برابر کے ہوں ، تو اُن میں جو شرعی ترجیح رکھتا ہو زیادہ حق دار ہے اور اگر ترجیح نہ ہو تو قرعہ ڈالا جائے ، جس کے نام کا قرعہ نکلے وہ اِمامت کرے يا اُن میں سے جماعت جس کو منتخب کرے وہ امام ہو ۔ ‘‘
¥
بزرگوں کو مقدم رکھو :حدیث پاک میں اس چیز کا بیان ہے کہ اگر سب لوگ علم ، قراءت اور تقویٰ و پرہیزگاری میں برابر ہوں تو پھر اس شخص کو مقدم کیا جائے جو اُن میں عمر میں بڑا ہو ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی جسے اسلام میں زیادہ عمر بیت گئی ہو اسے مُقَدَّم کیا جائے جیسا کہ دوسری روایت اسی بات پر دلالت کررہی ہے کہ اس میں فرمایا کہ ” پھر اسے امام بنایا جائے جسے اسلام لائے ہوئے زیادہ زمانہ گزر گیا ہو ۔ “لہٰذا وہ جَوان جو پہلے اسلام لایا ہو اُس بوڑھے پر مُقَدَّم ہے جو بعد میں اسلام لایا ہواور یہ فضیلت اسلام میں سبقت کرنے کی وجہ سے ہے ۔ ‘‘ ( )

¥
امامت کے مراتب کی نفیس وجہ :بعض علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ ’’فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے اس ترتیب کا بہت خیال رکھا ہے کیونکہ یہ ( امامت ) نبی کی خلافت ہے ، اور نبی دنیا وآخرت میں امام ہوتا ہے ۔ لہٰذا امامت اس منزلت کے قریب قریب ہے اور رُتبے کے لحاظ سے اس کے مشابہ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
مقررہ امام سب سے زیادہ حق دارہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث مبارکہ اور اس کی شرح میں جو امامت کی ترتیب بیان فرمائی گئی ہے اس کا لحاظ رکھنا اس وقت ضروری ہے کہ جب کسی جگہ کوئی امام مقرر نہ ہو اور کچھ لوگ جمع ہوجائیں تو اب اِس ترتیب کا لحاظ رکھتے ہوئے جو شخص امامت کا اہل ہو اسے امام بنایا جائے لیکن جہاں پہلے سے کوئی امام مقرر ہو وہاں وہی امامت کا حقدار ہے ۔ کسی اور شخص کو وہاں اِمامت کا حق نہیں چاہے وہ علم اور مرتبے میں بڑا ہی کیوں نہ ہو بشرطیکہ مقررہ امام میں اِمامت کی تمام شرائط پائی جائیں ۔ چنانچہ دلیل الفالحین میں ہے : ’’اس ترتیب کا لحاظ اس وقت ضروری ہے جب کوئی مقررہ امام نہ ہو اگر وہاں کوئی امام مقرر ہو تو وہی امامت کا حقدار ہے چاہے کوئی اور اُس سے بڑھ کر عالِم یا قاری ہو ۔ ‘‘ ( ) بہارِ شریعت میں ہے : ’’امام معین ہی اِمامت کا حق دار ہے ، اگرچہ حاضرین میں کوئی اِس سے زیادہ علم اور زیادہ تجوید والا ہو ۔ یعنی جب کہ وہ امام جامِع شرائط امام ہو ، ورنہ وہ اِمامت کا اہل ہی نہیں ، بہتر ہونا درکنار ۔ ‘‘ ( )
¥
مقررہ اِمام کی اجازت سے دوسرا اِمام :حدیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ کوئی شخص کسی کی جگہ اس کی اجازت کے بغیر امامت کرے نہ ہی اس کی خاص مسند پر بیٹھے ہاں اگر مقرر امام خود کسی کو اجازت دے تو وہ نماز پڑھا سکتا ہے ۔ چنانچہ مرآۃ

المناجیح میں ہے : ’’جہاں امام مسجد مقرر ہو وہاں وہی نماز پڑھائے گا اگرچہ اس سے بڑا عالِم یا قارِی موجود ہو ، معلوم ہوا کہ گزشتہ ترتیب وہاں کے لیے تھی جہاں امام پہلے سے مقرر نہ ہو ، ہاں مقررہ امام کی اجازت سے دوسرا نماز پڑھا سکتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
نماز اور اِمامت کے مسائل کی اہمیت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک اور اس کی شرح میں جس باریک بینی سے امامت کے مراتب کا بیان ہوا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امامت کا منصب کتنا اہم ہے ۔ مگر افسوس ! آج ہماری اکثریت امامت کے مسائل سے واقفیت اور اس کی اہلیت تو کُجا فقط نماز کے ضروری مسائل سے بھی ناواقف نظر آتی ہے ، دُنیوی علوم سیکھنے کے لیے تو ہم دن رات ایک کردیتے ہیں لیکن دِینی علوم سیکھنے میں ہماری کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آتی ، دُنیوی امتحانات کی تیاری میں تو پوری پوری رات صرف کردیتے ہیں حالانکہ اُس میں کامیابی فقط دُنیوی اور وقتی فائدہ ہے ، لیکن اُخروی امتحان کی تیاری کی ہمیں کوئی فکر نہیں ہے جس میں کامیابی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مفید ہے ۔ پنچ وقتہ نماز ہم پر فرض ہے ، اس کے ضروری مسائل سیکھنا ہم پر فرض ہے ، کل بروزِ قیامت نماز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا ۔ کاش ! دُنیوی ضروری علوم کے ساتھ ساتھ ہم دینی فرض علوم کو سیکھنے کا بھی مدنی ذہن بنائیں ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّتبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں فرض علوم ، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کے احکام اور ضروری مسائل سیکھنے کا موقع ملتا ہے ، دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول نہ صرف نماز کے مسائل سکھانے میں معاون ومددگار ہے بلکہ امامت کے مسائل سے بھی آگاہی میں مدد دیتا ہے ۔ دعوت اسلامی کے تحت اِمامت کورس کروایا جاتا ہے جس میں نماز کے تمام ضروری مسائل ، اِمامت کے مسائل سکھائے جاتے ہیں ، آپ بھی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ، معاشرے کے کئی ایسے بگڑے ہوئے اَفراد جو کل تک گناہوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے تھے ، شراب وکباب کے عادی تھے ، فرض علوم ، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج

وغیرہ کے ضروری مسائل تک نہ جانتے تھے ، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول نے انہیں اپنے مدنی رنگ میں رنگ دیااوراِمامت کے مصلے پر کھڑا کردیا ۔ ترغیب کے لیے ایک مدنی بہار پیش خدمت ہے :
¥
قاتل اِمامت کے مصلے پر :دادو ( بابُ الاسلام سندھ ، پاکستان ) میں دعوتِ اسلامی کی مجلس فیضانِ قرآن ( جیل خانہ جات ) کے ذمہ دار کا بیان کچھ اس طرح ہے : ایک شخص قتل کے مقدمہ میں دادو کی جیل میں بطورِ قیدی لایا گیا ۔ خوش قسمتی سے وہاں اس کی ملاقات دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائیوں سے ہوئی جو جیل میں مدنی کام کرتے ، قیدیوں کو قرآن مجید پڑھاتے اور سنّتیں سکھاتے تھے ۔ چنانچہ ان اسلامی بھائیوں نے اس قیدی پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے اسے دعوتِ اسلامی کی مجلس فیضانِ قرآن کے تحت مدرسہ ( فیضانِ قرآن ) میں درست تلفظ کے ساتھ قرآنِ مجید پڑھنے اور سنّتیں سیکھنے کی دعوت دی ، چنانچہ اُس نے مدرسہ میں داخلہ لے لیا اور یوں نیک صحبت کی برکت سے اُن میں مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگیں ، قرآنِ پاک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پابندی سے نمازیں پڑھنے ،حقوقُ اللہادا کرنے اور عشق مصطفے ٰ کی نورانیت اپنے دل میں بسانے لگے ۔ کل تک جس کی آنکھوں میں دہشت و بربریت کی سرخی تھی آج اُس کی آنکھوں میں خوفِ خدا کے آنسو تھے ، جس کی گفتگومیں شرارت تھی اب اس کی زباں پر نیکی کی دعوت ہے ، جس کی گردن غرور و تکبر سے اکڑی رہتی تھی اب خداعَزَّ وَجَلَّکے روبرو عبادت میں جھکی رہتی ہے ۔ بالاخر انہوں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں گڑگڑا کر اپنے سابقہ تمام گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر سنّتوں کے سانچے میں ڈھل گئے ، نیز اِس عظیم مدنی مقصد ’’مجھے اپنی اور ساری دنیاکے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ‘‘ پر کاربند ہو گئے ۔ ربیع الغوث ١٤٢٧ ہجری بمطابق مئی 2006 عیسوی کو جب یہ اسلامی بھائی رِہا ہوکر باہر نکلنے لگے تو جیل کا عملہ اور قیدیوں کی ایک تعداد تھی جن کی آنکھیں اشکبار تھیں کہ واہ ! ایک مجرم ، گناہوں کے دلدادہ کو دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول نے عاشق رسول اور نیکوکار بنا دیا ، مسلمانوں پر ناجائز ظلم وستم کرنے والے کو اُن کا خیر خواہ بنا دیا ۔ آجاَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّتا دم تحریر وہ خوش نصیب اِسلامی

بھائی دادو کی ایک مسجد کے امام ہیں اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دھومیں مچا رہے ہیں ۔
سنور جائے گی آخرتاِنْ شَآءَ اللہ…………تم اپنائے رکھو سدا مدنی ماحولکسی کی مخصوص جگہ پر بیٹھنے کی ممانعت کی وجہ :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بھی بیان ہوا کہ کوئی کسی کے گھر میں اس کی مقررہ جگہ پر نہ بیٹھے ۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئےعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’کسی کی جگہ پر بیٹھنے سے منع فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ اِس میں کسی کے حق میں بلا اِجازت تصرف کرنا پایا جارہا ہے تو جب کسی کی جگہ پر بیٹھنے سے منع فرمایاکہ جس میں تساہل یعنی سُستی پائی جاتی ہے ( کہ بندہ عموماً ایسی جگہ پر بلا اجازت بیٹھ جاتا ہے ) اور اس میں تخفیف ہوتی ہے ( کہ جس کی جگہ ہے وہ عموماً بُرا محسوس نہیں کرتا ) تو پھر دوسرے حقوق میں ( جن کو بندہ عموماً تلف نہیں کرتا اور تلف کرنے کی صورت میں جس کا حق ہے وہ بُرا محسوس کرتا ہے ) یہ ممانعت اور بھی زیادہ ہوگی ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’احترام ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
امامت بہت ہی اہم منصب ہے اور ہر شخص اس کا اہل نہیں ہے ۔
(2) امام کے تقرر میں ان تمام شرائط اور مراتب کو ملحوظ رکھنا چاہیے جنہیں شریعت نے بیان فرمایا ہے ۔
(3) علمائے کرام سب سے افضل ہیں ، امامت کے لیے اُنہیں مُقَدَّم کرنا چاہیے ۔
(4) اگرکسی جگہ کچھ لوگ جمع ہوں اور علم میں سب برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو اُس کی بزرگی کا احترام کرتے ہوئے اُسے امامت کے لیے آگے کرنا چاہیے ۔
(5) مقررہ امام کی موجودگی میں کسی اور کو مقدم نہیں کیا جائے گا چاہے وہ علم اور عمر میں مقررہ امام سے بڑا

(6) ہی کیوں نہ ہو ، ہاں مقررہ امام خود جسے اجازت دے وہ نماز پڑھا سکتا ہے ۔
(7) کسی کے گھر میں اس کی مخصوص مسند پر اس کی اجازت کے بغیر نہیں بیٹھنا چاہیے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں علمائے اہلسنتکَثَّرَہُمُ اللہُ تَعَالٰیاور بزرگوں کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 348